Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

علماء کی قدر دانی – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

Posted on
شیئر کریں:

علماء کی قدر دانی – تحریر: اقبال حیات اف برغذی

اس سال موسم سرما اپنے دینی علوم اور حفظ قرآن کی دولت فاخرہ سے فیضیاب بیٹے کے ساتھ چارسدہ کے علاقے شبقدر میں گزارا۔ جواپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پرلطف اور یادگار تھا۔ اور دینی علوم کے انوارات کا جو منظر دیکھنے کو ملا وہ قابل ذکر ہونے کے ساتھ ساتھ حیران کن تھے۔پورے خاندان کا ماحول دینی علوم کی ترویج کی لذتوں سے لبریر ہوتا تھا۔ اور ہر قسم کی لغویات اور اسلامی اقدار کے منافی گفتگو کا تصور بھی ذہین میں نہیں آتا تھا۔ اور شب وروز قال اللہ وقال رسو ل  کی سرگرمیوں سے منور ہوتے تھے۔ رزق کے لئے کسی قسم کی پریشانی اور ہو س مال وزر سے مکمل ناآشنائی کو اگر حیران کن گردانا جائے  تو بیجا نہ ہوگا۔ زندگی کے مذکورہ اطور کے فیض معاشرے  میں دینی علوم کی پذیرائی اور علماء کی قدردانی کی انتہا پر منتبح ہوتے تھے۔ اور مخلوق خدا کی طرف سے ایسی عزت وتوقیر کا مظاہر ہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ کہ مجھ جیسے انگریزی خوان کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتے ہوئے زبان سے بے ساختہ آہ نکلتا تھا۔

 

اُس معاشرے کے اندر دینی علوم کے حامل افراد کی قدردانی کے مذکورہ تناظر میں اگر ہم اپنے علاقے چترال کا تذکرہ کریں گے  تو انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہم اپنی دینی پیشواوں کی قدر ومنزلت کا حق ادا نہیں کرتے۔ اور کسی نہ کسی طرح ان کے سفید دامن میں دا غ لگانے کے درپے ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ علماء وار ث الانبیاء ہوتے ہیں اور ان ہی کے دم سے ہے نظام کائنات میں رنگ۔

 

ایک بادشاہ اپنے تمام قومی امور علماء سے مشورے کے بعد رو بعمل لاتے تھے ۔اور ان کی ملکہ اس سلسلے میں معترض ہوکر دنیاوی علوم کے حامل افراد کو ترجیح دینے پر زور دیتی تھی۔وقتاً فوقتاً دونوں کا معاملے پر بحث وتمحیص ہوتی تھی۔ ایک دن دونوں میاں بیوی ایک ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک محل کے اندر پر وردہ بکری اپنے بزغالے (بچے) کو لئے سامنے سے گزرتے ہوئے  بزغالہ بکری پر چڑھ دوڑتا ہے ۔ملکہ کی کہتی ہوئی چیخ نکلتی ہے کہ اس نمک حرام کو دیکھو کل اپنی ماں کے تھنوں کو منہ لگا کر اس کا دودھ پیتا تھا۔ آج اس ناجائز حرکت کا ارتکاب کرتا ہے ۔بادشاہ مسکراتے ہوئے ملکہ سے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جانوروں میں علماء نہیں ہوتے۔اگر ہمارا معاشرہ بھی علماء سے محروم ہوتا تو ہماری کیفیت بھی اس سے مختلف  نہ ہوتی۔ یوں ملکہ اپنے موقف کے لئے معذرت خواہ ہوتی ہیں۔

 

یہاں اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا  کہ معاشرے کے اندر دینی علوم کے حامل افراد کبھی بھی رزق کی تنگی پر شکوہ کنان نہیں ہوتے اور ساتھ ساتھ ہر قسم کی غیر اخلاقی اوردینی اقدار کے منافی عمل سے اپنا دامن بچائے رکھتے ہیں۔ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطافرماتے ہیں۔

 

ایک اور حدیث کی روشنی میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے فیصلے فرماتے وقت علماء سے فرمائینگے ۔کہ میں نے اپنا علم اور حکمت تمہیں اس لئے عطا فرمائی تھی کہ تمہاری تما م گناہوں کو بخش دوں اور کچھ پرواہ نہ کر کہ تم نے کیا کیا ہے۔

ان اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر نہ صرف علمائے کرام قابل تعظیم بنتے ہیں بلکہ اس صف میں اپنی اولاد کو شامل کرنے کا عمل بھی نیک بخشی کی علامت ہوگی۔

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72107