Chitral Times

Feb 3, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تحریک تحفظ حقوق چترال کا چترال کے مساٸل کے حوالے سے ہڑتالی کیمپ اوردھرنا تیسرے روز بھی جاری

Posted on
شیئر کریں:

تحریک تحفظ حقوق چترال کا چترال کے مساٸل کے حوالے سے ہڑتالی کیمپ اوردھرنا تیسرے روز بھی جاری
مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے چترال کے معتبرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی

پشاور(نمایندہ چترال ٹایمز ) تحریک تحفظ حقوق چترال کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ تیسرے روز بھی جاری رہا، چترالی عوام کے سینکڑوں افراد نے ہڑتالی کیمپ میں شرکت کی ضلع چترال میں بجلی لوڈ شیڈنگ، سڑکوں کی خستہ حالی،علاقے میں غیر قانونی کان کنی اور دیگر مسائل کے حل میں اداروں کی عدم دلچسپی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ احتجاجی کیمپ میں چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ کے چٸیرمین وقاص احمد ۔ پروفیسر اسماعیل ولی ۔ لیاقت علی ۔ پی پی کے رہنما ابولاٸیس رامداسی ۔ عنایت اللہ اسیر۔ عمیر خلیل اللہ ۔ تحفظ حقوق چترال کے صدر پیرمختار ۔ چترال جرنلسٹ فورم کے صدر نادرخواجہ ۔ جے یو اٸی کے قاضی نسیم سی جے ایف کے سینٸر ناٸب صدر صابرامان ۔چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین، پرفیسر ڈاکٹر اسماعیلی ولی،  قاری شمس النبی سمیت دیگر معتبرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ہڑتالی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوے مقررین نے کہا کہ چترال کے دونوں اضلاع کے باشندے سڑکوں کی خستہ حالی، بجلی لوڈشیڈنگ سے شدید پریشان ہیں، موسم سرما میں برفباری کی وجہ سے خستہ حال سڑکوں پر سفر زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ سخت سرد موسم میں بجلی کی غیر اعلانیہ لودشیدنگ سے چترال کے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانج سال سے اسمبلی کے فلور پر چترال کے مسائل بارہا اٹھایا لیکن صوبائی حکومت نے مسائل کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔انہوں نے مزید کہا کہ اب جبکہ مرکز میں مخلوط حکومت قائم ہے جس کا جے یو آئی بھی حصہ ہے کے متعلقہ وزرا سے سڑکوں کی خستہ حالی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کی درخواست کی ہے، جس پر متعلقہ محکمے مثبت جواب دے رہے ہیں اور امید ہے کہ عنقریب دیرینہ مسائل کے حل کے لئے پیش رفت سامنے اییگی۔

اس موقع پر مظاہرین نے سابق صوبائی حکومت کے چترال کے مسائل کے حل کے ضمن میں عدم دلچسپی پر افسوس کا اظہار کیا  اورکہا کہ چترال کے عوام میں پزیرائی حاصل ہونے کے باوجود صوبائی حکومت نے مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دی۔  انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے چترال میں جاری لوڈ شیڈنگ ختم نہیں کی اور سڑکوں کی تعمیر کے لٸے فوری اقدامات نہیں اٹھایا گیا تو ہم صوباٸی و قومی اسمبلی کا گھیراو کریں گے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔


شیئر کریں: