Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان اور مسلمان – رمضان ڈایری حصہ۳ – میر سیما آمان

Posted on
شیئر کریں:

رمضان اور مسلمان – رمضان ڈایری حصہ۳ – میر سیما آمان

آج کے دور میں مذہب پر بات کرنا مذہب پر عمل کرنا اور اسکی تبلیغ کرنا دقیانوسی کہلاتا ہے ۔۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کو اپنی اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر ہم اپنے انداز میں جی رہے ہیں ۔۔ چند وہ الفاظ جو اٹھتے بیٹھتے سنائی تو دیتے ہیں لیکن عملاً دیکھائی نہیں دیتے میں یہاں مختصراً اسلام کی رو سے انکی تشریح کرنا چاہونگی۔۔۔۔۔
رحمدلی ۔۔
ر سول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آ سمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ایک اور جگہ فرمایا۔جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جا تا۔۔ اب زمین والے صرف ان دو احادیث کی روشنی میں اپنی گریبان پر جھانکیں اور ایمانداری سے بتائیں کہ کن کن مواقع پر خود سے منسلک کن کن لوگوں پر آپ لوگوں نے رحم کا سلسلہ رکھا ہے ۔۔۔۔

غریب پروری
علامہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں جب حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی محتاج کو ملاحظہ فرماتے تو اپنا کھانا پینا تک اٹھا کر عنایت فرما دیتے حالانکہ اس کی آپ کو بھی ضرورت ہوتی، آپ کی عطا مختلف قسم کی ہوتی جیسے کسی کو تحفہ دیتے، کسی کو کوئی حق عطا فرماتے، کسی سے قرض کا بوجھ اتار دیتے،کسی کو صدقہ عنایت فرماتے، کبھی کپڑا خریدتے اور اس کی قیمت ادا کر کے اس کپڑے والے کو وہی کپڑا بخش دیتے، کبھی قرض لیتے اور (اپنی طرف سے) اس کی مقدار سے زیادہ عطا فرما دیتے،کبھی کپڑ اخرید کر اس کی قیمت سے زیادہ رقم عنایت فرما دیتے اور کبھی ہدیہ قبول فرماتے اور اس سے کئی گُنا زیادہ انعام میں عطا فرما دیتے

اب اس حوالے سے اگر ہم اپنے اعمال دیکھ لیں تو ہم کیا کرتے ہیں ۔۔غریب رشتہ دار کی ہم عزت نہیں کرتے اسکے ساتھ روابط رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور جس غریب مسکین یا کسی محتاج کی ہم تھوڑی مدد کرتے ہیں اسکے پیچھے بھی ہمارا اپنا کوئی فایدہ چھپا ہوتا ہے اول تو اچھی چیز کسی کو دے نہیں سکتے اور اگر بچا کچھا کچھ دے بھی دیں تو بدلے میں کوئی کام اس سے نکال ہی لیتے ہیں یہ ہیں ہم اور ہماری غریب پروری۔۔۔

انصاف پسندی اور حق گوئی
حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ تم میں سے پہلے لوگ اسلیے ہلاک ہوگئے کہ اگر انمیں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے ۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے اگر فاطمعہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اسکے ہاتھ کاٹ دیتا ۔۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ مسلمان تب تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے ۔۔۔یہ اتنا بڑا پیغام ہے امت کے لیے کے صرف اسی بنیاد پر پورے معاشرے میں انصاف کا نظام قائم ہو سکتا ہے لیکن ہم ان پر عمل کر ہی نہیں سکتے ہماری سوچ ہماری پسند ہمارا معیار اپنے بھائی کے لئے اپنے برابر کا ہو ہی نہیں سکتا ہے ۔۔ معاشرے میں موجود انتشار کی بنیادی وجہ ہی ہماری دہرا میعار ذندگی ہے۔۔

یہی حالات حق گوئی کے ہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات میں اس قدر حق گو تھے کہ دشمن بھی انھیں صادق کے نام سے پکارتے تھے ۔۔لیکن حق گوئی کے ساتھ ساتھ وہ نرم مزاج اور شرین گفتار بھی تھے اجکل بہت سے لوگ اس شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ حق گو ہیں۔۔ حق گوئی وہ ہوتی ہے جہاں انسان مناسب الفاظ کے ساتھ کسی کو اسکی غلطی کا احساس دلائے اور دوسروں کی خامیوں پر ہی نظر نہ ہو بلکہ دوسروں کی اچھا ئیوں کو بھی تسلیم کرے ۔۔بد قسمتی سے موجودہ دور میں ہمارا واسطہ ایسے حق گو لوگوں سے پڑا ہے جو ہماری کسی ایک خوبی کو تسلیم کرنے سے تو ڈرتے ہیں لیکن اٹھتے بیٹھتے ہمیں ہماری کمزوریاں ۔ ہماری غلطیاں اور گناہ بتانا نہیں بھولتے ۔۔جس سے کوئی اپنی کمزوری تو کیا تسلیم کرے گا الٹا ہمارا ان لوگوں سے ہی دل اُچاٹ ہو جاتا ہے جنھوں نے خواہ مخواہ حق گوئی کا بیڑا اٹھا کر ہماری زندگیاں اجیرن کردی ہیں ۔۔دوسری بات یہ کہ جب آپ دوسروں کو انکے متعلق بتا سکتے ہیں تو اپنے بارے میں سننے کا بھی ظرف رکھیں ۔۔سچ تو یہ ہے کہ سب سے بڑی حق گوئی دوسروں کے متعلق سچ اگلنا نہیں بلکہ اپنے متعلق سچ سننا ہے ۔۔۔۔۔اس رمضان کچھ اور نہ سہی اپنے روزمرہ کے معمولات زندگی میں ہونے والی رحمدلی۔ غریب پروری عدل و انصاف حق گوئی سچ جھوٹ جیسی چھوٹی مگر معاشرے کو تشکیل دینے والی بنیادی اجزا پر غور ضرور کیجے ۔۔۔


شیئر کریں: