Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

الپائن پودوں پر ایک مقالہ جو مزید تحقیق طلب ہے۔ تحریر: رحمت عزیز خان

Posted on
شیئر کریں:

الپائن پودوں پر ایک مقالہ جو مزید تحقیق طلب ہے۔ تحریر: رحمت عزیز خان پرپیش اویر

Alpine vegetables fruits spices and Medicinal plants in Chitral۔

چترال کے پہاڑوں میں انوا ع و اقسام کے کار امد پودے پائے جاتے ہیں۔سینکڑوں قسم کے ادویاتی پودے سبزیاں ،میوے اور مصالحہ جاتی پودے پہاڑوں پر اگتے ہیں۔مقامی لوگ ان میں سے چند کو بطورِ دوائی سبزی، سلاد،مصالحہ اور میوہ استعمال کرتے آئے ہیں۔بہت ذیادہ پودے ایسے ہیں جو اب تک کسی مہربان باٹنی،ہومو پھیتک اور زراعت کے سٹوڈینس کا راستہ دیکھتے انتظار میں آخر کار مرجھا جاتے ہیں۔کوئی ملنے نہیں آتا۔اور نہ ہی استعمال میں لائے جاتے ہیں۔کتنا اچھا ہوتا اگر زرعی تحقیقی ادارے پہاڑی پودوں کو اپنی تجرباتی فارموں کی زینت بنائے۔ یہ پہاڑی پودے ادویات سازی کے لئے خام مال اور خوراک کے طور پر استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔پہاڑی پودوں پر اگر محکمہُ زراعت ریسرچ کرے تو ان کو گھریلو پودوں میں تبدیل کر کے معیار اور پیدوار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

 

مقامی لوگ ان کو فضول ہرب سمجھتے ہیں۔مجھے اس پر بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے۔اللّٰہ تعالیٰ ان نباتات کو انہی کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے یہاں فضول کوئی چیز نہیں۔محتلف قسم کی نباتات سطح سمندر سے ایک خاص بلندی پر اگتے ہیں جو چترال کے اکثر پہاڑوں پر پائے جاتے ہیں۔ان پودوں کا لائف سائیکیل مختصر ہوتا ہے۔پہاڑوں پر برف پگلنے کے فورًا بعد پیدا ہوتے ہیں۔ان کا موسم اپریل اور جولائی کے درمیاں ہوتا ہے۔ کچھ پودے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں ختم ہوجاتے ہیں اور بعض جولائی کے آخر تک ملتے ہیں۔ سب سے زیادہ قسم کے ہرب سطح سمندر سے 7000 سے 11000 فٹ کی بلندی پر اگتے ہیں۔چترال میں ان پر ریسرچ کرنے والا اب تک کوئی نظر نہیں ایا۔پہاڑی سبزیاں موسم بہار میں چترال کے پہاڑوں میں تجارتی پیمانے پر اگتی ہیں اور چترال بازار میں فروخت ہوتی ہیں۔ان پودوں میں سے کچھ گلگت بلتستان ،کشمیر اور دیر سوات کوہستان کے اونچے پہاڑوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ان علاقون کے علاوہ ان پودوں میں سے شاید چند ایک بلوچستان اور مری کے پہاڑوں میں بھی مل جاتے ہوں۔ یہ پاکستان کے کسی اور حصے میں پیدا نہیں ہوتے ۔

چونکہ یہ پودے سرد جگہوں میں اگتے ہیں جو مزاج میں سرد ہوتے ہیں۔اگر گرم مزاج انسان ان پودوں کو کھائے تو اس کا مزاج معتدل ہو جائےگا۔خاص کر یرقان ٹائیفائیڈ شوگر اور کولیسٹرول کی بیماریوں کے لئے یہ موُثر دوا سمجھے جاتے ہیں ۔دوسری طرف یہ صاف ستھری قدرتی ماحول میں پائی جاتی ہیں۔اس لئے کسی گند،کیمیائی کھاد اور ہر قسم کی الودگی سے پاک ہوتے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ یہ انسانوں کے لئے پہاڑوں کی طرف سے قدرت کے انمول تحفے ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا۔
ان پودوں کو سْوکھا کر رکھے جائیں تو اگلے موسم تک استعمال میں لائے جا سکتے ہیں

چترال میں جو پہاڑی سبزیاں بطورِ ساگ استعمال کی جاتی ہیں ان کے لوکل نام میرے علاقے میں یہ ہیں۱.کاویر ۲۔شیئے ۳۔کروئے کاسور ۴۔ٹِخ ۵۔منعور ۶۔اسقاربش ۸۔سیمون ۹ کچ اور ۱۰۔کھمبیاں ہیں ان سبزیوں میں سیمون ملٹی مقاصد میں استعمال ہوتا ہے۔اس کو پہاڑی کریلا بھی کہا جاتاہے جو بلکل ذائقہ میں کریلا جیسا ہوتاہے۔ یہ چوڑے پتوں والاخوشبودار سبزی ہےاس کو ساگ بھی بناتے ہیں۔اور اس کی تھوڑی سی مقدار دوسری سبزیوں کے ساتھ ملا نے سے سالن کا ذائقہ لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔سیمون سےچائے بھی تیار کی جاتی ہے اور ساتھ ہی مقامی لوگ اس کو گلے کی بیماری، یرقان

اور شوگر کے لئے بطور دوا استعمال کرتے ہیں۔ کاویر سالن کےطورپر استعمال ہوتاہے۔اس کو گوشت کے ساتھ ابال کر سالن تیار کیا جاتاہے اور دوسرے سالن کے ساتھ اس کی تھوڑی سی مقدار ملانے سے سالن کا ذائقہ مزیدار ہوتا ہے۔

کھمبیوں میں برانگالو، شوٹانزک کراکری اور غیچا غیچی مشہور ہیں۔ان کو مقامی لوگ گوشت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ان سے سالن بنایا جاتاہے اور تیل میں روسٹ کر کے بھی کھایا جاتا ہے۔ان مشروم میں سے ایک قسم غیچا غیچی کو مہنگے داموں فروخت بھی کرتےہیں۔کچ سے ساگ اور سلاد تیار ہوتا ہے اور پیاز کی جگہ سالن میں ڈالتے ہیں
مذکورہ سبزیوں کے علاوہ انہی پہاڑوں میں مصالحہ جات کےطور پر استعمال ہونے والے پودوں میں ہوجوج (زیرہ ) تھراشنا غوڑی پھوسْوک،کاری اور پھورونِی پیاز کی ایک قسم کثرت سے پائی جاتی ہیں۔پہاڑی پیاز کو سلاد اور سالن میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ اور بعض لوگ ان مصالحہ جاتی پہاڑی پودوں کو گھریلو بودونگ شونج مْکھ،پودینہ کوروچ،سسپرو، بین اوردانیہ سے ملاکر اعلیٰ قسم کا مصالحہ بناکر استعمال کرتے ہیں جو سالن کے ذائقے کو دوبالا کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اور صحت کے لیے بہترین تصور کی جاتی ہیں۔ تھراشنا غوڑی مصالحہ جات کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے۔تھراشناغوڑی کو نمک کے ساتھ پیس کر شیرہ لاؤ تیار کیا جاتا ہے ۔یہ پہلے زمانے میں مرچ کی جگہ سالن اور سلاد میں استعمال ہوتا تھا۔میرا ایک چچا دولت رسیار شیرہ لاؤ کو ناشتے میں روٹی کے ساتھ کھایا کرتا تھا جو بڑے مزے کا ہوتا تھا۔ پھوسوک سالن کو پِنگ رنگ میں تبدیل کرکے خوشنما بناتا ہے خاص کر سناباچی شوشپ اور حلوا میں اس کو ضرور استعمال کرتے ہیں۔اس کو پہاڑی ہلدی بھی کہا جاتا ہے۔ہوجوج اور کاری کو مصالحہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور معدے میں تیزابیت کے لیئے دوا اور فوڈ پوئزین کے اثارات کو زائل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پھورونی چھوٹے پیاز کی طرح ہوتی ہیں سالن سلاد اور چٹنی میں استعمال کرتے ہیں

الپائن سبزیوں اور مصالحہ جا تی پودوں کے ساتھ پہاڑی میوے بھی پائے جاتے ہیں۔ پہاڑوں میں اِشپار، راؤ ہوشائے اِشکون چھووینج کاغو دروچ اور کاغو خربوزہ اور مِکین قابل ذکر ہیں جو فروٹ اور ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔اِشپار پہاڑی ایک میوہ ہے جو چترال میں شوق سے کھایا جاتا ہے ۔خاص کر بچے اور عورتیں بہت شوق سے کھاتے ہیں یہ سیٹرک ایسڈ اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔راؤ کو کچا اور آگ کے الاؤ میں ڈال کر پکایا اور کھایاجاتا ہے۔ کچا کھانا تھوڑا سا مشکل ہوتاہے کیونکہ اس کی بہت تیز بو اور زیادہ چٹ پٹہ ذائقہ ہے۔اس کی بو اور چٹ پٹہ پن کو گھٹانے اور نرم بنانے کے لئے پکانا اچھا ہے۔اوشائے یہ بھی راؤ جیسا ہی ہوتا ہے لیکن اس کا بو اور چٹ پٹہ ذائقہ راؤ سے کم ہے اس لیے اس کو کچا یا تھوڑا سا پانی میں ابال کر اخروٹ اور خوبانی کے بادام کے ساتھ کھانے سے بڑا مزہ اتا ہے۔یہ دونوں پودے چترال میں یرقان ٹائیفائیڈ شوگر اور کولیسٹرول کے لئےبطورِ دیسی علاج استعمال ہوتے ہیں۔اِشکون میوہ کے طور پر کھائے جاتے ہیں۔مِکین چھوٹے دانوں کے ساتھ چیری کی طرح کا پھل ہے جو مختلف رنگوں میں پائے جاتے ہیں

ادویاتی پودوں میں پھوسوک،موتریچ ،ممیخی شِِریشت، سیو،سویر کے بیج، بیسّپْر،پھونار،پیلیلان مرچ اور ژوغور اہم ہیں۔پھوسوک سر کے بالوں کی نشونما خشکی اور بال گرنے سے بچاؤ اور صحت مند بنانے کےلئے بھی استعمال کرتےہیں۔مْوتریچ سے زخموں اورمعدے کے السر کا علاج کیا جاتا ہے۔جعفر اویر اللّٰہ معفرت کرے بڑا نیک انسان اور ہڈیوں کا شہرتِ یافتہ معالج تھا۔آپ موتریچ کے ساتھ ہلدی اور انار کے چھلکے خوب پیس کر ایک سفوف بناتا تھا۔پھر اسکو چھان کرکے انڈا میں گوند کر پلاستر بناتا تھا اور ٹوٹی ہوئی ہڈی پر مل کر کپڑے سے باندھ دیتا تھا۔یہ ایک مضبوط پلاستر کے ساتھ ہڈی کو جلد اپس میں جوڑنے کے لئے استعمال کرتا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پہاڑی ہرن جب زحمی ہوتا ہے تو اپنےجسم کی زخمی کو موتریچ کے ساتھ ٹچ کرتا ہے اور کھاتا بھی ہےتاکہ زخم جلد ٹھیک ہو جائے۔کاری ایک ادویاتی پلانٹ ہے جو کثرت سے پائی جاتی ہے۔ممیخی کمر درد اور ہڈیوں کے درد میں موُثر ہےجبکہ سیو،ژوعوراور شِریشت معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے بطورِ دوا استعمال کرتے ہیں۔سویر کے بیج فروخت ہوتے ہیں ان کا استعمال مجھے معلوم نہیں۔پھونار ایک پھول ہے جو انکھون کی بیماری میں استعمال ہوتا ہے۔سورج نکلنے سے پہلے پھونار سے گرد کی طرح مادہ حاصل ہوتا ہے اس کو انکھوں میں لگاتے ہیں۔پھونار سےقہوہ بھی بناتے ہیں۔ پیلیلان مرچ کو انکھوں اور گلے کا دوا تصور کیا جاتا ہے۔بیسّپْر چہرے کے لئے بطورِ کریم مستعمل ہے۔ہہاڑی چھووینج کے جڑ کو یرقان کے لئے دوا سمجھا جاتا ہے۔

۔ان کے علاوہ اور بھی کئی کار امد پودے پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں مثلاً پھوزدان کو پیس کر پانی میں شامل کر کے سرف کی جگہ کپڑوں کی دھلائی اورسر دھونے کےلئے استعمال میں لایا جاتا ہے۔کھراشِک دال کی ایک قسم ہے۔ اور بہت کچھ ریسرچ طالب ہیں۔
مجھے امید ہے زراعت اور مڈیکل کے ماہرین بلندی پر پائےجانے والے پودوں پر توجہ دیں گےاور میرے دوست کمینٹ کے ذریعے مزید فائدہ مند پودوں کے بارے میں بتائیں گے


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72246