Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زندگی اور خلوص کے پیمانے – تحریر: حیات طیبہ

شیئر کریں:

زندگی اور خلوص کے پیمانے – تحریر: حیات طیبہ

ملین ڈالر سوال یہی ہے کہ کیا ہم زندہ بھی ہیں اوروہ بھی خلوص کے ساتھ۔ اگر زندہ ہیں اور زندگی کو تمام تر رنگینیوں کے ساتھ جینے کا دعوی بھی ہے تو اس کا پیمانہ کیا ہے۔ ہم میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ایسا پیمانہ نہیں جس کے ذریعے ہم خود کی یا دوسروں کی زندگی کے آسائشوں، رونقوں اور خوشیوں کا ناپ کرسکیں۔ مگر پھر بھی کچھ خودساختہ روایات کے بھول بھلیوں میں رہتے ہوئے ہم تصور کربیٹھتے ہیں کہ ہم آزاد بھی ہیں اور زندگی بھرپور خلوص کے ساتھ گزار رہے ہیں۔ یہ خوش فہمی ہم میں سے اکثر کو ہے۔حالانکہ واقعات و حالات کچھ اور ہی بتا رہے ہوتے ہیں۔

کہنے کو زندگی اور خلوص دو لفظ ہیں مگر پوری انسانی زندگی انہی دو لفظوں کے گرد گھومتی ہے۔ آپ زندگی سے خلوص کو الگ کریں تو بچتا ہی کیا ہے۔ یا پھر زندگی کے بغیر خلوص کا کیا کیا جائے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ ہمیں نہ تو گھروالے بتاتے ہیں کہ زندگی اصل میں ہے کیا۔ نہ ہی تعلیمی درسگاہوں میں اصل زندگی کے بارے میں کسی تربیت کا اہتمام ہے اور نہ ہی جن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ زندگی کے تمام تر حقائق سے باخبر ہیں۔بس جیئے جارہے ہیں اور اسی کو زندگی سمجھ بیٹھے ہیں۔زندگی خوش و خرم کیسے گزارنی ہے اس کا طریقہ بتانے والا کیا خود اپنی زندگی سے 50 فیصد مطمئن ہے۔ کسی دن یہ سوال اپنے ناصح سے کرکے دیکھیں تو لگ پتہ جائے گا کہ جتنی کھوکھلی اس کی نصیحتیں ہیں اس سے زیادہ کھوکھلی اس کی اپنی زندگی ہے۔

ہم نے کبھی اپنے گھر والوں، فیملی ممبرز، تعلیمی اداروں کے دوستوں اور پھر ملازمت کے دوران کے کولیگز کے بارے میں یہ سوچنے کی زحمت بھی کی ہے کہ ان کی زندگی چل کیسے رہی ہے۔ وہ کسی پریشانی کا شکار تو نہیں۔ اگر کسی پریشانی کا شکار ہیں تو اس کا ازالہ کیسے ممکن ہے۔ میں بذات خود اپنے فیملی ممبر، کلاس فیلوز اور کولیگ کی زندگی کے مسائل کم کرنے کے لئے کیا کردار ادا کرسکتی/کرسکتا ہوں۔ سو فیصد یقین ہے کہ ایسا ہمارے معاشرے میں کوئی بھی نہیں سوچتا۔ وجہ صرف ایک ہے۔ ہمیں پیدا ئش سے لے کر مرنے تک کوئی بھی فرائض سے آگاہ نہیں کرتا۔ ہمیں صرف حقوق کا بتایا جاتاہے۔ ہمیں صرف حاصل کرنے کا درس دیا جاتاہے۔ حاصل محصول سے کسی اور کی مدد کا نہ تو ہمیں تربیت دی جاتی ہے اورنہ ہی اسے ضروری سمجھا جاتاہے۔

انسانی المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ ترکی میں زلزلہ آیا اور ہزاروں لوگ سفر آخرت پر ایک ساتھ روانہ ہوگئے۔ وہ المیہ ہوسکتا ہے۔ مگر اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے مسائل سے بے خبر ہیں۔اپنے آپ کوبے خبر ظاہر کرتے ہیں۔ یا پھر ہم ایسے رویوں کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں جس سے کسی بھی مسئلے کے شکار فرد یا خاندانوں کو کسی آسانی کے بجائے مزید تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متاثرہ شخص کو ہمارے معاشرے نے ہمیشہ مجرم بنایا ہے کیا یہ کسی زلزلے سے کم المیہ ہے؟ ہم ہمدردی بھی ایسے جتا رہے ہوتے ہیں جس سے مزید تذلیل کا پہلو نکلتا ہے یا پھر کسی سے ہمدردی بھی اس لئے کررہے ہوتے ہیں تاکہ متاثرہ شخص زندگی بھر اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو بھول ہی نہ سکے۔ ایسے رویے کسی بھی المیے سے بڑھ کر ہوتے ہیں مگر اہمیں اس کا احساس نہیں ہے۔

کاش انسان اتنے سارے ایجادات کے ساتھ زندگی کی خوشیاں ناپنے کا کوئی چھوٹا سا آلہ ہی تیار کرتا تاکہ ہم اپنے پیاروں کی خوشیاں ناپ کر  ان کی زندگی میں موجود کمیوں اور  ناکامیوں کا کوئی علاج ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔ ان کی زندگی میں رنگنیوں کا اضافے اور غموں کا ازالہ کرتے۔ان کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوتے کہ وہ کوئی بے وقعت کھلونے نہیں بلکہ انسان ہیں اور ان کا زندگی اور اس کی رونقوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ان پرظلم کرنے والوں کا۔

ہمارے ان غیر انسانی رویوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ روز بروز تباہ و بربادی کا شکار ہوتا جارہا ہے اور ہم اس کا علاج اپنے گھروں،اپنے فیملی ممبرز اور اپنے اردگرد تلاش کرنے کے بجائے دوسروں کے گھروں میں جا کر کرنا چاہتے ہیں۔معاشرے کی روز افزوں بدحالی گواہی کے لئے کافی ہے کہ ہم نے آج تک غلط مریض و مرض کا علاج کیا ہے۔ یہی وقت ہے کہ اپنے اردگرد کے لوگوں، اپنے پیاروں اور دوستوں کا علاج پہلے کرنے کے بجائے اپنی ذات کا سب سے پہلے علاج شروع کریں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ہم بہت جلد اپنے معاشرے کو ایک بہتر مقام دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
72114