Chitral Times

Apr 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محبتوں کی ماں ۔ تحریر:عاقبہ بتول

Posted on
شیئر کریں:

محبتوں کی ماں ۔ تحریر۔عاقبہ بتول

ہمارے معاشرے میں گھر سے بھاگ کر شادیوں کا رواج عام ہے اس طرح کی شادیاں نہ صرف ناکام ہوتی ہیں بلکہ بری طرح مسائل کا شکار بھی ہو جاتی ہیں ہماری عدالتوں میں طلاقوں کے حوالہ سے جتنے بھی کیس زیر سماعت ہیں ان میں سے اکثریت لو میرج اور گھر سے بھاگنے کے بعد شادیوں کے ہی ہیں اس حوالہ سے ایک سبق آموز قصہ لکھ رہی ہوں شائد کہ کسی کے دل میں میری بات اتر جائے اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا فیصلے سے اپنے بوائے فرینڈ کو آگاہ کیا وہ خوشی سے چلایا یہ ہوئی نہ محبت گھر سے بھاگنے کے لیے پچھلی رات کا وقت طے پا گیا سکول کالج یونیورسٹی اسکی ساری تعلیم مکمل ہو چکی تھی بس آخری سمیسٹر کا رزلٹ آنا باقی تھا آجکل اسے کوئی کام بھی نہیں تھا سوائے بوائے فرینڈ کے ساتھ فون پر لمبی چوڑی خوش گپیاں کرنے کے یونیورسٹی میں وہ کسی کو دل دے بیٹھی تھی محبت کر بیٹھی تھی روگ لگا بیٹھی تھی پچھلے کچھ دنوں سے اسکا بوائے فرینڈ اسے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے پر قائل کر رھا تھا محبت کے واسطے لمبی چوڑی دلیلیں گھڑ رہا تھا اپیلیں کر رہا تھا وہ بالکل پاگل ہو چکی تھی ویسے بھی تو ماں باپ نے بھی میری شادی کرنی ہی ہے تب بھی تو مجھے گھر چھوڑنا ہی ہے ویسے بھی اب میں میچور ہوں

 

اعلی تعلیم یافتہ ہوں عاقلہ بالغہ ہوں اپنے فیصلے خود کر سکتی ہوں اور بھی وہ لڑکا میری محبت ہے میں والدین کو بتا بھی دوں تو بھی وہ میری شادی اس سے کبھی نہیں ہونے دینگے کیونکہ وہ تو میرے لیے میرے کزن کو پسند کرتے ہیں اس نے گھر سے بھاگنے کا بڑا فیصلہ کر لیا اورگھر سے بھاگنے کے لیے پچھلی رات کا وقت طے پا گیا وہ چوری چھپے اپنے چند ضروری کپڑے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیگ میں پیک کر کے مقررہ وقت کا بے چینی سے انتظار کرنے لگی اس دوران بوائے فرینڈ کی کال آ گئی کہنے لگا ماں نے کوئی زیور شیور بھی بنایا ہو گا وہ بھی ہاتھ میں کر لو مشکل وقت میں کام آئیگا اچھا کچھ کرتی ہوں اسے پتہ تھا کے ماں نے اسکے لیے سونے کے زیورات بنا رکھے ہیں وہ ماں کے کمرے سے زیورات نکالنے کی ترکیب سوچنے لگی وقت بہت کم تھا وہ جیسے ہی ماں کے کمرے کی طرف بڑھی ماں کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آگئی ایک لمحے کے لیے وہ ماں کو سامنے دیکھ کر سکتے میں چلی گئی میری شہزادی اتنی رات گئے تم جاگتی پھرتی ہو اور یہ تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو وہ ہی تو بتانے آ رہی تھی رات لیٹ فون آیا تھا یونیورسٹی والوں نے ایمرجنسی کچھ کام سے بلایا ہے میری کچھ دوست بھی جا رہی ہیں آپ سو رہی تھیں ڈسٹرب نہ ہوں اس لیے آپکو اس وقت نہیں بتایا اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے جھوٹ گھڑ دیا تھااچھا تم میرے کمرے میں ہی بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ بنا کر لاتی ہوں ماں کچن میں چلی گئی وہ ماں کے کمرے میں داخل ہوئی بہت اچھا موقع مل گیا ہے اس نے یہ سوچتے ہوئے جلدی سے پیٹی کا دروازہ کھولا تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے لیے بنے لال رنگ کے بہت پیارے لہنگے پر پڑی جو اسکی ماں نے خاص طور پر شادی والے دن کے لیے اسکی پسند سے بنوایا تھا

 

ماں اکثر کہتی رہتی تھی جب میری بیٹی اسے پہن کر دلہن بنے گی شہزادی لگے گی شہزادی ایک سے بڑھ کر ایک اچھا سوٹ بہترین بستر ڈنر سیٹ ٹی سیٹ اور نہ جانے کیا کیا سامنے آ رہا تھا بہت سی قیمتی اور خوبصورت چیزیں تو ایسی تھیں جو ماں نے چوری چوری بنا رکھیں تھیں جنکا علم اُسے آج ہو رہا تھا چیزیں الٹ پلٹ کرتے کرتے آخر زیورات اس نے ڈھونڈ ہی نکالے لیکن اسکا دل و دماغ چکرا کر رہ گیا تھا زیورات اس سے اٹھائے نہیں جا رہے تھے اس نے کمرے میں نظریں دوڑائی تو دیکھا فریج مشینیں برتن سب کچھ اسکے لیے رکھا پڑا تھا ایک ماں کے کمرے میں ایک دلہن کے کمرے میں ایک دلہن کا مکمل سامان پڑا تھا ضمیر نے اسے جھنجوڑا وہ سوچوں میں گم گئی ماں کی کوکھ سے جنم لینے سے لیکر اب تک ماں باپ نے میرے لیے کیا نہیں کیا کھانا پینا پہناوا پڑھائی لکھائی چھوٹی بڑی سب خواہشات اپنا خون پسینہ ایک کر کے سب ادھورا پورا کیا میرے اگلے گھر کا سامان تک بنا دیا اور میں بے فیض بے وفا کیا کرنے جا رہی ہوں گھر سے بھاگ کر اپنے ماں باپ کو خود مارنے جا رہی ہوں محبت کا سمندر گھر میں ہے اور میں محبت کا دریا سر کرنے جا رہی ہوں اسکی آنکھیں بھیگ گئی اسے اپنی اعلی تعلیم اپنی حماقتوں پر خوب رونا آ رہا تھا .

 

اس دوران ماں آ گئی یہ لو میری شہزادی اپنا پسندیدہ پراٹھا کھاؤ اتنا سفر ہے یونیورسٹی کا میری شہزادی کو بھوک لگ جاتی ویسے بھی آخری دفعہ یونیورسٹی جا رہی ہو سکول سے لیکر کالج یونیورسٹی تک تیری ماں نے آجتک تجھے بغیر ناشتے کے نہیں بھیجا آج اگر تو بغیر ناشتے کے چلی جاتی تو تیری ماں کو مرتے دم تک اس بات کا دکھ رہتا ماں کی بات سن کر بے اختیار وہ ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ماں نے ماتھا چوم کر آنسو صاف کرتے ہوے پوچھا میری شہزادی کیوں رو رہی ہے وہ نظریں چراتے ہوئے کہنے لگی ماں مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟ یہ بھی کوئی بات ہوئی اب ماں سے بڑھکر بھی بھلا کوئی محبت کر سکتا ہے؟اس دوران اسکے موبائل کی گھنٹی بار بار بجنے لگی اس نے کال کاٹتے ہوئے میسج لکھا سوری میں نہیں آ سکتی اور کبھی نہیں آ سکتی کیونکہ مجھے میری محبت میرے گھر سے ہی مل گئی ہے۔یہ بات نہ صرف لڑکیوں کو بلکہ لڑکوں کو بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ جو ماں کی محبت ہوتی ہے نا یہ محبتوں کی ماں ہوتی ہے اور والدین اپنے بچوں کے لیے دلہن والا لہنگا، دلہے والی شیروانی ہروقت تیار رکھتے ہیں اسے منہ کالا کر کے کورٹ کچہریوں میں پہننے کی بجائے اپنے ماں باپ کے گھر سے ہی پہنا کرو کیونکہ تم پر انکا حق ہے جو بالکل برحق ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71314