Chitral Times

Apr 15, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – ” ہم قرض کس لۓ لیتے ہیں “ –  محمد جاوید حیات 

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان – ”ہم قرض کس لۓ لیتے ہیں “ –  محمد جاوید حیات

چند دن پہلے پشاور بی آر ٹی میں سفر کر رہا تھا کہ ایک نوجوان سے ایک بوڑھے نے پوچھا بیٹا !اس بی آر ٹی سے حکومت کو کوٸی فاٸدہ ہوتا ہے کہ نہیں؟۔ اس نوجوان نے اپنی معلومات جتانے کے انداز میں کہا بابا ! روزانہ ہزاروں لوگ اس میں سفر کرتے ہیں ۔۔بوڑھا خاموش ہوگیا ۔میں ویسے بھی خاموش تھا پھر میری سوچوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ۔یہ موٹر وے ، یہ ٹول ٹیکس ، یہ سیاحت اس پہ ٹیکس ،یہ انکم ٹیکس ، یہ بجلی، گیس ، پانی ۔۔۔ان کار خانوں پر ریوینیو ، یہ آمدن پر ٹیکس گنتی میں اور بھی کٸ مفروضے آۓ ۔برآمدات آۓ۔بیرونی سرمایہ کاری آٸی ۔۔۔یہ سب ریاست کی دولت ہیں اس کے خزانے میں جمع ہوتے ہیں ۔ریاست سڑکیں بناتی ہے لیکن اس سہولت کے لۓ لوگوں سے معمولی رقم جمع کرتی ہے ۔اس طرح بہت سارے زراٸع ہیں جو ریاست کی دولت ہیں یہ دولت ریاست کی ترقی اس کے باشندوں کی خوشحالی پہ نہایت دیانت داری سے خرچ ہوتی ہے ۔اس کے کارندوں کا ایک خاص معاوضہ مقرر ہوتا ہے کسی کو ناجاٸز فاٸدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی تب جاکے ریاست کے پاس اثاثہ جمع رہتا ہے۔

 

پیسہ گردیش کرتا ہے ۔ترقی آتی ہے ۔لوگ مطمٸن ہوتے ہیں ۔۔ہم نے سنا ہے کہ آٸی ایم ایف کا بظاہر منشور ہے کہ دنیا کا کوٸی ملک مالی لحاظ سے کمزور ہو تو اس کو دعوت دیتا ہے کہ میں تمہیں قرض دونگا تم اپنے پاٶں پر کھڑے ہوجاٶ ۔۔ایسا ملک اس کی شراٸط مانتا بھی نہیں کہتا ہے بس قرض دے دو اور مقررہ وقت پر واپس لے لو ۔میں ترقی کروں نہ کروں تمہارا مقروض نہیں بنوں گا ۔۔۔لیکن جو ملک فریاد لے کے اس کے پاس جاتا یے تو اس کی شراٸط آنکھیں بند کرکے ماننا پڑتا ہے اس لۓ کہ وہ وقت مقررہ پر قرضہ واپس کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔اس کے پاس کوٸی منصوبہ، کوٸی پلان اور کوٸی ترجیحات نہیں ہوتے ۔وہ قرض لیتا ہے اور اس سے ملک و قوم کو کوٸی فاٸدہ نہیں ہوتا اس کے بنیادی مساٸل حل نہیں ہوتے اس لۓ اس جال میں پھنسنا ہوتا ہے یہ وہ بدقسمت ملک ہوتا ہے جو کشکول لے کے پھرتا ہے ۔آٸی ایم ایف کے سامنے ہاتھ جوڑنا پڑتا ہے ۔۔ہمارے بڑے ایسا کرتے ہیں ۔۔ہمارے ملک میں عیاشیاں اس حد تک ہیں کہ ہمارا ریوینیو ، ہماری آمدن اس طبقے کی شاہ خرچیوں کے لۓ کم پڑتے ہیں ۔

 

ہم نے آفت کے نام پہ مدد لی ۔دس ارب سے اوپر ڈالر آۓ ۔کورونا کے نام پہ اربوں ڈالر مدد آٸی ۔زلزلے کے نام پہ مدد آٸی ۔دوست ممالک نے انسانی ہمدردی دیکھاٸی لیکن سب سراپا سوال ہیں کہ ڈالرکہاں جاتے ہیں ۔اخراجات اور بحالی کا تقابلی جاٸزہ لیا کیوں نہیں جاتا۔۔عیاشیوں کو مد نظر کیوں نہیں رکھا جاتا ۔ملک کی روزمرہ آمدن اربوں میں ہے اگر اخراجات اس حد تک رکھے جاٸیں قناعت دیکھاٸی جاۓ ۔قوم بہت ساری سرگرمیوں کو فضولیات میں شمار کرتی ہے ۔یہ بے وقت الیکشن ، یہ دھرنے ، یہ جلسے جلوس ، یہ ہاٶ ہو قوم کے نزدیک فضولیات ہیں اس لۓ کہ ان سے کوٸی مساٸل حل نہیں ہوتے ۔قوم سراپا سوال ہے کہ اس سال کی آفت میں سیاسی لیڈروں نے بہت ڈھنڈورا پیٹا کہ یوں امداد آٸی۔ایک نشست میں اتنے روپے جمع ہوۓ ۔دوست ممالک نے یوں امداد دی لیکن ہمارا زخیرہ 3اعشاریہ 5 ارب رہ گیا ہم ڈیفالٹ کر رہے ہیں اللہ ہماری مدد فرماۓ ۔ ملازمیں کی تنخواہوں میں سے خاطر خواہ کٹوتی کی گٸی ۔لیکن مصرف کا پتہ نہیں

 

 

۔اب آٸی ایم ایف کی وفد سے ہمارے مذاکرات ہو رہے ہیں ۔بجلی کی قیمت زیادہ کرو مجال ہے کہ ہم نہ مانیں ۔تیل گیس کی قیمتیں بڑھاٶ ہم yes ہی کہہ سکتے ہیں ۔ملازمین کی تنخواہیں گھٹاٶ پنشن ختم کرو ہم جی سر ہی بولیں گے ورنہ قرض نہیں ملے گا۔ آٸی ایم ایف کی کیا پڑی ہے کہ اشرافیہ سے کہدے کہ اپنی عیاشیاں کم کرو ۔مافیاز پہ کنٹرول کرو۔اس کو کیا پڑی ہے کہ قیمتی گاڑیوں کو مفت پٹرول اور بجلی کی سہولت نہ دو ۔۔۔ اپنا ٹیکس نظام درست کرو ۔۔اگر بحیثیت قوم ہم میں قربانی کا جذبہ ہو تو ایک ہی رات میں سارے قرضوں سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ تنخواہ دار اپنی تنخواہ پیش کرے ۔اشرافیہ ایک دو دن کے لۓ اپنی عیاشیاں کم کرے ۔مفت خور عارضی طور پر مفت خوری سے توبہ کریں ۔آخر یہ ملک کس کا ہے ۔۔ہمیں شرم آنی چاہیۓ ۔۔مقروض کوٸی ایک فرد نہیں پورا پاکستان ہے ۔۔صدر وزیر اعظم مقروض ہیں فوج پولیس مقروض ہے پارلیمنٹرین مقروض ہیں ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے لیکن مقروض تو شرمندہ ہوتا ہے مقروض فکرمند ہوتا ہے مگر ہم ایسا کچھ نہیں ۔۔۔

 

آٸی ایم ایف اس لۓ قرض دیتا ہے کہ ہم اپنے مساٸل حل کریں ۔ ہمیں مساٸل کے حل کی پرواہ نہیں تو اس کی ماننا پڑے گا ۔۔افراد سے لے کر قوم تک قرض مجبوری میں لیا جاتا ہے ضرورت کے لۓ لیا جاتا ہے ۔پھر قرض اپنا پیٹ کاٹ کر ادا کیا جاتا ہے ۔چترالی میں ایک کہاوت ہے ” وام چھیار وامدار بریار “ بے شک قرض دار مر جاۓ لیکن اپنا قرض ادا کرکے مرے“ یعنی قرض کی اداٸیگی کے لۓ اگر جان قربان کرنی ہو تو کرے ۔مگر ہمارے قرض لینے کا انوکھا نداز ہے یہ انداز کہیں ہمارا نام و نشان مٹا نہ دے ۔۔اللہ ہمارے حال پہ رحم فرماۓ


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71281