Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا چین کا امن منصوبہ یوکرین جنگ روک پائے گا؟ – تحریر: شاہد گھمن ماسکو

Posted on
شیئر کریں:

کیا چین کا امن منصوبہ یوکرین جنگ روک پائے گا؟ – تحریر: شاہد گھمن ماسکو

گزشتہ ماہ چین سفارتی طور پر تیزی سے سرگرم رہا۔ اس کے اعلیٰ ترین سفارت کار، چینی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی خارجہ امور کمیشن کے دفتر کے ڈائریکٹر وانگ یی نے یورپ کا دورہ کیا۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد انہوں نے ہنگری اور روس کا سفر کیا۔ ماسکو میں انہوں نے سلامتی کونسل کے سیکرٹری نکولائی پیٹروشیف، وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور آخر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔
وانگ یی نے پوتن کو یقین دلایا کہ چین روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس اور چین کے تعلقات تیسرے ممالک کے خلاف نہیں ہیں اور بیرونی دبائو کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

روسی صدر نے کہا کہ وہ عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی)کی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی)کے اجلاس کے بعد اپنے “دوست شی جن پنگ” کے سرکاری دورے کے منتظر ہیں، جس میں اہم سرکاری عہدیداران بھی شامل ہوں گے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ دورہ اپریل میں یا مئی کے شروع میں ہو سکتا ہے، جب روس میں فتح کا دن مناتا ہے۔

بیجنگ یوکرین کے تنازعے کے حل میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے، اور شی جن پنگ کثیرالجہتی امن مذاکرات پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
24 فروری کو، یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے ایک سال مکمل ہونے پر چینی وزارت خارجہ نے ایک اور دستاویز شائع کی، جسے میڈیا میں بڑے پیمانے پر چین کا “امن منصوبہ”کہا جاتا ہے۔جس کے نکات کچھ اس طرح ہیں۔

1۔ تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا احترام،
2۔سرد جنگ کی ذہنیت کو مسترد کرنا (بشمول فوجی بلاکس کی توسیع)،
3۔جنگ بندی اور دشمنی کا خاتمہ،
4۔امن مذاکرات کی واپسی،
5۔انسانی بحران کا حل،
6۔شہریوں اور جنگی قیدیوں کا تحفظ،
7 ۔جوہری پاور پلانٹس کی حفاظت کو یقینی بنانا،
8۔اسٹریٹجک خطرات میں کمی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی روک تھام،
9۔اناج کی راہداری کے اندر خوراک کی برآمد،
10۔یکطرفہ پابندیوں کا خاتمہ،
11۔پیداوار اور سپلائی چینز کے استحکام کو محفوظ بنانا،
12۔جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں بین الاقوامی برادری کی شمولیت۔

چین کے اس امن منصوبہ کی تجویز کے بعد روس اور یوکرین کی جانب سے مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا۔ روس کا ردعمل شائستہ، لیکن نرم تھا۔ صدرولادیمیر پوتن کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو ہمارے چینی دوستوں کے امن منصوبے پر توجہ دے گا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اسے پرامن راستے کی طرف واپسی کے لیے کوئی شرط نظر نہیں آتی۔ تاہم فوجی آپریشن جاری رہے گا ۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے قبل ازیں کہا تھا کہ ماسکو بیجنگ کے بنیادی خیالات کا اشتراک کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون اور ناقابل تقسیم سلامتی کی تعمیل کے اصولوں پر قائم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روس سیاسی اور سفارتی ذرائع سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن امن معاہدے کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ “یوکرین کو مغربی ہتھیاروں اور کرائے کے جنگجوئوں کی سپلائی روکنا، دشمنی کا خاتمہ، ملک کی غیرجانبدار غیر منسلک حیثیت میں واپسی، اور نئی علاقائی حقیقتوں کی پہچان۔

دوسری جانب بیجنگ کے امن منصوبے کے بعد امریکی حکام کی جانب سے اس پر تنقید کی گئی ہے۔صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ چین کے امن منصوبہ پر پوتن اس کی تعریف کر رہے ہیں تو یہ کیسے اچھا ہو سکتا ہے؟ میں نے اس منصوبے میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہو کہ اگر چینی منصوبے پر عمل کیا گیا تو روس کے علاوہ کسی اور کے لیے بھی کچھ فائدہ مند ہو گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین ایک ایسی جنگ کے نتیجے پر بات چیت کرنے جا رہا ہے جو یوکرین کے لیے مکمل طور پر غیر منصفانہ جنگ ہے۔جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مشورہ دیا کہ بیجنگ تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنے کے بارے میں پہلے نقطہ پر قائم رہے۔چین کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے، نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے نشاندہی کی کہ بیجنگ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔اس نے ابھی تک روس کے حملے کی مزمت نہیں کی اور ہمیں شبہ ہے کہ چینی ہتھیار روس کو فراہم کیے جا سکتے ہیں، حالانکہ ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔دریں اثنا، یورپی کمیشن کے صدر، ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپی یونین “بیجنگ اور ماسکو کے درمیان دوستی” کی روشنی میں چین کی دستاویز پر غور کرے گی ۔

یوکرین کے صدر، ولادیمیر زیلنسکی نے چین کے امن منصوبہ کے بارے میں زیادہ غیر جانبدارانہ انداز میں بات کی۔ زیلنسکی نے کہا کہ اگرچہ وہ بیجنگ کی تجاویز میں بیان کردہ تمام نکات پر متفق نہیں ہیں، لیکن کچھ نکات یوکرین کے لیے کافی موزوں ہیں ۔مثال کے طور پر، تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کی حمایت۔ زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ جب تک چین کے منصوبے میں یوکرین کی سرزمین سے روسی فوجیوں کے انخلا کی تجویز شامل نہیںہوگی، یہ ناقابل قبول ہوگا۔ اسی دوران زیلنسکی نے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔
اس پس منظر میں یورپ میں امریکہ کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک پولینڈ کی پوزیشن حیران کن تھی۔ پولینڈ کے صدر اندرزیج ڈوڈا نے کہا کہ یہ اقدام امن کی طرف ایک راستہ بن سکتا ہے، اور یہ کہ چین جیسی عظیم طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ الفاظ بیجنگ کے ساتھ فائدہ مند اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ چین کے امن منصوبہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں کچھ مغرب مخالف بیانات شامل ہیں ۔مثال کے طور پر، فوجی بلاکس کے عدم پھیلا ئوکا مطالبہ، ہم اسے اس قسم کی غیر جانبداری کہہ سکتے ہیں جو روس کے حق میں ہے۔
چین کے امن منصوبے پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جاسکتا ہے جب امریکی اس کو سنجیدگی سے لے گا اورامریکہ سمیت روس ،یورپی یونین اور چین باہمی مذاکرات سے ان نکات پر غور کرکے یوکرین بحران کو حل کیا سکتا ہے اور اس میں روس کو تحفظات کو دور کئے بغیر حل ناممکن ہے۔


شیئر کریں: