Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مختصرسی جھلک – نہ معلوم سسکیاں . فریدہ سلطانہ فَری

Posted on
شیئر کریں:

مختصرسی جھلک – نہ معلوم سسکیاں . فریدہ سلطانہ فَری

میں لیب ٹاپ پرکام کررہی تھی میرا فون خاموش موڈ پہ تھا کام سے فارغ ہوکردیکھا کہ کسی نہ معلوم نمبرسے کافی کالیں اچکی تھی میں کال کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دوبارہ کال آیی ، میں نے کال اٹھایا توروتی ہوئی اوازمیں بولی باجی خدا کے لئے مجھےاس نمبر پرکال کرومیں اپ کوکچھ بتانا چاہتی ہوں یہ کہہ کراس نے کال کاٹ دی۔
واپس اس نمبرپرمیں نے کال ملائی تواس نے اپنی روداد کچھ یوں سنائی کہ ‘:باجی میری شادی کوپانچ سال ہوچکےہیں میں جب چھٹی کلاس میں تھی تومیری والدہ کا انتقال ہوگیا اس کے کچھ مہینے بعد میری شادی کرادی گئی اب میری تین بیٹیاں ہیں ۔شادی کے کچھ مہینے تک تومیں خوش تھی مگراس کے چند مہینے بعد مجھ پرگھر کےسارے کاموں کی زمہ داری ڈالی گئی میری دونندیں تھی وہ کالج جاتی تھی بہت بڑا گھراس کی صفائی، گھر میں بہت سارے لوگ ان کے لیے کھا نا پکانا، کپڑے دھونااورگھر میں مہمانوں کا ہجوم، مال مویشیوں کی خبر گیری ۔ والدین کے گھرمیں کبھی میں نے گھر کے کا م کاج کو ہاتھ بھی نہیں لگایاتھا جس کی وجہ سے مجھے کام کرنے میں بڑا مسئلہ ہوا۔۔۔

اب بھی اسی طرح گھر کے کام کاج کرتی ہوں مگر کوئی مجھ سے خوش اور راضی نہیں۔ شوہر نشے کا عادی ہے کچھ بولنے پر مارتا پیٹتا ہے صبح کو نکل کر شام کو لوٹتا ہے میری ساس پورا دن مجھ پر ظنز کے تیر برساتی رہتی ہے کہ تم کسی کام کے نہیں ہو تین بیٹیاں ہیں بیٹے کا پتہ نہیں اور نہ تمھیں کام کرنے کا ڈھنگ آتا ہے،ماں باپ کے گھر میرا کبھی کبھی جانا ہوتا ہے جب میں اپنی سوتیلی امی کویہ بتاتی ہوں تو کہتی ہیں کہ صبر کرلو اب کیا اتنی چھوٹی سی عمر میں طلاق لوگی۔ب

اجی میں زہنی مریص بن چکی ہوں کس کوبتاوں یہ سب اورکہاں جاوں۔۔۔۔ کبھی کبھی تومیں خودکشی کا بھی سوچتی ہوں۔۔۔باجی میری ماں اگر زندہ ہوتی تو،میرے ساتھ یہ سب کچھ نہ ہوتا: اس سے پہلے کہ میں دلاسے کے کچھ الفاظ کہتی اوراس سے نام اتہ پتہ پوچھ لیتی اس نہ معلوم بچی نے سسکیاں لیتے ہوئے یہ کہہ کرفون بند کردیا کہ باجی شاید کسی نےمجھے سن لیا ہے۔۔۔اس واقعے کوپچیس دن ہوچکے ہیں ابھی تک وہ نمبر بند ہے اوروہ سسکیاں اج بھی مجھے ایسے درد دیتی ہیں جیسے کہ یہ سب مجھ پر گزرچکی ہو۔

اس واقعے کواپ سب کے ساتھ شیر کرنے کے کئی مقاصد ہیں لیکن میرا ان سے اگررابطہ ہوجاتا تو میں یہ مضمون ہرگز نہیں لکھتی اورخاموشی سے اس کا مسئلہ اپنی طرف سے حل کرنے کی کوشش کرتی مگراس نے نہ نام بتایا نہ اتہ پتہ یا شاید اس کو ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو اسے سن سکے اوروہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکے۔۔۔۔

یہ ہم سب کے لیے ایک سبق اموز واقعہ ہے اورساتھ ہی میں یہ ضرور کہوں گی کہ چترال ایک پرامن سرزمین ہے یہاں بہت پرامن لوگ بستے ہیں دوسرےعلاقوں کی نسبت یہاں کی خواتین ہرلحاظ سے محفوظ بھی ہیں اورپرامن زندگی بھی گزاررہی ہیں مگر کچھ جگہوں پرخواتین بہت سارے اورمسائل کے ساتھ ساتھ ایسے مشکلات کا بھی شکار ہیں جوزیربحث ہے۔
اس واقعے سے ہمیں یہ معلو٘م ہوتا ہے کہ چترال میں
۱۔کم عمری کی شادی بھی عام ہے چا ہے وہ چترال کے اندرکی جاتی ہو یا چترال سے باہر

۲۔ خواتین پراب بھی گھریلو تشدد ہوتا ہے

۳ ۔اب بھی بچیوں کو سکول سے چھوڑوا کربے جوڑ شادی کے نام پرایک آزمایش میں ڈالا جاتا ہے جوان کو زہنی بیماریوں کا شکار کرتی ہیں

۴۔ اب بھی شادی کے وقت والدین بچیوں کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتے کہ اگر تمھیں کوئی مسئلہ درپیش اجائے توتمھارے باپ کا درتمھارے لئے ہمیشہ کھلا رہے گا خود کشی کا سوچنا بھی نہیں

۵ ۔ آج بھی عورت ہی عورت کا سب سے بڑا دشمن ہے ساس بہونند دیورانی یا جیھٹانی یا سوتیلی ماں کی صورت میں

۶۔ اب بھی والدین بچیوں کو یہ نہیں سمجھاتے کہ زندگی میں ہرطرح کے حالات اور لوگوں کا سامنا ہوگا اپ نے ان کا بہادری ہمت و چلاکی سے مقابلہ کرنا ہے نہ کہ خود کو زہنی مریض بناکرخود کشی کا سوچنا ہے ۔

اگرواقعی ایسا ہے تواپ کونہیں لگتا کہ ہم سب کواپنے اپنے کردارپرنظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ہم بحثیت ماں پاب اپنی بچیوں کوکم عمری اور بے جوڑ کی شادی سے بچا سکتےہیں اگرشادی ہوبھی جاتی ہے توکم ازکم کسی مشکل گھڑی میں باپ کا دران کے لیے کھلے ہونے کا احساس ان کوضرور دلا سکتے ہیں،بحثیت ماں باپ اپنی بچیوں کوتعلیم کے زیورسے اراستہ کرکے ان کو زندگی کے مسائل سے مقابلہ کرنے کا ہنرسکھا سکتے ہیں اورخاص کربحثیت عورت ہم ایسا روایہ اختیار کر سکتے ہیں کہ ہماری وجہ سے ہم سے رشتے میں جڑی کسی دوسری عورت کی زندگی جہنم نہ ہو۔

مگر قصہ یہاں ختم نہیں میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو بہت اچھی ساس بہو اورنند ہیں جو اپنےکردارکوبخوبی اورانصاف سے نبھا رہی ہیں کیونکہ اچھے برے لوگ ہرجگہ موجو ہوتے ہیں اورہم کچھ بروں کی وجہ سے اچھوں کا کرداربرا ظاہر نہیں کرسکتے نہی میرا مقصد کسی کی دل آزاری ہے بلکہ میرا مقصد تووہ خواتین اور بچیاں جو کسی نہ کسی لحاظ سے حالات کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی زہنی وبدنی صحت متاثر ہورہی ہے ان کے لئے کچھ کرنا ہے تاکہ خود کشیوں کا یہ بڑھتا ہوا رجحان کسی نہ کسی حد تک کم ہواورہم بہت نہ سہی ایک جان ہی کو بچا کراس کوخوش وخرم اور صحت مند زندگی کی طرف دوبارہ لا سکے۔

 


شیئر کریں: