Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on
شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ تعالی علیہ

آفتاب علم حدیث نبویﷺ

(25رجب،یوم وفات پرخصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

امام مسلم ؒبن حجاج القشیری بن وردبن کرشاد(206-261ھ(آسمان علم حدیث نبویﷺکے تابندہ و درخشندہ خاورتابناک ہیں۔آپ کی کنیت ”ابوالحسین“تھی اور”عساکرالدین“لقب تھا،عرب کے معروف قبیلہ ”قشیر“سے آپ کانسبی تعلق تھاجب کہ خراسان کامشہور شہر ”نیشاپور“آپ کاوطن تھا۔آپ کے والد محترم مشائخ میں سے تھے اوران کے ہاں علماء و صوفیاء کی محافل اکثر وبیشترمنعقد ہوتی رہتی تھیں۔کثیرالمشاہیر وسلف صالحین کی طرح آپ نے بھی ابتدائی تعلیم گھرپر ہی حاصل کی،والدین اوردیگربزرگوں سے قرآن مجیداور حدیث نبویﷺاورابتدائی اخلاقیات کادرس لیا،یہاںیہ بات قابل ذکرہے کہ اپنے ہی گھرمیں اوراپنے ہی بزرگوں سے بالکل ابتدائی تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے بچے اپنے پرکھوں کے وارث اوراپنی تہذیب و تمدن اوراپنی اعلی روایات کے امین ہوتے ہیں جب کہ عمرکے ابتدائی ایام میں منافع بخش اورلش پشے چمکدارتعلیمی اداروں کی نذرہوجانے والے بچوں کا اپنے آباؤاجدادسے صرف نسبی تعلق باقی رہ جاتاہے۔امام مسلم ؒ نے ابتدائے شباب میں پہلے نیشاپورکے مفسرین و محدثین سے تعلیم حاصل کی اوربارہ سال کی عمر سے سماع حدیث کاغازکردیاتھا۔ اوربعدمیں علمی اسفار کی بدولت وقت کی نابغہ روزگاہستیوں کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا۔آپ نے حصول علم کے لیے،بصرہ،بغداد،کوفہ،رے،شام،مصرکے سفرکیے اوراسی دوران220ھ میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی زیارتیں بھی کیں۔یحیی بن یحیی التمیمی نیشاپوری،قتیبہ بن سعید،اسحاق بن راہویہ اوراحمد بن حنبل رحم اللہ علیھم آپ کے ابتدائی اساتذہ کرام میں سے تھے۔اس وقت کے نظام تعلیم میں مرکزیت معلم کوحاصل ہواکرتی تھی اور نوجوان اپنے اساتذہ کے نام سے پہچانے اورگردانے جاتے تھے اوراستنادحاصل کرتے تھے۔آپ نے کم وبیش پندرہ سال حصول علم کے لیے لمبے لمبے سفرکیے اوردردرکی خاک چھانیاوراس دوران آپ احادیث کوجمع کرتے رہے۔

آپ کے تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے،آپ کے درس میں تل دھرنے کوجگہ نہیں ہوتی تھی۔اس وقت کے رواج کے مطابق آگے آگے وہ طلبہ ہوتے تھے جو باقائدہ قلم و قرطاس کے ساتھ مزین ہوتے اورآپ کا درس یااس کے چنیدہ نکات تحریرکرتے تھے اور روایت حدیث کے سلسلہ سند میں اپنام شامل کروالیتے تھے،ان کے پیچھے ان نوجوانوں کا انبوہ کثیرہوتاتھاجوآپ کانام سن کر آجاتے تھے یاکسی خاص موضوع پر آپ سے کسب فیض چاہتے تھے یا اتفاقََاشہرمیں آئے ہوتے تو زیارت کے لیے حاضر خدمت ہوجاتے اور ہمہ تن گوش ہوکر درس سنتے تھے اوران کے پیچھے عوام کا جم غفیرہوتاتھاجوصرف سماع کے لیے حاضرخدمت ہواہوتاتھا۔آپ کے شاگردوں میں امام ترمذی جیسے محدث کانام بھی ملتاہے جنہوں نے آپ کے طرق سے ایک حدیث اپنی تالیف میں نقل کی ہے،ان کے علاوہ ابوالفضل احمدبن سلمہ،ابراہیم بن ابی طالب،امام ابن خزیمہ،ابوحاتم رازی اورابراہیم بن محمدسفیان جیسے بڑے بڑے نام بھی آپ سے کسب فیض کرنے والوں میں شامل ہیں۔آپ کی تالیفات میں سے احادیث نبویﷺکی کتب”الجامع الصحیح السلم“ہی آپ کی وجہ شہرت ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کتب و رسائل کی ایک تعدادآپ سے منسوب ہے،ان میں سے،المسندالکبیرالرجال،الاسماء والکنی،کتاب الجامع الابواب،کتاب السیراورکتاب اولاد صحابہ بہت مشہورہوئیں۔

مجموعہ احادیث نبویﷺ”الجامع الصحیح المسلم“آپ کاایساکارنامہ ہے جو تاقیامت زندہ تابندہ رہے گا،امام مسلم ؒکے ایک قول کے مطابق  تین لاکھ احادیث نبویہﷺمیں سے کم وبیش چارہزارکاانتخاب اس کتاب میں جمع کیاگیاکیونکہ آپ کی شرائط قبولیت حدیث بہت سخت تھیں۔قرآن مجیداوربخاری شریف کے بعد اس کتاب کوصحیح اورمستندترین ماناگیاہے،مسلمان اہل علم کے ہاں صحیح بخاری شریف اورصحیح مسلم شریف کو ملاکر”صحیحین“بھی کہاجاتاہے،یعنی دوصحیح ترین کتابیں۔ اس کتاب میں صحیح احادیث کو ہی شامل کیاگیاہے۔صحیح مسلم شریف کاشمار ”صحاح ستہ“میں شمار ہوتاہے،صحاح ستہ سے مراد وہ چھ کتب احادیث ہیں جنہیں امت کے ہاں استنادکادرجہ حاصل ہے۔حدیث نبویﷺکے دوحصے ہوتے ہیں،پہلے حصے میں سندہوتی ہے اوردوسراحصہ متن پرمشتمل ہوتاہے۔”سند“سے مراد جن بزرگوں نے حدیث کوزبانی سن کرآگے بیان کیایعنی”راویوں“ کے اسمائے مبارکہ ہوتے ہیں،جیسے نبیﷺ سے صحابی نے،صحابی سے تابعی نے،پھرتابعی سے تبع تابعی نے اوریہ سلسلہ سند محدث تک پہنچتاہے۔راوی اورمحدث میںیہ فرق ہوتاہے کہ راوی حدیث نبویﷺکو غورسے سنتاہے،اپنے حافظے میں سنبھال رکھتاہے اوراحتیاط سے آگے بیان کردیتاہے،جب کہ محدث غورسے سنتاہے اوراسے ضبط تحریرمیں لے آتاہے۔”متن“میں آپﷺ کاقول یافعل نقل کیاگیاہوتاہے۔امام مسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ دوثقہ راویوں کی بیان کردہ حدیث نبویﷺکواپنی کتاب میں جگہ دیاکرتے تھے،یعنی دوثقہ صحابی،دوثقہ تابعی اوردوثقہ تبع تابعی علی ھذالقیاس۔ثقہ ایک صفت ہے جس کامطلب ہوتاہے کہ راوی حافظے،عدل اورتقوے کے اعتبارسے اعلی درجے پرفائزہو۔راوی کی صفات میں امام مسلم کے ہاں شرائط شہادت کااضافہ بھی ملتاہے،یعنی شریعت نے جس گواہی قبول کرنے کے لیے جوشرائط عائد کی ہیں،امام مسلم راوی میں ان شرائط کاموجودہونابھیضروری خیال کرتے تھے۔ احادیث کے انتخاب کے بعدانہیں کسی بزرگ محدث کو دکھاتے تھے خاص طورپرمعروف محدث ابوزرعہ ؒ کی خدمت میں پیش کرتے،اگر وہ اجازت مرحمت فرماتے تواسے مجموعہ میں شامل فرمالیتے اوراگر کسی علت کی نشاندہی ہوجاتی اس حدیث پرسقوط اختیارکرتے۔اس کتاب کی تدوین میں کم و بیش پندرہ سال صرف ہوئے لیکن امت مسلمہ کے لیے ایک راہنمائی کاایک مایہ نازنسخہ تیارہوگیا۔

صحیح مسلم کے اسلوب بیان میں امام صاحب نے ”حدثنا“اور”اخبرنا“میں فرق کرتے ہیں،”حدثنا“ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب استاد اپنے شاگردوں کوحدیث سنارہاہو اور جب اس کے برعکس کوئی شاگرداگرحدیث کامطالعہ کر کے اپنے استادکو سنارہاہوتوپھر”اخبرنا“استعمال کرتے ہیں،ان دونوں کے مطالب میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔اورکم و بیش تمام محدثین کے ہاں یہی اسلوب مروج ہے۔امام مسلم کے ہاں سند میں بھی بہت تحقیق پائی جاتی ہے،حدیث مبارکہ کی سندبیان کرتے ہوئے راویوں کے اسماء کی مکمل تفصیل بتاتے ہیں،ان کے ناموں میں اگرکوئی اختلافات ہوتے توان کاذکربھی کرتے ہیں،راویوں کی کنیتیں،ان کے القابات،انسابات اوراسم صفات کوبھی تفصیل سے بیان فرماتے ہیں۔اس  کاپس منظریہ ہے کہ عرب ثقافت میں اسم،کنیت،لقب و نسب کابہت لحاظ کیاجاتاہے اوراگران میں سے ایک بھی دوافرادکے درمیان مشترک ہوتوراوی کی تشخیص مشکوک ہوسکتی ہے،چنانچہ دیگرمحدثین کے ہاں عمومی طورپر اور امام مسلم کے ہاں خصوصی طورپر اس اسلوب کاالتزام پایاجاتاہے۔امام مسلم نے سندمیں موجودکسی علت کی بھی نشاندہی کی ہے۔علت سے مراد کوئی ایسی کمی،کوتاہی،خامییانقص ہوتاہے جوعام افرادکی گرفت میں تونہیں آسکتالیکن ایسافردجس کی ساری عمرآپ ﷺکی احادیث لکھنے،لکھانے،پڑھنے،پڑھانے،سیکھنے سکھانے میں گزری ہواوروہ مزاج نبویﷺ،عادات نبویﷺ،معمولات نبوی،کلام نبویﷺ اورشمائل نبویﷺسے بدرجہ اتم واقف ہواس کی دقت نظر میں آجاتی ہے۔صحیح مسلم کی ایک اورخصوصیتیہ ہے کہ اگرمتن میں کہیں الفاظ کامعمولی سااختلاف بھی ہوتواسے بھی بصراحت بیان کردیتے ہیں،یعنی ایک راوی نے کوئی واقعہ  بیان کیااوردوسرے راوی نے بھی وہی واقعہ بیان کیالیکن پہلے راوی نے ایک لفظ استعمال کیاجب کہ دوسرے راوی نے کوئی اورلفظ استعمال کرلیاتواس اختلاف کا برموقع ذکربھی اس کتاب کاخاصہ ہے۔

امام مسلم ؒ اپنی سیرۃ میں بہت متواضع شخصیت کے مالک تھے،بلندقامت تھے اورسرخ و سفیدرنگت کے حامل بھی تھے،طبیعت میں سادگی انتہاکوتھی،اتنابڑاعلمی رتبہ رکھنے کے باوجودتکبرمغرور،نخوت اوراحساس برتری نام کونہ تھا۔عبادت وریاضت میں اپنے اوقات کااکثرحصہ صرف کرتے تھے۔آ پ کے سراورریش مبارک کے بال سفیدتھے،روایات اسلامی کے مطابق سرپر عمامہ باندھتے تھے اورشملہ کو دونوں کندھوں کے درمیان لٹکالیتے تھے،۔علماء و طلباء کی بہت قدرکیاکرتے تھے۔نیشاپورکے نواح میں واقع کچھ آبائی جائدادپر ہی مالی انحصارتھااور ساری عمراسی پرہی قانع رہے اورکبھی حصول مال وزرکی خواہش قریب نہ پھٹکنے دی جب کہ بعض روایات کے مطابق آپ کپڑے کی تجارت بھی کیاکرتے تھے لیکن علم حدیث کوکبھی کسب معاش کاذریعہ بناناگوارانہ کیا۔علم حدیث میں اتنے بڑے مرتبے کے باوجودساری عمرکبھی کوئی سرکاری عہدہ قبول نہ کیاتھا۔آسمان حدیث کایہ ماہتاب 25رجب المرجب 261ھ اتوارکی شام اپنے مالک حقیقی سے جاملا،اناللہ واناالیہ راجعون۔نیشاپورمیں ہی آپ کوسپردخاک کردیاگیا۔آپ کی کتب ہمیشہ آپ کو امت مسلمہ کے ہاں زندہ رکھیں گے اور حدیث نبویﷺ کے استعارے کے ساتھ آپ کوکبھی موت نہیں آئے گی،اللہ تعالی آپ کی مرقدانورکو نورسے بھردے اور اپنی جواررحمت میں مقام خاص عطاکرے،آمین۔

drsajidkhakwani@gmail.com


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
71604