Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – ”کہاں تک گۓ ہیں فسانے تیرے“ – محمد جاوید حیات 

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان – ”کہاں تک گۓ ہیں فسانے تیرے“ – محمد جاوید حیات

 

ابو اس وقت دسویں جماعت کا طالب علم تھا شاہی باغ جا کے کسی بنج پہ بیٹھ کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا بجلی اٸرکنڈیشن وغیرہ کی سہولت آج کل کی طرح نہیں تھی ۔گوگل، ٹسٹ پیپر ،گاٸیڈ وغیرہ کی سہولت نہیں تھی استاد سکول میں جو پڑھاتا جو لکھواتا وہی اموختہ تھا انہی کو رٹ لگا لگا کے امتحان دیاجاتا۔ سن 1945 کے مارچ کا مہینہ تھا ایک انگریز بوڑھاآدمی ٹہلتے ٹہلتے ادھر آ نکلے پوچھا کیا کر رہے ہو ابو اوران کے ساتھی نے کہا کہ امتحان کی تیاری کررہے ہیں ۔تحریک آزادی زوروں پر تھی ادھر جنگ عظیم جاری تھی ادھر خلافت مو منٹ چل رہی تھی انگریزوں سے نفرت بھی عروج پر تھی ۔انگریز نے باتوں باتوں میں تحریک آزادی پہ سوال کیا ۔ابو اور ساتھی نے کھری کھری سنا دی ۔”انگریز نے ہمیں غلام بنا رکھا ہے ہم ان سے آزادی چاہتے ہیں“ ۔۔۔

 

انگریز نے قہقہہ لگایا ۔۔۔کہا ! بیٹا! قوموں کو غلام بنایا نہیں جاسکتا خود غلام بنتی ہیں ۔”غلام “ ایک معیارکا نام ہے اور” آقا “ بھی ایک معیار کا نام ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے جو قوم آقا کے معیار سے گرتی ہے وہ غلام بن جاتی ہے دوسرا کوٸی معیار نہیں ۔آقا بننے کے لیے ”قوم “ بننے کی ضرورت ہے ۔تم لوگ آقا تھے اس معیار سے گرے تو غلام بن گۓ تمہیں کسی نے غلام نہیں بنایا ۔۔تم بر صغیر میں آقا تھے لیکن تم نے بٹیر پالے۔۔۔۔ حرم سرا میں گاتے ناچتے تھرکتے رہے۔۔۔ شراب کباب کی مستی میں تمہیں برسوں تک پتہ نہ چلا کہ آقا بننے کا معیار کیا ہوتا ہے ۔تم شمشیرزنی، ہمت ،جرات، منصوبہ بندی اور جہان بانی کے گر بھول گۓ ۔دنیا کی دوسری قومیں غلام سے آقا بننے کی سر توڑ کوشیش کر رہے تھے تم اونگ رہے تھے دنیا میں تعلیم ساٸنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پڑ گٸ تھی تمہارے اجداد نے جس ساٸنس کی ابتدا کی تھی وہ پھر سے تازہ ہو رہی تھی تہمارے اجداد دنیا سے چلے گۓ تھے اور تمہارا ورثہ لاوارث ہوچکا تھا ۔ہمارے اور تمہارے درمیان طویل جنگ ”صلیبی جنگ“ کے نام سے لڑی گٸ تم بھی مذہب کو بنیاد بنا کر مقدس جنگ لڑ رہے تھے ہم بھی ۔۔۔

 

جنگ ختم ہوٸی تو تم سو گۓ ہم جاگ گۓ ۔۔ہم نےعلم اور ٹیکنالوجی یہاں سے چرا کے لے گۓ۔ لوہے کا زمانہ آیا ۔تمہارے قران میں لوہے کا ذکر ہے ہم نے لوہے کی لاٸنیں بچھا دیں ہم نے تجارت شروع کی ہماری ریل نے ہماری تقدیر بدل دی ہم نے علم حاصل کرنے کے لیےدانشگاہیں بناٸیں ۔ہم علم کے دیوانے بن گۓ تجربات شروع ہوگۓ تم حسن نسوانی کے تب بھی دیوانے تھےخالی عمارتوں اور قبروں کی سجاوٹ شروع کی ۔۔حقیقت اور صداقت تم سے دور ہوتی چلی گٸ ۔۔تم نقل اتارنے لگے ۔دنیاٸی تعلیم ٹیکنالوجی اور ساٸنس سے کترانے لگے ۔تمہارے مذہب کی بنیاد علم تھا جستجو اور غورو فکر تھا مگر تم نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ۔تم ٹکڑے ٹکڑے ہوگۓ ۔لازم ہے کہ تم غلام بن گۓ کیونکہ تم آقا بننے کی صلاحیت سے محروم ہوگۓ تھے ۔

 

بیٹا! غلامی کی سب سے خطرناک انداز ” ذہنی غلامی “ ہے انگریزوں نے بر صغیر میں تجھے ذہنی غلام بنا رکھا ہے۔۔تم ان سے متاثر ہو تم اپنا وجود کھو چکے ہو ان کی نقل اتار رہے ہو ان کی تقلید کو اپنے لۓ فخر سمجھ رہے ہو تم بے شک جسمانی طور پر آزاد ہوجاٶگے مگر ذہنی طور پر کبھی آزاد نہیں ہوگے کیونکہ تمہیں ایسا معیار پیدا کرنا ہوگا ۔ان کے معیار کے تعلیمی ادارے ،ساٸنس اور ٹیکنالوجی میں ان جیسی صلاحیت ۔۔ان کے معیار کے کار خانے تب تم میں خود انحصاری کا جذبہ انگڑاٸی لے گا ۔اب تم ہر لحاظ سے ان کا مختاج رہوگے تو تمہاری ذہنی غلامی ختم نہیں ہوگی ۔تمہارے بڑوں کو چاہیۓ کہ پہلے تمہیں ” قوم “ بناٸیں ۔تمہیں تربیت دیں تمہیں ٹرین کریں تم میں جدوجہد ، ہمت ،غیرت اور خودانحصاری کا جذبہ پیدا کریں ۔ہر فردکھرا سچا امانت دار اور قوم و ملک کا خادم بن کر میدان میں اترے ۔اس کے پاس ایک منزل ہو ایک واضح مقصد ہو اس طرح تم ایک مضبوط چٹان کی طرح میدان میں اتروگے تب تم پر آزماٸشیں آٸیں گی ان کا مقابلہ کر سکو گے ابھی مجھے نہیں لگتا کہ تم قوم بن گۓ ہو تم فالحال ”ہجوم “ ہو ۔تم میں ابھی کتنےلالچی، مفاد پرست، آستین کے سانپ چھپے بیٹھے ہیں وہ میدان میں نہیں آۓ ہیں ۔

 

ان کا سدباب تمہارے لیے ضروری ہے کل جب تم جسمانی طور پر آزاد ہوجاٶگے تو وہ میدان میں اتریں گے ان کے پاس پیسہ ہوگا وہ سرمایہ دار اور جاگیر دار ہونگے اس لیے تم ان کے ہاتھوں کھیلونا بنو گے ۔ان کوقوم کی پرواہ نہیں ہوگی ان کو ملک کی ترقی کی پرواہ نہیں ہوگی وہ مفاد پرستی کے چمپٸین ہونگے اسلیے اپنا سوچیں گے ۔۔بیٹا!پہلے قوم بنو ۔۔ابو نے یہ سارا قصہ سنا کر ایک سرد آہ بھر لی اور کہا بیٹا! میں اس پاک جدوجہد کا حصہ رہا ہوں لڑا ہوں زخمی ہوا ہوں میرا خون اس سر زمین کی بنیادوں میں شامل ہے مگر ایک حسرت ہے کہ وہ سرفروش کہاں گۓ جن کی معیت میں جنکی سربراہی میں جن کے ساۓ میں ہم لڑ رہے تھے ۔قوم کاوہ حصہ کہیں معدوم ہوگیا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آج نہ بگلا دیش ہم سے جدا ہوتا نہ ہم مقروض ہوتے نہ ہم کسی کا ڈیکٹیشن لیتے نہ کسی کی جنگ لڑتے نہ آپس میں دست و گریبان ہوتے ۔انگریز کو جہان بانی کے گرآتے ہیں انھوں نے کیا سچ کہا تھا ۔بیٹا! تمہارے فسانے وہاں تک گۓ ہیں ۔۔۔لیکن بڑے خون چکان فسانے ہیں ۔۔۔۔۔
عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گۓ ہیں فسانے تیرے


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71791