Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوامی لیڈر اور موسمی لیڈر- تحریر عبد الباقی چترالی

Posted on
شیئر کریں:

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا – عوامی لیڈر اور موسمی لیڈر- تحریر عبد الباقی چترالی

عوامی لیڈر اور موسمی لیڈر میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔عوامی لیڈر کیسی عوامی عہدے میں ہو یا نہ ہو وہ ہر وقت اپنے حلقے کے عوام کی مسائل حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوتا ہے۔عوامی لیڈر اپنا وقت عوام کی خدمات کے لئے وقف کرتا ہے۔وہ عوام کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔عوامی لیڈر اپنے حلقے کے عوام سے جھوٹے وعدے اور دعوے نہیں کرتا ہے۔بلکہ وہ عملی طور پر عوام کے مسائل حل کرنے اور مشکلات دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جبکہ موسمی لیڈر کا عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتا۔وہ عوام کے مسائل سے بے خبر ہوتا ہے۔موسمی لیڈر صرف انتخابات کے موقع پر منظر عام پر آتا ہے۔

 

موسمی لیڈر سادہ لوح غریب عوام کو جھوٹے وعدوں اور دل خوش کن نعروں اور جذباتی تقریروں سے متاثر کر کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔انتخابی رزلٹ آنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے حلقے میں نظر نہیں آتا۔

 

موجودہ عوامی نمائندے اپر چترال میں بجلی کے مسائل کو نظر انداز کر کے خود کو موسمی لیڈر ثابت کیے ہیں۔گزشتہ چار سالوں سے یو سی کوہ اور اپر چترال کے عوام کی زندگیاں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اجیران ہو گئے تھے۔اپر چترال کے عوام بجلی سے محروم ہو کر تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔اپر چترال اور یو سی کوہ کے عوام بجلی کے اس سنگین مسئلے کی طرف کئ بار عوامی نمائندوں کی توجہ دلانے کے باوجود اپر چترال میں بجلی کے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔جبکہ سابقہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین اس وقت کسی عوامی عہدے کے بغیر وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اداروں کی سربراہوں کے ساتھ کامیاب مزکرات کر کے چند روز کے اندر اپر چترال کے بجلی کے مسئلے کو حل کر کے حقیقی عوامی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔جو کہ مبارک باد کے مستحق ہے۔

 

دو ہزار اٹھارہ میں شہزادہ افتخار کے کوششوں سے کوہ یو سی اور اپر چترال کے عوام کو گولین گول بجلی گھر سے بجلی کی فراہمی ممکن ہوئی تھی۔مگر بعد میں آنے والے پی ٹی آئی کی حکومت اپر چترال اور یو سی کوہ کے عوام کو بجلی کی سہولت سے محروم کر دیا۔

پی ٹی آئی کی چار سالہ حکومت میں یو سی کوہ اور اپر چترال کے عوام بجلی کے سنگین مسائل سے دوچار رہے۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ختم ہوتے ہی یو سی کوہ اور اپر چترال میں بجلی کا مسئلہ بحال ہوا۔پی ٹی آئی کی حکومت یو سی کوہ اور اپر چترال کے عوام کے لئے سیاہ اور تاریک ثابت ہوئے۔

 

سابقہ ایم این اے لواری ٹنل اور گولین گول بجلی گھر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔شہزادہ افتخار الدین کی کوششوں کے نتیجے میں سابقہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورے حکومت میں گولین گول اور لواری ٹنل کے نامکمل منصوبوں کے لئے اربوں روپے کا فنڈ جاری کر کے پایا تکمیل کو پہنچا کر کار ہائے نمایاں انجام دئیے۔

 

سابقہ ایم این اے کی کوششوں سے سابقہ وزیراعظم کئ بار چترال کا دورہ کیا۔چترال کے پسماندہ گی دور کرنے اور عوام کے معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے کئی اہم منصوبوں کا اعلان کیا۔جس میں گیس پلانٹ کا بھی منصوبہ شامل تھا۔گیس پلانٹ منصوبے کے لئے لوئیر چترال میں زمین بھی خریدی گئی تھی۔بعد میں آنے والے پی ٹی آئی کی حکومت نہ صرف گیس پلانٹ منصوبے کو ختم کیا بلکہ کئی منظور شدہ منصوبوں کے فنڈز روک کر چترال جیسے پسماندہ ضلع کے عوام کو ترقی سے محروم کر کے چترالی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا۔سابقہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے ایک بار بھی اس پسماندہ ضلع کی سرکاری دورہ کرنے کی زخمت گوراہ نہیں کئے۔
سابقہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین اس وقت کسی عوامی عہدے کے بغیر عوام کے مسائل حل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔عوام کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے کئ عوامی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ایسے بے لوث خدمت انجام دینے پر شہزادہ افتخار الدین کا ماضی شاندار اور سیاسی مستقبل روشن ہوا ہے۔اور مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے موسمی لیڈروں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔

 

عوامی نمائندے کے پاس سیاسی بصیرت،اہلیت،صلاحیت اور عوام کے مسائل حل کرنے کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔موجودہ سیاسی نمائندے درجہ بالا ان خوبیوں سے عاری ہیں۔اب چترالی عوام بھی ان موسمی لیڈروں کی کارکردگی سے واقف ہو گئے ہیں۔انتخابات کے موقعے پر ہم چترالی عوام موسمی لیڈروں کے جھوٹے وعدوں،دل خوش کن نعروں اور جذباتی تقریروں سے متاثر ہو کر اہل،قابل،باصلاحیت اُمیدواروں کو نظر انداز کر کے نا اہل افراد کو اپنے نمائندے منتخب کر کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں۔جو عوام کے مسائل حل کرنا درکنار اپنا گھریلو مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔

 

اب عوام کو گزرے ہوئے مشکل حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی لیڈر اور موسمی لیڈر میں فرق کرتے ہوئے رشتہ داری،برادری،علاقائیت اور پارٹی وابستگی سے بالا تر ہو کر امیدوار کی قابلیت،صلاحیت اور اہلیت کو مدنظر رکھ کر خدمات اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنے حق رائے دہی استعمال کرنا چاہیے۔اور آنے والے نسلوں کی مستقبل روشن بنانا چائیے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71285