Chitral Times

Apr 21, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا بنے گا پاکستان کا – تحریر: سید عطاواللہ جان عسکری

Posted on
شیئر کریں:

کیا بنے گا پاکستان کا – تحریر: سید عطاواللہ جان عسکری قسط نمبر ٢

قیام پاکستان  سے لیکر اب تک پاکستانی عوام  اس ملک کو ایک فلاحی اور ترقی یافتہ ملک دیکھنے تمننادل میں لیے ایک طویل عرصہ گزارا ہے۔ لیکن ہر انے والا حکمران کی کاردگی کو مد نظر رکھتے ہوۓ یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے بقول ایک شاعر کہ،
لُٹیروں نے جنگل میں شمع روشن کئے
مسافر سمجھا کہ منزل یہی ہے ۔
ہر انے والا حکمران کو ہم نے گفتار کے غازی پایا لیکن کار کردگی کے لحاظ سب کو چور اورقوم کو مایوس دیکھنا پڑا ۔کسی نے ملک کی نا گفتبہ صورت حال کی زمہ داری پیچھلے حکومتوں  پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیا، توکسی نے حکومت کی مدت پوری نہ ہونے کا رونا رویا ـ لیکن دونوں صورتوں میں ایک بات  مشترک ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے اوپر کرپشن کے کیسسز کھلنے معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں لگے رہے ـ فوجی امروں نےاس ملک پر چار مرتبہ مارشل لاء کا نفاذ کرکے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ شب و خون ماراـ جس کی وجہ سےملک کے اندر جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاـ
ایک لمحے کے لیے ملک کی اس صورت حال کا طائرانہ جائزا لیا جاۓ تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس ملک کو اس قدر دوالیہ پن سے دوچار کرنے کے ذمہ دار  کون ہیں ـ وہ کون ہیں جو ہمارے مقتدر اداروں کو اس قدر اُکساتے ہیں کہ وہ بار بار اس ملک کے ائین کو اپنے بوٹوں تلے روندتے چلے جاتے ہیں ـ وہ کون لوگ ہیں کہ اس ملک میں جمہوری نظام کا قیام ان کی انکھوں کو کھٹکتی ہے ـ وہ کون لوگ ہیں جو ہمیں اپس میں لڑواتے رہتے ہیں کبھی فرقہ واریت کے نام پر خون خرابہ تو کبھی ہم کو افغانستان کی جنگ میں دھکلتے رہے ـ کیا اس ملک کو کراۓ کے قاتلوں کے لیے ایک اڈہ جیسا بنایا گیاتھا ـ کیا اس ملک کی اپنی کوئی حیثیت نہیں تھی کہ اپنا فیصلہ خود کرسکےـ اس ملک کی عمر اب 75 سال سے گذر رہی ہے ـ لیکن اج تک ہم اپنے دشمن کو نہ چاہتے ہوۓ بھی مسلسل خوش اور ہر حکم کی تعمیل کرنے میں گزارے ہیں ـ کیوں؟ کیونکہ ہم مادہ پرستی میں اس قدر حد سے بڑھ چکے ہیں کہ ہم اپنی اصلیت کھو بیٹھے ہیں ـ ہم محسوس کرنے لگتے ہیں اور ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ ہم بھوکے ہیں اور
امریکہ ہمیں روٹی کھیلاتا ہےـ ہمیں شروع سے اس بات کا خوف رہا ہے کہ اگر امریکہ اور ائی ایم ایف ہماری مدد نہ کرے گی تو ہم ذندہ نہیں رہ پائیں گے ـ
 بحثیت مسلمان کیا یہ بات ہمیں ذیب دیتا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کی ذندگیوں کا سودہ  کسی غیر مسلموں کے ہاتھوں غلام چھوڑ کر جائیں اور  نسل در نسل  ان کی غلامی کرتی رہیں ـ اگر یہی مقصد ذندگی ہے تو کدھر گیا ھمارا عقیدہّ توحید ؟ کدھر گیا ھماری ناموس رسالت ؟جب ہم سنت رسول پر یقین رکھتے ہیں تو اپنی پیٹ پر پتھر کیوں نہیں بھاند دیتے ـ کس قدر ہم بے حس ہو گیے ہیں  ـ
بقول اقبال کہ”خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے مفلس
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد”ـ

شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71565