Chitral Times

Apr 17, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئی ایم ایف نامی جن – تحریر عبد الباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – آئی ایم ایف نامی جن – تحریر عبد الباقی چترالی

ماضی میں ائی ایم ایف نامی جن سے جن ممالک نے سخت شرائط پر سودی قرضے حاصل کیے ہیں ۔وہ ممالک معاشی طور پر دیوالیہ ہو کر تباہی و بربادی سے دوچار ہو گئے ہیں ۔ان ممالک میں ارجنٹائن ،صومالیہ،نائیجریا اور سری لنکا شامل ہیں ۔ان ممالک کے عوام ائی ایم ایف کے قرضوں کی سخت شرائط کی وجہ سے مہنگائی ،غربت اور بےروزگاری کی وجہ سے فاقہ کشی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں ۔۔حالیہ دنوں میں یہ منحوس جن اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ پاکستان کا دس روزہ دورا کیے ہیں ۔اس دورے کے دوران حکومت کو غریب عوام پر ٹیکسوں میں مذید اضافہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ائی ایم ایف نامی جن غریب اور ترقی پزیر ممالک کو اس شرط پر سودی قرضے فراہم کرتا ہے ۔جو اپنے ملک کے غریب عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال کر ان کو ضروریات زندگی سے محروم کر دے۔ائی ایم ایف کبھی بھی قرضے لینے والے ممالک کے حکمرانوں سے صنعت کاروں ،سرمایہ داروں اور بڑے جاگیر داروں پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ نہیں کرتا ہے ۔وہ بالا دست طبقوں اور حکمرانوں کے مفادات کا بہت خیال رکھتا ہے ۔ائی ایم ایف نامی جن اپنے حالیہ دوراہ پاکستان میں حکومت کے 85 رکنی کابینہ پرکوئی اعتراض نہیں کیا ۔مالی طور پر بدحال اور مقروض حکومت اپنے مشیروں اور وزیروں کے بھاری تنخواہوں اور شاہانہ مراعات پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔اس بد نام زمانہ جن کا پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ پرانی خاندانی دشمنی ہے۔اس گمراہ جن کو پاکستان کے غریب عوام کا خون چوسنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے ۔

حالیہ دنوں میں ائی ایم ایف نے حکومت کو تیل،گیس بجلی اور دیگر اشیاء ضرورت کی قیمتین بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ ہمارے ملک کا خود مختار ،با اختیار اور خوددار وزیراعظم اور ماہر معشیت وزیر خزانہ ان کے احکامات پر سر تسلیم خم کر کے تیل ،گیس،بجلی اور دیگر اشیاء ضرورت کی قمیتین فوری طور پر بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔عالمی شہرت یافتہ اور تجربہ کار وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے ۔کہ ہم آپ کی خوشنودی کی خاطر اپنے ملک کی غریب عوام پر ٹیکسوں کا مذید بوجھ ڈال کر ان کا جینا حرام کر دینگے ۔معشیت کا جادوگر اور غریبوں کا غم خوار وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے ۔کہ تیل ،گیس اور بجلی اور دیگر اشیاء ضرورت کی قمیتین بڑھانے سے غریب عوام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔معشیت کے جادوگر نے درست فرمایا ہے کہ تیل ،گیس،بجلی اور دیگر اشیاء ضرورت کی قمیتین بڑھانے سے انسان متاثر ہوتے ہیں ۔جبکہ حکمرانوں کے سامنے عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑوں جیسی ہے۔کیڑے مکوڑوں پر تیل ،گیس،بجلی،آٹا اور گھی کی قمیتین بڑھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔کیونکہ کیڑے مکوڑے گھاس اور سبزے کھاتے ہیں ۔ان پر مہنگائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔پاکستان ویسے بھی سر سبز و شاداب ملک ہے۔یہان گھاس اور سبزے کی کوئی کمی نہیں ہے ۔یہ کیڑے مکوڑے گھاس اور سبزے کھا کر اپنے گزر بسر کرینگے ۔اگر ان کیڑے مکوڑوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے چند شر پسند مکوڑے حکومتی اقدامات کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کی کوشش کرینگے ،تو حکومت ان شر پسند کیڑے مکوڑوں پر مہنگائی کا مذید فضائی زہریلی اسپرے کر کے ان کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔اخر پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا ملک ہے ۔ان چند کیڑے مکوڑوں سے نمٹنا حکومت کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔اس لئے حکومت ان کیڑے مکوڑوں سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کر رہی ہے ۔زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ہیں ۔

حکومت کو اصل پریشانی بالادست طبقے کے کتوں اور بلیوں کی باہر سے آنے والے خوراک پر درآمدی ٹیکس لگائے پر ہے۔جس سے کتوں اور بلیوں کے مالکان ناراض ہو کر جانوروں کے حقوق کے لئے سڑکوں پر آنے کا امکان ہے ۔اگر بالادست طبقہ جانوروں کے حقوق کے لئے سڑکوں پر آگیا تو حکمرانوں کے لئے اقتدار میں رہنا مشکل ہو جائے گا ۔اس وقت آئی ایم ایف نامی جن پاکستانی معیشت پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت کو اتنا بے بس کر دیا ہے۔کہ وزیراعظم کو اپنے ملک میں اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں کمی بیشی کے لئے آئی ایم ایف سے اجازت لینا پڑتا ہیں ۔ایسے بے اختیار اور بے بس سربراہ ،حکومت،ملک اور قوم کو اس مشکل معاشی صورتحال سے کیسے نجات دلا سکتا ہے۔جس کے پاس اپنے ملک میں آٹا،چینی کی قمیتوں میں کمی بیشی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔موجودہ حکومت نہ ملک کے بگڑے ہوئے معاشی حالات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔اور نہ ہی انتخابات کرنے پر راضی ہے۔

موجودہ حکومت گزشتہ دس مہینوں میں عوام پر مہنگائی کا مذید بوجھ ڈالنے،کابینہ میں وزیر کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کرنے ،اپنے اور اپنے خاندانوں کے افراد کے خلاف کیس ختم کرانے میں نمایاں کامیابی حاصل کئے ہیں ۔ان دس مہینوں میں مہنگائی سے پریشان حال عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے عوام کے مشکلات اور مسائل میں مذید اضافہ کرنے کا باعث بنے ہیں ۔حکومت تبدیل کرنے سے صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں ۔طرز حکمرانی اور پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔سابقہ حکومت مہنگائی میں اضافہ کر کے پاکستان کو دنیا کا سستہ تریں ملک قرار دے رہی تھی ۔موجودہ حکومت مہنگائی کو سابقہ حکومت کی ناقض معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔جس طرح سابقہ حکومت خزب مخالف کے رہنماؤں پر ریاستی اداروں کے ذریعے مقدمات قائم کر کے جیلوں میں ڈال کر خوشیاں منا رہی تھی ۔اب موجودہ حکومت میں اپوزیشن کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالنا اپنی حکومت کی کامیابی قرار دے رہی ہے۔خدا جانے اس انتقامی سیاست کا انجام کیا ہوگا۔

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
72058