Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مٹی کا بیٹا مٹی کے حوالے –  میری بات: روہیل اکبر 

Posted on
شیئر کریں:

مٹی کا بیٹا مٹی کے حوالے –  میری بات: روہیل اکبر

سب سے پہلے پاکستان کا حامی ملک کا محسن عوام کا غمخوار اور سرسید کا ہمسایہ پرویزمشرف اس مٹی کا بیٹا تھا جو اسی مٹی کے حوالے کردیا گیا مشرف وہ مرد آہن تھا جس نے آمر ہوتے ہوئے بھی بنیادی جمہوریت کا بہترین نظام دیا اور آزاد میڈیا کی بنیادرکھی اور تو اور مشرف کے تاریخی دور میں ہی ہم موبائل نیٹ ورک سے آشنا ہوئے ورنہ پی سی او سے 10روپے یونٹ بات کرنا اب شائد 50روپے یونٹ تک پہنچی ہوتی جنرل پرویز مشرف کشمیریوں کے بھی عظیم محسن تھے 2005کے خوفناک زلزلے کے بعد جس تیزی سے متاثرین زلزلہ کی بحالی اور آبادکاری کا کام انھوں نے کیا وہ ناقابل فراموش ہے بعد کی حکومتیں اس چلتے ہوئے کام کو بھی مکمل نہ کرسکیں اور باقی ماندہ کام آج تک نامکمل اور ادھورا ہے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جنرل پرویز مشرف کے اقدامات سے کشمیریوں کو براہ راست ریلیف ملا انٹرا کشمیر ٹریڈ، انٹرا کشمیر ٹریول اور ستر سال سے تقسیم شدہ خاندانوں کا ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر ایک دوسرے سے ملنا انکے عظیم کارناموں میں سے ایک ہے.

 

پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو دہلی برطانوی ہندوستان میں ایک اردو بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے انکے والد سید مشرف الدین اور ان والدہ بیگم زرین مشرف سرسید احمد خان کے ہمسایے بھی تھے پرویز مشرف کے پردادا تمباکو کے تاجر تھے جنہوں نے پیران شہر سے برصغیر پاک و ہند میں ہجرت کی تھی ان کا خاندان مسلمان تھا جو سید بھی تھے سید مشرف نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور سول سروس میں داخل ہوئے جو کہ برطانوی دور حکومت میں ایک انتہائی باوقار کیریئر تھا پرویز مشرف سرکاری افسران کی ایک لمبی قطار سے فوجی ملازمت میں داخل ہوا کیونکہ اس کے پردادا ٹیکس جمع کرنے کی ملازمت کیا کرتے تھے جبکہ ان کے نانا قاضی (جج) تھے مشرف کی والدہ زرین بیگم جو 1920 کی دہائی کے اوائل میں پیدا ہوئیں اور لکھنؤ میں پلی بڑھی وہیں اسکول کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے اندرا پرستھ کالج سے انگریزی ادب میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شادی کی تو اپنے آپ کو ایک خاندان کی پرورش کے لیے وقف کر دیا پرویز مشرف کے والد ایک اکاؤنٹنٹ تھے جنہوں نے برطانوی ہندوستانی حکومت میں فارن آفس میں کام کیا اور آخر کار اکاؤنٹنگ ڈائریکٹر بن گئے

 

پرویز مشرف تین بچوں میں دوسرے نمبر پر تھے روم میں مقیم ان کے بڑے بھائی جاوید مشرف ایک ماہر معاشیات ہیں اور انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں ان کے چھوٹے بھائی نوید مشرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست الینوائے میں مقیم ایک اینستھیزیولوجسٹ ہیں ان کی پیدائش کے وقت مشرف کا خاندان ایک بڑے گھر میں رہتا تھا جو ان کے والد کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جسے نہر والی حویلی کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے ”نہر کے ساتھ والا گھر” جہاں سر سید احمد خان کا خاندان بھی ساتھ ہی رہتا تھا جنرل پرویز مشرف ایک نامور پاکستانی فوجی افسر، سیاست دان اور پاکستان کے دسویں صدر تھے انہوں نے 1998 سے 2001 تک 10ویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور 1998 سے 2007 تک 7ویں چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں برطانوی راج کے دوران دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کی پرورش کراچی اور استنبول میں ہوئی

 

انہوں نے لاہور کے فارمن کرسچن کالج سے ریاضی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز سے بھی تعلیم حاصل کی مشرف نے 1961 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا 1964 میں پاکستان آرمی کی آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا مشرف نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کارروائی دیکھی اور 1980 کی دہائی تک وہ آرٹلری بریگیڈ کی کمانڈ کی 1990 کی دہائی میں مشرف کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور ایک انفنٹری ڈویژن تفویض کیا گیا بعد میں سپیشل سروسز گروپ کی کمانڈ کی ڈپٹی ملٹری سیکرٹری اور ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں 1998 میں وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر مسلح افواج کا سربراہ بنادیا بعد میں میاں نواز شریف اور مشرف کے درمیان کئی مہینوں کے متنازعہ تعلقات کے بعد میاں نوازشریف نے مشرف کو فوج کے سربراہ کے طور پر ہٹانے کی ناکام کوشش کی تو اس فیصلہ کو فوج نے قبول نہ کیا مشرف ابتدائی طور پر چیئرمین جوائنٹ چیفس اور چیف آف آرمی سٹاف رہے وہ 2007 میں ریٹائر ہونے تک آرمی چیف رہے

 

مشرف نے 2002 میں آئین کو بحال کیا ظفر اللہ جمالی اور بعد میں شوکت عزیز کو وزیر اعظم مقرر کیا اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کی نگرانی کی مشرف نے اپنے روشن خیال اعتدال پسند پروگرام کے تحت سماجی لبرل ازم کو آگے بڑھایا اور معاشی لبرلائزیشن کو فروغ دیا مشرف کی صدارت کے دوران مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا پرویز مشرف اپنے دور صدارت میں کئی قاتلانہ حملوں میں بچ گئے جب شوکت عزیز وزیر اعظم کے طور پر رخصت ہوئے اور 2007 میں عدلیہ کی معطلی کی منظوری کے بعد مشرف کی پوزیشن ڈرامائی طور پر کمزور ہوئی تو 2008 میں مواخذے سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے مشرف نے خود ساختہ جلاوطنی میں لندن ہجرت کی بعد میں پروزی مشرف 2013 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے وہ پاکستان واپس آئے لیکن ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے نواب اکبر بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ان کے اورشوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد انہیں اس میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا گیا.

 

2013 میں میاں نواز شریف کے دوبارہ منتخب ہونے پر انہوں نے مشرف کے خلاف ایمرجنسی کے نفاذ اور 2007 میں آئین کو معطل کرنے کے لیے سنگین غداری کے الزامات کا آغاز کیا مشرف کے خلاف مقدمہ 2017 میں نواز شریف کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بھی جاری رہا اسی سال جب مشرف کو دبئی منتقل ہونے کی وجہ سے بھٹو قتل کیس میں ”مفرور” قرار دیا گیا توغیر حاضری پرغداری کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا پرویز مشرف 5 فروری 2023 کو دبئی کے امریکن ہسپتال میں 79 سال کی عمر میں ایمیلائیڈوسس کے طویل کیس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے اللہ تعا لی سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور اہلخانہ سمیت تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71261