Chitral Times

Feb 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حکومتی اقدامات اورغذائی قلت – میری بات ; روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

حکومتی اقدامات اورغذائی قلت – میری بات ; روہیل اکبر

مہنگائی،بے روزگاری اور غذائی قلت ہمارے سب سے بڑے معاشرتی مسائل ہیں اگر ان کو حل نہ کیا جائے تو پھر ان سے جڑے سینکڑوں مسئلے پیدا ہوتے ہیں پاکستان میں کسی بھی چیز کی قیمت ایک جگہ رکتی نہیں بلکہ بڑھتی رہتی ہے ابھی ایک دن پہلے وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے پہلے پیٹرول کی قیمتیں بڑھی اب بجلی کی بڑھیں گی تو اس سے مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان آئے گا حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے جون تک گھریلو صارفین کیلئے بجلی 7 روپے فی یونٹ تک مہنگی کرنی ہیں اور مارچ 2023سے برآمدی شعبے اور کسانوں کیلئے بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کے ساتھ ساتھبرآمدی شعبے کیلئے بجلی پر 12روپے 13 پیسے فی یونٹ کی سبسڈی بھی واپس لے لی جائے گی اس طرح جون 2023تک بجلی صارفین سے تقریبا 250ارب روپے اکھٹے ہونگے اس کے علاوہ 3روپے 39پیسے فی یونٹ کا سرچارج بھی لگے گا جون تک سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں اضافے سے 73ارب روپے حاصل ہوں گے

 

کسان پیکچ کے تحت بجلی پر سبسڈی ختم ہونے سے 14ارب روپے حکومت کو زائد ملیں گے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب ہو گا کیا ایک تو اشیاء کی قیمتیوں میں اضافہ ہوگا دوسرا کسان اپنے ٹیوب ویل بند کردینگے اور فصلوں کی پیداوار کم ہو جائیگی جسکے بعد غذائی قلت پیدا ہوسکتی ویسے تو اب بھی ہمارے ہاں غذائی قلت 8.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اوپر سے آبادی میں بے قابو اضافہ غذائی تحفظ کو متاثر کر رہا ہے آبادی کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں بڑی ریاست ہونے کے ناطے ملک کو غذائی عدم تحفظ کے بارے میں سنگین خدشات کا سامنااس لیے بھی ہے کہ نئی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی تعمیرات سے زرخیز زمین ختم ہونے لگی ہے جسکے باعث گزشتہ آٹھ سالوں میں 17 ملین افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں ہمارے حکمرانوں اور ماہرین کوچاہیے کہ وہ زرعی شعبے کو جدید بنانے اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائیں کیونکہ اس وقت پاکستان کوجو آبادی کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں بڑی ریاست ہونے کے ناطے مختلف وجوہات کی بنا پر غذائی عدم تحفظ کے بارے میں سنگین خدشات کا سامنا ہے 220 ملین سے زائد آبادی کے ساتھ لوگوں کو کھانا فراہم کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے کیونکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی محدود وسائل پر دباؤڈالتی ہے اور خوراک کی طلب پیدا کرتی ہے جو سپلائی سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں غذائی عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے جو پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بڑی تشویش ہے

 

کسی بھی ملک کا غذائی تحفظ خوراک کی دستیابی اور استعمال پر منحصر ہے اور پاکستان میں آبادی میں بے قابو اضافہ غذائی تحفظ کے تینوں پہلوں کو متاثر کر رہا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب ہے کہ رہائش اور زراعت کے لیے زیادہ زمین کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں زرخیز زمین ختم ہو جاتی ہے اور خوراک کی پیداوار کے لیے دستیاب رقبہ کم ہو جاتا ہے اس سے خوراک کی پیداوار میں کمی اور بازار میں خوراک کی قلت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور پھر کھانے کی زیادہ مانگ قیمتوں کو بھی بڑھاتی ہے جس سے غریب اور کمزور آبادی کے لیے خوراک تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے اور ہمارے ہاں زراعت کے لیے مناسب انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی، پانی اور کھاد بھی پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے کسانوں کو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مناسب مقدار میں خوراک پیدا کرنے کے لیے ضروری وسائل تک رسائی بھی نہیں ہے ابھی حال ہی میں عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سپلائی چین میں رکاوٹ کے نتیجے میں 45 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے کیونکہ کل آبادی میں غذائی قلت کا پھیلاو 17 فیصد تک پہنچ چکا ہے.

 

کچھ اسی طرح کی صورتحال 2014 میں بھی تھی اس وقت غذائی قلت 1 فیصد سے بڑھ کر 8.7 فیصد تک پہنچ گئی تھی گزشتہ آٹھ سالوں میں 17 ملین افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں یہاں ایک بات کو ہمیں بغور سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک پاکستان میں غذائی تحفظ نہ ہوتب تک قومی سلامتی کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی کیونکہ جب کھانے کو نہیں ملے گا تو پھر بھوک کو ختم کرنے کے لیے چور بازاری کا سہارا لیا جاتا ہے جس سے معاشرہ عدم استحکام کا شکار تو بنتا ہی ہے ساتھ ہی لاقانونیت اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور جدید کاری کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کی طرف فوری توجہ دے اور اس سلسلہ میں حکومت کو خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کوبجلی مہنگی دینے کی بجائے انکے لیے آسانیاں پیدا کرے اور نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لیے مدد فراہم کرنا، کریڈٹ اور دیگر وسائل تک رسائی فراہم کرنا اور سامان کی نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کر کے حکومت خوراک کی مجموعی فراہمی کو بڑھانے اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے حکومت ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ خوراک کی پیداوار بڑھانے کے لیے پائیدارزراعت کے طریقوں کو فروغ دے جس میں فصلوں کی گردش، انٹرکراپنگ، اور نامیاتی کھادوں کے استعمال جیسے عمل کو نافذ کرنا شامل ہو سکتا ہے ان طریقوں سے نہ صرف خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وسائل کے تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔


شیئر کریں: