Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتخابات کیس: وفاق، الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری

شیئر کریں:

انتخابات کیس: وفاق، الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری

انتخابات کیس: جب تک فریقین راضی نہ ہوں ہوا میں فیصلہ نہیں کر سکتے: چیف جسٹس

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ ) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کیس میں فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور حکومت سے پرامن رہنے کی یقین دہانی طلب کر لی۔ سپریم کورٹ نے پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی درخواست پر وفاق، الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کو نوٹسز جاری کردیئے۔پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات سے متعلق عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت عظمیٰ نے درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کی۔

 

چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں لارجر بنچ کے روبرو پنجاب اور کے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں کی سماعت ہوئی، بنچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی شامل ہیں۔عدالت میں الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان، تحریک انصاف کے وکلاء علی ظفر اور بیرسٹر گوہر پیش ہوئے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی ا?ٓئی کے وکیل علی ظفر نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق الیکشن کی تاریخ آگے کرنا درست نہیں ہے؟ الیکشن کی تاریخ میں توسیع کرنا کیسے غلط ہے آگاہ کریں۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم پر صدر نے 30 اپریل کی تاریخ مقرر کی، گورنر خیبرپختونخوا نے حکم عدولی کرتے ہوئے تاریخ مقرر نہیں کی، الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن شیڈول جاری کیا، الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ منسوخ کر دی۔

 

علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم کی 3 مرتبہ عدولی کی گئی، الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کی تاریخ نہیں دے سکتا، دوسری خلاف ورزی 90 دن کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا مقصد انتخابات ہوتا ہے جو 90 روز میں ہونا ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن 90 دن سے پانچ ماہ آگے کر دیئے جائیں، الیکشن کمیشن نے آئین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، عدالت نے 90 روز سے تجاوز صرف انتخابی سرکل پورا کرنے کی اجازت دی تھی، وزارت داخلہ اور دفاع نے سکیورٹی اہلکاروں کی فراہمی سے انکار کیا، آئین انتظامیہ کے عدم تعاون پر انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتا، کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟ اس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین اور اپنے حکم پر عمل درآمد کرائے، جسٹس جمال نے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہائی کورٹ کا کام ہے۔علی ظفر نے کہا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ مان لی تو الیکشن کبھی نہیں ہوں گے، معاملہ صرف عدالتی احکامات کا نہیں، دو صوبوں کے الیکشن کا معاملہ ایک ہائی کورٹ نہیں سن سکتی، سپریم کورٹ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کر چکی ہے، سپریم کورٹ کا اختیار اب بھی ختم نہیں ہوا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے راستے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ رکاوٹ بنا، سپریم کورٹ ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں، اس پر علی ظفر نے کہا کہ یہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ وہ پولنگ کی تاریخ مقرر نہیں کر سکتا، اب الیکشن کمیشن نے پولنگ کی نئی تاریخ بھی دے دی ہے، کیا یہ الیکشن کمیشن کے موقف میں تضاد نہیں ہے؟

 

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تمام پانچ ججز کے دستخط ہیں، ایسا نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے دو فیصلے ہوں، فیصلوں میں اختلافی نوٹ معمول کی بات ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 254 کا سہارا لیا ہے، کیا ایسے معاملے میں آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جا سکتا ہے؟وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آرٹیکل 254 کا سہارا کام کرنے کے بعد لیا جاسکتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کام کرنے سے پہلے ہی سہارا لے لیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 254 آئین میں دی گئی مدت کو تبدیل نہیں کرسکتا، آرٹیکل 254 آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا۔بعدازاں چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کیس میں فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور حکومت سے پرامن رہنے کی یقین دہانی طلب کر لی۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتہائی افسوناک صورت حال ہے کہ تمام فریقین دست و گریبان ہیں، تحریک انصاف اور حکومت یقین دہانی کرائے کہ شفاف انتخابات چاہتے ہیں یا نہیں؟ ہم ہوا میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، جب تک تمام فریقین راضی نہ ہوں،

 

 

آئین کی تشریح حکومتیں بنانے یا حکومتیں گرانے کے لیے نہیں ہوتی، آئین کی تشریح عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیئے کہ قیام امن کے لیے تحریک انصاف نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ الیکشن چاہتے ہیں تو فریقین کو پْرامن رہنا ہوگا۔عدالت نے شفاف انتخابات کیلئے پی ٹی آئی اور حکومت سے پرامن رہنے کی یقین دہانی مانگ لی۔چیف جسٹس نے کہا کہ یقین دہانی کیسی ہوگی یہ فیصلہ دونوں فریقین خود کریں، عوام کیلئے کیا اچھا ہے کیا نہیں اس حوالے سے فریقین خود جائزہ لیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات پْرامن، شفاف اور منصفانہ ہونے چاہئیں، الیکشن ہمارے گورننس سسٹم کو چلانے کیلئے بہت اہم ہے، الیکشن کا عمل شفاف اور پْرامن ہونا چاہیے، آرٹیکل 218 انتخابات کے شفاف ہونے کی بات کرتا ہے، ہمارے لیڈرز نے اب تک کیا کیا ہے؟سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔تحریک انصاف کی درخواست میں شامل فریقین کو نوٹسز جاری ہوئے جن میں وفاق، الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی بھی شامل ہیں، عدالت نے تمام فریقین سے کل تک جواب مانگ لیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کیس کو دو سے تین دن تاخیر سے مقرر کرنے کی استدعا کی جو منظور نہ ہوئی۔واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن اور گورنر کے پی، کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

 

 

خواہش تو ہے دونوں رہیں لیکن رانا ثناء اللہ نہیں رہیں گے: عمران خان

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے بیان سے متعلق کہا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔عمران خان نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں، انکو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ ملک میں کس کی حکومت ہے؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے، ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔


شیئر کریں: