Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں ۔  اقرارالدین خسرو

شیئر کریں:

میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں ۔  اقرارالدین خسرو

یہ بچہ تنویر ضیاء جسکی عمر بمشکل بارہ تیرہ سال ہے ریشن کے ایک دوکان میں داخل ہوتاہے دوکاندار موجود نہیں تھا جسکی وجہ سے وہ باہر نکلتا ہے کچھ سوچ کے دوبارہ دوکان میں داخل ہوتا ہے وہاں سے ایک پرفیوم اور ایک گھڑی اٹھا کے باہر نکلتا ہے باہر کوئی شخص بچے کو دیکھ رہا تھااسے کیمرے میں محفوظ کرتا ہے۔ اچانک چور چور کا شور مچا کے بچے کو پکڑ لیتے ہیں آس پاس کے دوکاندار اکھٹے ہوتے ہیں پولیس کو بلایا جاتا ۔ مختلف دوکاندار دعویٰ کرنا شروع کرتے ہیں کوئی کہتا ہے ایک مہینہ پہلے میرے دس ہزار روپے چوری ہوے تھے کوئی کہتا ہے پندرہ ہزار کوئی کہتا ہے میرے گاڑی کا جیگ گم ہوگیا تھا یہ سارے الزامات تیرہ سالہ بچے کے اوپر لگاکے اسے مجرم ٹھرایا جاتا ہے زدوکوب کیا جاتاہے اتنے میں پولیس والے بچے کو اٹھاکر لے جاتے ہیں گرین لشٹ چوکی میں بند کیا جاتا ہے بچے کا باپ ریٹائرڈ صوبیدار ضیاء الحق کو بلایا جاتا مدعیان میں سے ایک شخص تو انتہا کرتا ہے کہ دو مہینہ پہلے میرا 80 کلو وزنی ترازو گم ہوگیا تھا اسے بھی اس نے چرایا ہوگا۔ جس کی قیمت 25 ہزار روپے تھی۔ معروف سماجی کارکن اور شاعر اسلم شیروانی اس وقت مداخلت بھی کرتا ہے کہ 80 کلو وزنی ترازو یہ بچہ کیسے اٹھا سکتا ہے ؟ بلآخر بچے کا باپ اپنی شرافت اور خاندانی عزت کے پیشِ نظر ساروں کے نقصانات کے ازالے کا وعدہ کرتا ہے

 

اسلم شیروانی صاحب ترازو کی قیمت 25 کے بجائے پانچ ہزار لگاتا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران ریشن میں کیے گیے چوری کے الزامات بچے پر لگائے جاتے ہیں بچے کا باپ نقصانات کے ازالے کا وعدہ کرکے صلح کرتا ہے ۔ بچے کو گھر لے جاتے ہیں گھر میں بچے کے ساتھ کوئی جھگڑا نہ کریں اسلیے بچے کا ماموں بھی ساتھ آتا ہے ۔ بچہ گھر میں رات گزارتا ہے صبح امی ناشتے کے لیے بچے کو بلاتی ہے بچہ ایک منٹ میں واپس آتا ہوں کہہ کر باہر نکلتا ہے سیدھا پرپیش گاوں کی طرف جاتا ہے امی گھر کے صحن میں بچے کو دیکھ رہی ہے اسے شک پڑتا ہے بھائیوں کو فون کرتا ہے کسی کا بھی نمبر نہیں لگتا بچہ پرپیش پل کے وسط میں جاکے کھڑا ہوجاتا ہے امی دیکھ رہی ہے امی ہاتھ ہلا کر واپس آنے کو کہتی ہے بچہ ایک نظر امی کی طرف دیکھ کے ایک ہاتھ ہلا کے چھلانگ لگاتا ہے خود کو دریاء کے بے رحم موجوں کے حوالے کرتا ہے ۔ امی بے بسی کی تصویر بنی دیکھ رہی ہے بچے کی لاش برنس میں برآمد ہوتی ہے اسے منوں مٹی تلے دفنایا جاتا ہے ۔ بچے کے سرہانے سے ایک رقعہ برآمد ہوتا ہے جس میں چھوٹی بہن کے نام لکھا ہوا ہے ۔

I love you my dear sister sorry ۔
معزز ناظرین یہ افسانہ یا کوئی فرضی کہانی نہیں دو دن پہلے رونما ہونے والا ایک ایسا واقعہ ہے جسے سن کے درندے بھی شائد کانپ اٹھے۔
اب یہاں میرے ذہہن میں چند سوالات ہیں۔ یعنی جتنے بھی لوگوں نے اس بچے پر چوری کا الزام لگایا ہے کیا ان کے پاس ثبوت موجود ہیں ؟
کیا ان لوگوں نے چوری شدہ اشیاء سے متعلق کوئی رپورٹ درج کروایا تھا ؟

ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے ۔ اب پولیس والوں سے میرا سوال ہے کہ جو مدعیان آپ کے پاس آئے تھے آپ نے ان لوگوں سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا کہ آپ کی چیزیں چوری ہوئی تھی آپ لوگوں نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کروائی تھی ؟ اس کے باوجود آپ نے محض جھوٹے الزامات کی بنیاد پر بچے کو ملزم سے مجرم کیسے ٹھرایا ؟

لہذا تیرہ سالہ تنویر نے خودکشی نہیں کی ہے اسے قتل کیا گیا ہے مگر مجھے نہیں معلوم تنویر کی بےبس امی جس کی آنکھوں کے سامنے اسکا بچہ قتل ہوا وہ کس کے ہاتھ میں اپنے بیٹے کا لہو تلاش کرے؟
قاتلوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں کیونکہ انہوں نے دستانے تو نہیں پہنے ہیں ۔ یہاں اہالیان ریشن سے بھی شکوہ ہے ریشن میں مہذب تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کی کمی نہیں انہوں نے اس مسئلے کو خوبصورتی سے ختم کیوں نہیں کیا؟

آخر میں یہ بتاتے ہوئے یہ مضمون مکمل تحقیقات اور عینی شاہدین کی آراء لینے کے بعد میں نے لکھا ہے اس بیچاری اور بے بس ماں کی طرف سے چائلڈ پروٹیکشن کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بچے کے قاتلوں کو بے نقاب کیا جائے اپر چترال انتظامیہ اور ڈی پی او اپر چترال کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے سب سے پہلے اپنے پولیس والوں سے ایکشن لینا چاہیے اس کے بعد جتنے بھی لوگوں نے بچے کے خلاف بے جا الزامات لگاکے اسے خودکشی پر مجبور کیا ہے ان سب کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے ۔

chitraltimes tanvir zia suicide case1


شیئر کریں: