Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٓآسمان ادب کا درخشندہ ستارہ – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ٓآسمان ادب کا درخشندہ ستارہ – محمد شریف شکیب

ٓلطیف جذبات کے ترجمان، نامور شاعر، ادیب، ڈرامہ نویس اور نثر نگار امجد اسلام امجد 78سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ دھڑکتے دلوں کی ترجمانی کرنے والے امجد کی اپنی دھڑکنیں اچانک رک گئیں۔ان کے لکھے گئے پاکستان ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ان کے ڈرامے وارث، دن، فشار، دہلیز، سمندر اور دن نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ امجد اسلام نے 70کتابیں لکھیں جن میں ”برزخ، عکس، ساتواں در، فشار، زرا پھر سے کہنا، وارث، آنکھوں میں تیرے سپنے، شہر در شہر، پھر یوں ہوا اور یہیں کہیں“ بہت مشہور ہوئیں۔امجد اسلام امجد کو ان کی خوبصورت شاعری اور ڈرامہ نگاری پر پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز کے قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں پانچ مرتبہ پی ٹی وی کے بہترین رائٹر اور سولہ مرتبہ گریجویٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

اپنے قارئین کے لئے امجد اسلام کے چند اشعار درج کر رہا ہوں جن سے ان کی فکر کی بلندی اور لطیف جذبات کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے، کہتے ہیں۔وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں۔دل بے خبر میری بات سن۔ اسے بھول جا۔اسے بھول جا۔۔میں تو تم تھا تیرے دھیان میں، تیری آس، تیرے گمان میں۔۔صبا کہہ گئی میرے کان میں، میرے ساتھ آ۔ اسے بھول جا۔۔جو بساط جان ہی الٹ گیا، وہ جو راستے میں پلٹ گیا۔۔اسے روکنے سے حصول کیا۔اسے مت بلا، اسے بھول جا۔۔کہاں آ کے رکنے تھے راستے، کہاں موڑ تھا، اسے بھول جا۔۔وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا، اسے بھول جا۔“زمانے کے لوگوں کے رویے کا شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”حیرت سے سارے لفظ اسے دیکھتے رہے۔باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا۔امجد کو دور جدید میں سچی محبتوں کا شاعر مانا جاتا ہے۔ اپنی ایک نظم میں اس کا اظہار یوں کرتے ہیں۔”اگر کبھی میری یاد آئے، تو چاند راتوں کی نرم دل گیر روشنی میں، کسی ستارے کو دیکھ لینا، اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آگرے تو، یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا۔۔ اگر نہ آئے۔ مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو، تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے، اور وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے“

amjad islam amjad a famous poet of Pakistan

امجد اسلام کا ماننا تھا کہ ’محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا۔وفا کی سرزمینوں میں موجود بے سکونی کا نہایت لطیف انداز میں امجد نے یوں تذکرہ کیا ہے”محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدر ت نے رکھا ہے۔یہ جتنی بھی پرانی، جتنی بھی مضبوط ہوجائے، اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے۔ یقین کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو، نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو، ہزاروں طرح سے دلکش، حسین جالے بناتی ہو، اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے۔ محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی، کہ جیسے طفل سادہ شام کو ایک بیج بوئے،اور شب میں بار ہا اٹھے، زمین کو کھود کر دیکھے، کہ پودا اب کہاں تک ہے۔محبت کی طبیعت میں عجب تکرار کی خو ہے، کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی،بچھڑنے کی گھڑی ہو، یا کوئی ملنے کی ساعت ہو۔ اسے بس ایک ہی دھن ہے، کہو مجھ سے محبت ہے؟کہو مجھ سے محبت ہے؟

 

محبت کی مزید تشریح کرتے ہوئے امجد اسلام کہتے ہیں کہ ”محبت ایسا نغمہ ہے، زرا بھی جھول ہو، لے میں، تو سر قائم نہیں ہوتا، محبت ایسا شعلہ ہے، ہوا جیسی بھی چلتی ہو، کبھی مدھم نہیں ہوتا، محبت ایسا رشتہ ہے، کہ جس میں بندھنے والوں کے، دلوں میں غم نہیں ہوتا، محبت ایسا پودا ہے، جو تب بھی سبز رہتا ہے، کہ جب موسم نہیں ہوتا،محبت ایسا دریا ہے، کہ بارش روٹھ بھی جائے، تو پانی کم نہیں ہوتا۔“ وہ اپنے دور کے عظیم شعرا فیض احمد فیض، احمد فراز، جون ایلیا، پروین شاکر، حبیب جالب،منیر نیازی اور ناصر کاظمی کا ہم نوالہ و ہمنوا تھا۔ تاہم ان کی شاعری میں عام انسانوں کے احساسات کی عکاسی ہوتی تھی ان کے اشعار پڑھ کر ہر شخص کو یوں لگتا ہے کہ شاعر نے اس کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ ان حسین جذبات کا شاعر اب ہم میں نہیں رہا۔لیکن ان کی خوبصورت تخلیقات اور گداز احساسات ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71427