Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فرسودہ نظام تعلیم سے نجات – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

فرسودہ نظام تعلیم سے نجات – محمد شریف شکیب

برطانوی ماہر تعلیم ‘لارڈ میکالے’ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ مجھے کوئی بھی شخص بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کو توڑ نہ دیں جو انکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں۔

 

اسی لارڈ میکالے نے ہندوستان کی نوآبادیات کے لئے طبقاتی نظام تعلیم وضع کیا۔جو1835 میں انگلش ایجوکیشن ایکٹ کے نام سےنافذ ہوا۔ لارڈ میکالے کا اصرار تھا کہ ہندوستانیوں کو انگریزی ادب پڑھایا جائے جبکہ خود انگریز اس زمانے میں کیمیاء، برقیات، دھات کاری اور معدنی وسائل سے متعلق تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انگریز اچھی طرح جانتا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے سے ملک معاشی ترقی کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا سکالر،ماہرتعلیم، سیاست دان,جج,وکیل,صحافی اور افسر وہی مانا جاتاہوتا ہے جسکی انگریزی زیادہ بہتر ہو چاہے وہ دیگر عصری و دینی علوم و فنون کی ابجد سے ناواقف کیوں نہ ہو۔ لارڈ میکالے نے ایسی حکمت عملی بنائی جسے ہم 2 سو سال میں بھی نہ توڑ سکے۔ کسی مفکر نے بالکل درست کہا تھا کہ سب سے مشکل کام غلام کو یہ سمجھانا ہے کہ تم غلام ہو- ہم فرنگیوں کی غلامی سے 76 سال پہلے آزادی حاصل کر چکے لیکن انہوں نے ذہنی غلامی کا جو طوق ہمارے گلے میں ڈالا تھا۔اس سے جان چھڑایا نہیں جا سکا۔

 

فرنگیوں نے جس مراعات یافتہ طبقے کو ہم پر مسلط کیا تھا وہ فرنگیوں سے زیادہ خطرناک ہے۔اس کے منہ کو غریبوں کی کمائی سے عیاشی کا چسکا پڑ چکا ہے اور اس عیاشی سے دستبردار ہونے کو کسی قیمت پر بھی تیار نہیں۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ مگر ہمارا نصاب و نظام تعلیم وہی دو سو سال پرانا ہے۔یہ بات طے ہے کہ جب تک ہم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم اور نظام انصاف اپنے لئے وضع نہیں کرتے۔ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہی رہیں گے۔یہ تو فطرت کا اصول اور اللہ تعالی کا بھی وعدہ ہے کہ جو قوم اپنی حالت بدلنے کو تیار نہیں ہوتی اللہ تعالی بھی ایسی بے حس اور نڈھال قوم کی حالت نہیں بدلتے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72066