Chitral Times

Feb 3, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

 بچوں کی جنسی استحصال – تحریر۔ صوفی محمد اسلم 

Posted on
شیئر کریں:

 بچوں کی جنسی استحصال – تحریر۔ صوفی محمد اسلم

مختلف ممالک میں بچوں کے بلوغت کی عمر مختلف ہیں۔ لڑکوں کے بلوغت کی عمر 18،17،16جبکہ لڑکوں کے بلوغت کی عمر 16،15،14وغیرہ ہوتے ہیں۔ اس سے کم عمر لڑکے و لڑکیاں قانون کے رو سے نابالغ  اور معصوم ہوتے ہیں۔ کوئی بھی سنجیدہ فیصلے کے  قانون کے رو سے اہلیت نہیں رکھتے ۔اسی طرح شرعی قوانین کی رو سے بلوغت کی عمر مقرر نہیں البتہ بلوغت کے علامت کے ظاہر ہونے پر بالغ سمجھے جاتے ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے مطابق لڑکوں کے لئے بلوغت کی عمر 18 جبکہ لڑکیوں کی بلوغت کی عمر 16 سال مقرر ہیں۔ مقرر کردہ عمر سے کم ہر کوئی بچے تصور ہونگے۔

جنسی استحصال کیا ہے؟
“اس میں کسی بچہ یا بچی کو جنسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کرنا یا آمادہ کرنا شامل ہیں ، ضروری نہیں کہ اس میں سخت تشدد ضرور ہو، یہ بھی ضروری نہیں کہ چاہے بچہ اس سے واقف ہو یا نہ ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔” جنسی استحصال کہتے ہیں ۔

“محریکات  میں جسمانی رابطہ شامل ہے، بشمول دخل کے ذریعے سے حملہ ( عصمت دری یا زبانی جنسی) یا غیر دخول کرنے والی حرکتیں جیسے مشت زنی، بوسہ لینا، رگڑنا اور لباس سے باہر چھونا۔ ان میں غیر رابطہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں، جیسے کہ بچوں کو جنسی تصاویر دکھانا یا بنوانا، جنسی سرگرمیاں دیکھنا، بچوں کو جنسی طور پر نامناسب طریقے سے برتاؤ کرنے کی ترغیب دینا، یا بدسلوکی کی تیاری میں بچے کو تیار کرنا (بشمول انٹرنیٹ) شامل ہیں.”

برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی استحصال کے روک تھام کیلئے ذاتی حفاظت کیلئے تعلیمی اداروں اور مختلف سماجی سرگرمیوں سے آگاہی اور اختیاطی اقدامات پر زور دیتے ہیں ۔ ایسے ممالک میں ذاتی مدافعت کے علاوہ کئی قسم کے مدافعت ایسے سرگرمیوں کے تدارک کیلئے سرگرم رہتے ہیں ۔

چند دن پہلے ایک لڑکا تعلیم کے سلسلے میں برطانیہ جاتا ہے۔ مگر وہاں 13سالہ ایک لڑکی کے ساتھ غیر مہذبانہ حرکات میں ملوث ہوکر جیل چلا جاتا ہے۔ برطانیہ میں بچوں کی تحفظ کیلئے ایک تنظیم سرگرم ہے۔ جب کوئی بچوں کے ساتھ ایسے سرگرمیوں میں ملوث ہوتا ہے۔ اسے کرگفتار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ لڑکا جو قانون کے تعلیم کیلئے برطانیہ ایا ہوا تھا۔ اس لڑکی کو غلط تصوربھیجتا تھا اور غیر مہذبانہ ویب سائٹ سرچ کرنے پر اکسارہاتھا۔ اسے گرفتار کرکے پولیس کو حوالہ کیا گیا۔

ہمارے معاشرے میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے منظر عام پر نہیں اتے یا انتہائی مجبور ہوکر قانون کی طرف توجہ دیتے ہیں ۔ اس کی وجہ قانونی اداروں میں عدم تحفظ کی فقدان سر فہرست ہے۔ دوسرا معاشرے میں ایسے متاثرہ بچوں کو تحفظ حاصل نہیں ۔گناہگار کو سزا دلوانے کے بجائے متاثرہ خاندان کو ٹارچر کیا جاتا ہے۔ والدین لوگوں کے  ٹارچر  سے بچنے کیلئے خاموشی سے یہ اذیت برداشت کرلیتے ہیں جوکہ افسوسناک عمل ہئ۔

ہمیں بحیثیت مہذب معاشرہ اپنے معاشرے کے اصلاح کیلئے مندرجہ اقدامات کرنا ہوگا تاکہ کسی بچہ یا بچی کے ساتھ ایسے ہولناک حادثے پیش نہ آئے۔

ذاتی مدافعت
عوامی مدافعت
تنظیم
والدین
پولیس

بچوں اور بچیوں کو گڈ ٹچ اور بڈ ٹچ کے متعلق آگاہ کرنا چاہئے ۔ انہیں مدافعت کے طریقے سیکھانا چاہئے ۔ انہیں اتنا مضبوط  کرنا چاہئے کہ  اس کے ساتھ کوئی غیر مہذبانہ سلوک کرنے کی کوشش کرے تو فوری کاروائی کرسکے۔ والدین، اساتذہ کرام یا معاشرے میں کسی مہذب شخص سے مدد طلب کرنے سے نہ ہچکچائے۔

اس میں  معاشرے کے ہر فرد شامل ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد پر واجب ہے کہ معاشرے میں ایسے محریکات اور افراد سے واقف ہو ۔ بچو کے ساتھ  ہونے والے ایسے تمام غیر مہذبانہ حرکات کے روک تھام کیلئے اقدامات کرے۔ ایک مہذب شہری ہونے کے ناطے بچوں کے ساتھ ذیادتی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دلوانے میں مدد کرے اور متاثرہ بچے اور اس اسکے خاندان کے حسن سلوک کے ذریعے سے حوصلہ افزائی کرے۔

معاشرے میں ایک ایسا تنظیم ہوناچاہیئے سوسائٹی میں ایسے برائے کے روک تھام کیلئے عملی اقدامات کرتے ہوئے آگاہی مہم چلائے، لوگوں کو ایجوکیٹ کرے۔ اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرے۔  بچوں اور بچیوں کو  ایسے موقعوں پر  فوری مدد دے۔ تاکہ بروقت کاروائی کرنے سے معصوموں کی  ذندگیاں بچائی جاسکتی ہے۔

تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ بچوں کو شیڈیول ابیوس کی تعلیم کے علاوہ انکے نگرانی میں اختیاط کرے۔ کھیلوں اور دوسرے پروگرامات کے موقعے پر اپنے نظروں کے سامنے رکھے۔ ذاتی مدافعت کے تعلیم دے اور ایسے  افراد کے بارے میں بتانے پر حوصلہ افزائی اور  فوری اقدام کرے۔

والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی نگرانی میں اختیاط کرے۔ اپنے آس پڑوس میں موجود ایسے غیر مہذب لڑکوں کے حرکات پر نظر رکھے۔ قانون کی مدد طلب کرنے میں نہ ہچکچائے ۔ گناہگار کو سخت سے سخت سزا دلوانے میں قانون کی مدد کرے ۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چاہئے کہ ایسے واقعہ کی رپورٹ ہونےپر بچوں یا بچیوں کے نام اور انکے خاندان کے نام فاش نہ کرے۔ انتہائی اختیاط کے ساتھ تفتیش کرے تاکہ معاشرے میں اسکے عزت بحال رہ سکے۔  کوٹ لٹیروں میں گھسیٹنے سے باز رہے  تاکہ کوئی والد اسی خوف سے خاموش نہ رہ سکے۔

 ایک ذندگی کو بچانے کا مطلب ساری انسانیت کو بچانا ہے۔ یہ ہمارے دینی اور اخلاقی فرض ہے کہ اپنے معاشرے میں پر نگاہ رکھے۔ اپنے بچوں اور بچیوں کی حفاظت کرے تاکہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی ازیت کے گزار سکے۔


شیئر کریں: