Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا بنے گا پاکستان کا – تحریر: سید عطاواللہ جان عسکری (قسط نمبر 4)

Posted on
شیئر کریں:

کیا بنے گا پاکستان کا – تحریر: سید عطاواللہ جان عسکری (قسط نمبر 4)

جدوجہد ازادی کی تحریک ازادی 1857اور اس کے اثرات سے لیکر دو قومی نظریہ اور تحریک پاکستان تک ، پھر ظہور پاکستان کے بعد سے اج تک کا جائزہ لیا جاۓ تو اج اس مردم خیز خطے کی بگڑی ہوئی صورت حال کو دیکھ کر علامہ اقبال کے شعر کا وہ حصہ یاد اجاتا ہے کہ” سارے جہاں  سے اچھا ہندوستان ہمارا “ـ علامہ اقبال اج ذندہ ہوتے تو اس شعر کے نازل ہونے کے موقع کےاوپر  اپنی وجدانی کیفیت پر فخر بھی محسوس کرتے ـ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان سے متعلق اپنے خوابوں کے ادھورہ ہونے پر شاید افسردہ بھی ہوتے ـ

اج وہ یہ محسوس کرتے اور یہ دیکھ کر حیراں بھی ہو جاتے کہ اج بھی وہ مسلمان جو قیام پاکستان کے انتہائی مخالف اور دشمن تھے ، اس ملک میں اپنی اُن برطانوی سمراجوں کے کٹ پتلی ایجنٹ بننے کی روایات کو ذندہ رکھے ہوۓ ہیں جو وہ پہلے کرتے رہتے تھے ـ وہ یہ دیکھ کر بھی پریشاں  ہوجاتے کہ ان کے شاہینوں کے لیے اس ملک کو پنجرہ بنایا گیا ہے  ـ

وہ یہ دیکھتے ہی رہ جاتےکہ پچھتر سال گذرنے کے باوجود اس ملک میں نہ اسلامی دستور ہے اور نہ ہی بین الامذاہب کے مشترکہ اقدار موجود ہیں ـ پچھتر سالوں کے بعد بھی اس خطے کے مسلمان اپنی پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکے ہیں بلکہ اج بھی اُ ن غیر ملکی سامراجوں  پر انحصار کرتے کرتے اپنی تشخص اور اپنی خودی کو بھی کھو بیٹھے ہیں ـ

وہ جب اس ملک کی تاریخ کو پڑھتے ، تو پڑھتے پڑھتے ان کی انکھوں میں انسو اجاتے کہ سامرجی قوتوں نے اس ملک کے اندر اپنی مقاصد کے حصول کے لیے کئی دھڑوں کو اس قدر مضبوط کیا ہوا ہے کہ اس ملک کی ترقی اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے والوں کو مسلسل قتل کرواتے رہے ہیں ـ اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے وہ یہاں کے غاصیبوں  کی مدد کرتے رہے ـ جو اس ملک کے عوام کو ترقی دینے کے بجاۓ حسب معمول غلام ہی بنا کر رکھا گیا ہے ـ اس ملک کے عوام کے ساتھ وہی غلاموں جیسا سلوک کو روا رکھاگیا ہے جو وہ  متحدہ ہندوستان میں رہنے کے دوران کرتے رہے تھے ـ گویا اُ ن برطانوی سامراجی قوتوں نے اج بھی اپنی تاریخ کی اُن نقوش کو نہیں مٹانا چاہا ہے جو برصعر پاک و ہند پر اُن کے قبضہ کے دوران سے اب تک موجود رہے ہیں ـ

حاکم الاُمت کو اس بات کا بھی بہت ہی افسوس ہوتا  کہ اس ملک میں اپس کی سیاسی اختلافات کو ذاتیات کی حد تک لے جاکر اس ملک کے تمام اداروں کو متنازعہ بنا رکھا گیا ہے ـ تمام اداروں میں موجود لوگ قومی مفاد کے بجاۓ ذاتی انا کو اداروں پر مسلط کئے ہوۓ ہیں ـ عدلیہ ، فوج ،الیکشن کمشن، صدر مملکت ،  صوبوں کےگورنرز سب ایک دوسرے کے ساتھ متصادم نظر اتے ہیں ـ علامہ کو وہ زمانہ بھی یاد اتا ہوگا کہ جب متحیدہ ہندوستان کے عوام انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے تیار تھے ،مگر مختلف فرقوں کے مختلف سوچ ازادی کی راہ میں جب رکاوٹ بننے کا خدشہ پیدا ہوا  تو اقبال نے یہ شعر پڑھ کر سب کو منظم کرنے کی کوشش کی تھی کہ
” مذہب نہیں سکھاتا اپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا”ـ

یہ بات اپنی جگہ پر اہمیت کے حامل ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر وجود میں ایا تھا لیکن اب تک غلامی، بدعنوانی اور ظلم و تشدد میں کمی واقع نہیں ہو سکی ہے ـ جس طرح مغرب میں وطن پرستی اور جمہوریت کی تحریکو ں کے سبب سے  مغربی ممالک کو ازادی نصیب ہوئی تھی ـ اسی طرح مسلمانوں نے بھی وطن پرستی اور اسلامی جمہوری اقدار کے تحت یہ ملک حاصل کیا تھا ـ لیکن برطانوی حکمرانوں نے اس وطن پر اپنے چند مراعات یافتہ اشرافیہ کو مسلط کر کے اس ملک کے سیاہ و سفید پر قبضہ جمانے میں اج تک ان کی مدد کرتی رہی ـ جس کی وجہ سے اج ملک ترقی اور ازادی حاصل کرنے کے بجاۓ غلامی ، محرومی، نا امیدی، کی وجہ سے اج یہ  ملک  دیوالیہ ہو چکا ہے ـ اسٹبلشمنٹ شروع سے ہی اس کھیل کا سرغنہ رہا ہے اور مکمل طور پر سیاسی کردار ادا کرتا رہا ہے اور بار بار آئین اور سیاسی اداروں کو پامال کرتے رہے ـ لیکن سامراجی قوتوں نے 75 سال گذرنے کے باوجود بھی ازادی اور جمہوری تحریک کو پاکستانی عوام کے دلوں سے نکالا نہیں جا سکا ـ اب تو اسبلشمنٹ کو بھی یہ احساس ہونے لگی ہے کہ انھیں اندر ونی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیاہے ـ  جس کی وجہ سے فوج میں خدا نخواستہ بغاوت کے امکانات کا خدشہ  ہے ـ کیونکہ فوج کے اندر بھی جمہوریت پسند لوگ موجود ہیں اور ملک کے حکمرانوں کے کردار پر گہری نظر رکھتے ہیں ـ

دوسری جانب کئی دہائیوں سے فوج کے کندھوں میں بیٹھ کر انے والے سیاست دان اس ملک کی سیاست میں اپنا  اجاراداری قائم رکھنے اور اپنی سابقہ چوری اور بدعنوانیوں  کو چھپانے کے لیے انصاف دینے والے عدلیہ کو جلسوں میں برا بلا کہتے پھیر رہے ہیں ـ جبکہ اب عوام کی اکثریت بھی اس ملک کے اسٹبلیمنٹ سے نالاں نظر انے لگے ہیں اور فوج کو غیر سیاسی رہتے ہوۓ اپنی اصل ذمہ اریوں پر توجہ دینے ضرورت پر زور دے رہے ہیں ـ عوام کی جانب سے گذشتہ پچھتر سالوں سے اس ملک کے لوٹنے والے سیاست دانوں کے علاوہ طاقت ور ادراروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ـ جو قومی خزانے کو لوٹ کر باہرکے ملکوں میں بڑے بڑے پرپرٹی اورجزیرے خریدینے میں لگےہوۓ ہیں  ـ یعنی ابھی صورت حال یہ ہے کہ قومی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لُو ٹنے والے سب اکھٹے ہوۓ ہیں ـ جبکہ عوام کی اکثریت دوسری جانب امریکہ اور برطانوی سامراجی قوتوں کے کٹ پتلیوں کی انکھوں میں انکھیں ڈال صاف اور شفاف انتخابات کے مطالبے پر ڈٹے ہوۓ ہیں ـ ملک کے دو اسمبلیاں بھی ٹوٹ چکے ہیں ـ  اس ملک کو لوٹنے والے لوگ انتخابات سے کتراتے ہیں کہ کہیں اس ملک میں ایک ایسی انقلابی تبدیلی رونما نہ ہونے پاۓ  کہ جس سے ان سب کو احتساب کے عمل سے گذرنا پڑ ے ، اور ملک کے اندر ملکی وسائل منصفانہ طریقے سے تقسیم ہونا شروع ہوجاۓ ـ اقبال جاتے جاتے اپنی مایوسیو ں کا اظہار ان الفاظ میں  کرتے کہ
“نشانٍ برگ گل تک بھی نہ چھوڑا اس باغ میں گلچیں
تیری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں ،مصیبت انے والی ہے
تیری بربادیوں کے مشورے ہیں اسمانوں میں” ـ


شیئر کریں: