Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتخابات کی تاریخ؛ الیکشن کمیشن کا صدر کو مشاورت میں شامل کرنے سے انکار

شیئر کریں:

انتخابات کی تاریخ؛ الیکشن کمیشن کا صدر کو مشاورت میں شامل کرنے سے انکار

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی میں انتخابات کی تاریخ کے معاملے میں صدر مملکت کو مشاورت میں شامل کرنے سے انکار کردیا۔ صدر عارف علوی کی جانب سے صوبہ پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات سے متعلق خط کے جواب میں الیکشن کمیشن نے صدر عارف علوی کے دوسرے خط کا جواب بھی دے دیا جس میں الیکشن کمیشن نے صوبوں کے انتخابات سے متعلق ایوان صدر کو مشاورتی عمل کا حصہ بنانے سے معذرت کرلی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک خط سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹری ایوان صدر کو بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت تحلیل شدہ اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ گورنر دے سکتا ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت صوبہ پنجاب اور کے پی گورنرز کو خط لکھا اور دونوں گورنرز نے تاحال الیکشن کے لیے تاریخ نہیں دی، دونوں صوبوں میں عام انتخابات سے متعلق معاملات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔الیکشن کمیشن نے خط میں کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں گورنر پنجاب سے مشاورت کا حکم دیا، الیکشن کمیشن حکام نے گورنر پنجاب سے مشاورت کی لیکن گورنر نے انتخابات کی تاریخ نہ دی، الیکشن کمیشن نے فیصلے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں انٹرا اپیل دائر کی۔خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا کوئی آئینی و قانونی اختیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داروں سے بخوبی آگاہ ہے، الیکشن کمیشن پہلے خط کے جواب میں بھی صدر مملکت کے آفس کو تمام صورتحال سے آگاہ کرچکا ہے، پنجاب اور کے پی انتخابات کا معاملہ اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔الیکشن کمیشن نے مزید کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہہ رہے کہ الیکشن کمیشن ایوان صدر کو اس مشاورتی عمل میں شامل نہیں کرسکتا، ایوان صدر کو صوبوں کے انتخابات کی مشاورت میں شامل کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کل فیصلہ کرے گا، الیکشن کمیشن کا اجلاس کل صبح طلب کیا گیا ہے۔

آئین کے مطابق کسی بھی صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں پولنگ کی تاریخ دینے کا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن کی وضاحت

اسلام آباد(سی ایم لنکس)الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ آئین کے مطابق کسی بھی صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں پولنگ کی تاریخ دینے کا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالہ سے کئی درخواستیں عدالتوں میں زیرسماعت ہیں اس لئے الیکشن کمیشن ایسی صورتحال میں صدرمملکت کے آفس کے ساتھ کسی قسم کے مشاورتی عمل کے قابل نہیں ہے تاہم اس حوالہ سے حتمی فیصلہ آج پیر کو کمیشن میں ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو صدر پاکستان کے سیکرٹری کے نام الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ صدر کا عہدہ ریاست کا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے کمیشن کو اس کا بہت احترام ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن کمیشن نے دونوں اسمبلیوں کے گورنر سے انتخابات کیلئے تاریخ مانگی تاہم تاحال یہ تاریخ نہیں دی گئی۔کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ میں عام انتخابات کی تاریخ کے حوالہ سے گورنر پنجاب سے ملاقات کی تاہم گورنر پنجاب نے یہ موقف اپنایا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے پابند نہیں کیونکہ انہیں بطور گورنر اس سے استثنیٰ حاصل ہے اس بنا پر کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ سے مزید رہنمائی بھی طلب کر رکھی ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے حوالہ سے تین درخواستیں زیرسماعت ہیں۔کمیشن نے خط میں وضاحت کی ہے کہ آئین الیکشن کمیشن کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی صوبائی اسمبلی کے گورنر کی جانب سے تحلیل یا آئین کے آرٹیکل 112 ون کے تحت اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں ازخود انتخابات کی تاریخ دیں۔ ان وجوہات کی بنا پر اور معاملہ کے عدالت میں زیرسماعت ہونے کی وجہ سے معذرت کے ساتھ الیکشن کمیشن صدر کے آفس کے ساتھ مشاورت کے قابل نہیں ہے تاہم اس حوالہ سے حتمی فیصلہ آج پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔

 

صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کی وجہ بتادی

اسلام آباد(چترال ٹایمز رپورٹ )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کے عمل کی وضاحت کردی۔ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ الیکشن کے لیے حیلے بہانے تلاش کیے جارہے تھے اس لیے مجھے خط لکھنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ آئین میں سوراخ تلاش کرنے کے بجائے اس کی پاسداری کرو، یہ نہ کرو کہ آئین کی شقوں کو کس طرح سائیڈ پر رکھ کر الیکشن میں تعطل کا اہتمام کیا جائے۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کے بجائے معاملہ ایک دوسرے پر ڈالا جا رہا ہے، یوں لگتا ہے جیسے الیکشن کی تاریخ دینے پر جرمانہ ہوجائے گا۔


شیئر کریں: