Chitral Times

May 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پرویز مشرف : گلگت بلتستان اور چترال – شاہ عالم علیمی 

شیئر کریں:

پرویز مشرف: گلگت بلتستان اور چترال – شاہ عالم علیمی

 

اس بات سے قطع نظر کہ انھوں نے آئین شکنی کی مارشل لاء نافذ کردیا یا جو کچھ بھی لغزشیں پرویز مشرف سے ہوئیں ان کا گلگت بلتستان اور چترال سے خصوصی رشتہ تھا۔

پرویز مشرف گلگت بلتستان اور چترال کو اپنا دوسرا گھر کہتے تھے اور وہاں کے لوگ ان کو محسن مانتے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں۔ دراصل انھوں نے ان علاقوں میں خصوصی ذاتی دلچسپی سے بہت زیادہ ترقیاتی کام کروائے۔

جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے دور میں پچھلے تمام ادوار کی نسبت سب سے زیادہ کام ہوئے وہ محض سیاسی بیان بازی کررہے ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

جبکہ ان علاقوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ واضح ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں واقعی پچھلے ادوار کی نسبت زیادہ کام ہوئے۔

چھوٹے موٹے پراجیکٹس کو نظرانداز کردیں تو میگا پراجیکٹس میں گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹی کا قیام،  گلگت سے چترال تک ہائی وے کا قیام گلگت کے مضافات میں بڑے پن بجلی گھر کا  قیام (جہاں مزدوری کرکے میں نے کالج پڑھنے کی کوشش کی)  اور سب سے اہم چترال کے لئے لواری ٹنل کا قیام  ہمیشہ ان کے نام کے ساتھ یادگار پراجیکٹس کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

پرویز مشرف کا بحیثیت چیف آف آرمی سٹاف مارشل لاء کا نفاذ غلط ہوسکتا ہے،  جس پر ‘کارگل جنگ کے بیس سال’ کے عنوان سے کچھ سال قبل انھی صفحات پر میں نے خود نقد ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں میاں نواز شریف کے زیرقیادت پاکستان مسلم لیگ کی حکومت مثالی نہیں تھی۔

میاں نواز شریف اس زمانے میں مذہب کو استعمال کرکے خود کو امیر المومنین کہلوانے کے درپے تھے۔ جبکہ دوسری طرف امریکی صدر کو اپنے مخالف بینظیر بھٹو کی شکایتیں لگوانے کے لئے ہر دوسرے دن ٹیلی فون کیا کرتے تھے۔ اگرچہ حالات آج بھی تبدیل نہیں ہوئے لیکن اس زمانے میں اخلاقیات سیاست خانے سے بھاگ چکی تھیں۔ نواز شریف بیغیر وردی کے امر تھے۔ سادہ الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں دھینگا مشتی کا راج تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں سیاست کبھی آسان نہیں رہی۔ اس کی وجہ ایک فی صد اشرافیہ کا نظام پر قبضہ اور ان کی من مانی ہے۔ جس طرح کے کے عزیز نے اپنی کتاب مارڈر آف ہسٹری میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ لیاقت علی خان آزادی سے پہلے ہی اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کے پیچھے تھے اور قائداعظم محمد علی جناح ان کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انھی باتوں کا تذکرہ  فاطمہ جناح نے قائداعظم پر اپنی کتاب میں کیا ہے۔

لیاقت علی کا ان لوگوں کے ساتھ مل کر قرارداد مقاصد پیش کرنا جو پاکستان کے قیام کے ہی مخالف تھے ان حالات کا پیش خیمہ تھا جو آج ہمارے سامنے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انھی لوگوں نے مذہب کے نام پر روڑے اٹکانے کی بھرپور کوشش کی۔ سیاست کا چلنا اور آئین کا بننا تو دور کی بات حالات ایسے ہوگئے کہ قیام پاکستان کا مقصد ہی مشکوک ہوگیا،  اور ان لوگوں کا مقصد ہی ایسے شکوک وشبہات پیدا کرنا تھا۔ انھی وجوہات سے ملک میں پہلی بار مارشل لاء لگادیا گیا۔

یہ بات الگ ہے کہ مذہب کو سیاست کے لئے استعمال کرکے یہ لوگ بھی اشرافیہ کے ساتھ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے اور آج ان کی تیسری نسل وزیر و کبیر بنے ہوئے ہیں جبکہ ستانوے فیصد غریب اکثریت کی حالت وہی 1947ء والی ہے۔

لہذا اس ملک کی تاریخ اور اشرافیہ کی سیاست کو سامنے رکھ کر پرویز مشرف جیسے امروں کو شک کا فائدہ دینا کوئی نامعقول بات نہیں ہوگی۔

1999ء کے اس زمانے کو سامنے رکھ کر اگر ہم گلگت بلتستان اور چترال کو دیکھیں تو ان علاقوں کے لئے بقول وہاں کے باسی مشرف رحمت کا فرشتہ تھے۔ آزادی سے لیکر 1999ء تک ان علاقوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ وہاں بدترین پسماندگی اور غربت پائی جاتی تھی۔

یہ مشرف ہی تھے جنھوں نے بلدیاتی نظام متعارف کرواکے وہاں مقامی سطح کے انتخابات کروائے۔ ان علاقوں کے تناظر میں دیکھیں تو پرویز مشرف سیاست دانوں سے کئی گنا بہتر جمہوریت پسند تھے۔

چونکہ میں برے کاموں پر بلا تخصیص تنقید کرتا رہتا ہوں تو اچھے کاموں کا اعتراف کرنا بھی مجھ پر فرض ہے چاہیے وہ کام کوئی بھی کرے اور اس مضمون کا مقصد پرویز مشرف کی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔

آج پرویز مشرف نہیں رہے۔ “ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکنا ہے”۔ غریب لوگ یہ یاد نہیں رکھتے کہ کون جمہوریت پسند ہے اور کون امریت پسند۔ غریب صرف اور صرف ایک چیز یاد رکھتا ہے وہ ہے کام۔

آج اگر لوگ مشرف کو یاد کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کا غربت کم کرنا، ملک میں سرمایہ کاری لانا اور غریبوں کو فوقیت دینا ہے۔

مشرف نے اپنے آخری خطاب میں جو آخری جملہ استعمال کیا تھا آج کے حالات کو دیکھ کر،  اور بقول وزیر مالیات،  وہ بالکل سچ ثابت ہوا ہے یعنی____”پاکستان کا خدا حافظ”۔

آج مقتدر قوتوں بمثل جنرل اور سیاست دانوں کو میر کا یہ شعر یاد رکھنا چاہئے؛
جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاج وری کا                کل اس پہ یہی شور ہے پھر نوحہ گری کا

 

 


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71347