Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز میں کمی ریکارڈ، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران کل 24 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا

Posted on
شیئر کریں:

سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز میں کمی ریکارڈ، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران کل 24 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا کیسز میں کمی ہوئی ہے، 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے دوران مجموعی طور پر 24,303 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مذکورہ مدت کے دوران 22,018 نئے کیسز سامنے آئے۔ہفتہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کر دہ پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں 2,285 کی کمی ہوئی ہے جو کہ 54,735 سے کم ہو کر 52,450 رہ گئی ہے۔فروری 2023 کو ختم ہونے والی سالانہ مدت میں فیصلہ کیے جانے والے مقدمات کی تعداد 2018 کے بعد سب سے زیادہ ہے جب کل 16,961 کیسز نمٹائے گئے۔اس کا مثبت نتیجہ سپریم کورٹ کے معزز ججز کی غیر معمولی محنت، کیس مینجمنٹ سسٹم کا تعارف اور کیس لوڈ کی ضروریات کے مطابق بنچوں کی تشکیل کا مظہر ہے۔

 

فل کورٹ تشکیل، جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر کو شامل نہ کیا جائے: حکومت کی نئی درخواست دائر

اسلام آباد(سی ایم لنکس) حکومت میں شامل تین بڑی سیاسی جماعتوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کردی۔مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی اور جے یو ائی کی جانب سے سپریم کورٹ میں نئی درخواست دائر کی گئی ہے۔حکومتی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیتے ہوے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شامل نہ کیا جائے۔دونوں ججز پہلے ہی پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات پر اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔تین بڑی سیاسی جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس عائشہ ملک سمیت دیگر ججز پر مشتمل فل کورٹ بنچ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔


شیئر کریں: