Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان ڈائری – رمضان اور مسلمان – قسط نمبرا – تحریر۔ میر سیما آمان

شیئر کریں:

رمضان ڈائری – رمضان اور مسلمان – قسط نمبرا – تحریر۔ میر سیما آمان

اکثر ناگوار گفتگو سے جسطرح زبان کو چپ لگ جاتی ہے بلکل اسی طرح بعض اوقات قلم کو بھی چپ لگ جاتی ہے ۔۔۔میرے ساتھ بھی شائد یہی  ہوا آج بہت عرصے بعد قلم صرف یہ سوچ کر اٹھا یا کہ چیزیں استعمال میں نہ لائی جائیں تو زنگ لگ جاتی ہیں۔بے شک  زبان کو بلخصوص عورتوں کی زبان کو زنگ بھی لگ جائے تو خیر ہے لیکن قلم کو زنگ نہیں لگنا چاہیے ۔۔۔اور پھر کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جن لوگوں کو لکھنا آ تا ہے انکا نہ لکھنا گناہ ہے ۔۔اور گناہ سے یاد آیا کہ ہمارے نامہ اعمال میں ایک ڈائری یا ڈائری کے چند اوراق ان گناہوں کی گنتی کی بھی ہونی چاہے جنھیں شاید ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔اسلیے اس ڈائری کا پہلا ورق خواتین کے نام۔۔۔۔۔۔

 

احادیث سے یہ ثابت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب معراج کا سفر کیا تو واپس آکر آپ نے خواتین کے لیے بلخصوص یہ پیغام دیا کہ میں نے جہنم میں عورتوں کی تعداد زیادہ دیکھی ہے ۔۔یہ اتنا بڑا پیغام ہے ہم عورتوں کے لیے لیکن ہماری غفلت دیکھیں ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہم سب کو یہ لگتا ہے کہ وہ تو ناچنے گانے والیاں ہونگی ۔۔بے پردہ ہونگی فلاں فلاں فلاں ہونگی ۔۔ہم تو بڑے نیک ہیں نمازی ہیں کوئی نہیں سوچتا کہ شائد وہ ہم ہی ہوں ۔۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہم تصور بھی نہیں کرتے کہ وہ ہم ہو سکتے ہیں ۔۔ہم عورتوں میں اتنی ساری بد عادات پائی جاتی ہیں کہ ہمیں جہنمی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔میں انتہائی مختصراً صرف انکا سرسری  تذکرہ کرونگی تفصیل میں نہیں جاؤنگی ۔ سب سے زیادہ مقبول عمل جو آج کی خواتین میں بہت زیادہ یہ بد عادات پائی جاتی ہے پہلے کے لوگوں میں نہیں تھا وہ ہے فضول گوئی۔۔۔۔۔اور مزے کی بات یہ کہ ایک تو فضول گو اوپر سے اسی فضول گوئی کی بنا پر خود کو صاحب گفتار  سمجھ کر مزید تکبر کا گناہ بھی اپنے سر کر جاتے ہیں ۔۔میں نے بہت بچپن سے یہ بات سنی تھی کہ جب دو لوگ آپس میں بیٹھتے ہیں تو اللہ تعالٰی فرشتوں سے فر ماتا ہے کہ فلاں جگہ میرے بندے مل بیٹھے ہیں تم جا کر دیکھو وہاں کیا بات ہو رہی ہے میرا ذکر ہو رہا ہے کہ نہیں ۔۔

 

اب اللہ کا ذکر اس محفل میں اگر ہے تو ظاہری بات ہے اللہ خوش ہوتا ہے اور ان لوگوں پر رحم فرماتا ہے اور اگر نہیں تو یقیناً اللہ کی ناراضگی ہمارے حصے میں آ جاتی ہے ۔۔ اب آپ خود سوچیں تین چار پانچ گھنٹے بھی اگر ہم مل بیٹھے ہیں تو فرشتے کیا پیغام لیکر جائیں گے مسلسل غیبت الزام تراشی یا مسلسل کپڑوں کھانوں فیشن فرنیچر نیا سامان پرانا سامان مہنگے سستے والی بکواس ترین باتیں ۔۔۔ پھر بات بات پہ جھوٹ بولنا ،بہتان تراشی چغل خوری  اور نہ شکری  اور بے پردگی کی تو بات ہی نہ کریں وہ تو ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گیا ہے ۔۔سچ پوچھیں تو جہنم میں کوئی بہت بڑا گناہ نہیں لیکر جائے گا ہماری یہی چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہماری نظر میں بہت معمولی ہیں لیکن  اللہ کے سخت نا پسندیدہ اعمال ہیں ۔۔ اسکے علاؤہ اذان نہ سننا اذان کے دوران مسلسل باتیں کرنا ۔ شام کے بعد گھر میں جھاڑو لگانا ۔

 

بے وجہ گھر سے باہر رہنا اونچی آواز میں بات کرنا ہنسنا ۔۔اور پردے کا چونکہ بہت شور ہوتا ہے ہر طرف لیکن گھر کے اندر بھی ہماری بے پردگی کا پورا سامان ہوتا ہے اس پر ہماری کوئی توجہ نہیں ۔۔مثلا  اسلام گھروں کے دروازے بند رکھنے اور اجازت لیکر گھروں  میں جانے کا  حکم دیتا ہے مگر ہمارے علاقے  میں یہ عجب دستور ہے کہ جو اس پر عمل کرتا ہے اسے علاقے میں کنجوس بد اخلاق روئے نو خوشیاک پتہ نہیں کیا کچھ بولا  جاتا ہے اسی طرح کام کاج کے لیے گھر میں ملازم رکھتے ہیں کوئی محرم نہ محرم کا خیال نہیں بس سہولت ہونی چاہیے ۔۔باذار جانا دس بیس روپیے کی بچت کے چکر میں دکاندار سے بحث کرنا یہ سب بہت مایوس کن چیزیں ہیں ٹھیک ہے ہمارا لائف سٹائل اب ایسا بن گیا ہے اپنے کام کے لیے خود باہر نکلنا پڑتا ہے جاب کرنے کے لیے جاتے گھر میں لوگ رکھیں کچھ بھی کریں مگر وہ حد تو نہ بھولیں  جو اسلام نے مقرر کی ہے ۔۔ اسلام کہتا ہے کہ بحالت مجبوری اگر کسی نامحرم سے واسط پڑتا ہے تو اپنی آ واذ سخت کرلو۔۔۔کیا  ہماری اواز ہمارے لہجے نا محرموں کے لیے سخت ہیں ؟؟؟؟  ہماری جاب کرنے والی  خواتین کا کیا سین ہوتا ہے پورا سٹاف مامے چاچے بنے ہوئے ہیں

 

یہی حال گھریلوں ہم سب کا گھر کے سارے افراد چاہے وہ سرحد کے کس پار سے آ ئے ہوئے ہوں ہمارے محرم بنے ہوئے ہیں ۔۔ یہ باتیں سب ناگوار ہونگی مگر یہ تلخ سچ ہے ۔۔  ابھی رمضان چل رہا ہے تو ہماری پوری توانائی اچھے کھانے پکانے میں صرف ہوگی آگے عید آئے گی تو پورا گھر کی صفائی دھلائی وغیرہ میں ہی یہ مہینہ نکل جائے گا ۔۔۔ میں صرف اتنا کہنا چاہونگی کہ یہ بہت بڑا مہینہ ہے یہ سارے کام ہوتے رہیں  گے ۔۔مگر ہماری کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ دوبارہ ہمیں یہ موقعہ ملے گا یا نہیں ۔ اسلیے اس دنیا کو کم از کم تھوڑی دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیں اپنے لیے وقت نکالیں اس رمضان کو اپنے لیے تبدیلی اور بخشش  کا ذریعہ بنایئں ۔۔۔۔۔ اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب اپ دنیا اور آخرت دونوں کو سنجیدہ لیں گے ۔۔۔۔


شیئر کریں: