Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاک روس بین الحکومتی کمیشن کااجلاس،تجارت،سرمایہ کاری،توانائی،مواصلات سمیت متعدد شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق،, متعدد معاہدوں پر دستخط

شیئر کریں:

پاک روس بین الحکومتی کمیشن کااجلاس،تجارت،سرمایہ کاری،توانائی،مواصلات سمیت متعدد شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق،کسٹم امور، شہری ہوا بازی اور کسٹم پروٹوکول کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط

اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ)پاکستان اور روس نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ہائیر ایجوکیشن، انڈسٹری، ریلویز، مالیات، بینکنگ، کسٹمز، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے،دونوں ممالک نے کسٹم امور، شہری ہوا بازی اور کسٹم پروٹوکول کے شعبہ جات میں تعاون کے تین معاہدوں پر دستخط بھی کئے ہیں۔جمعہ کو یہاں تجارت، معیشت، سائنس اور تیکنیکی شعبہ میں تعاون کیلئے قائم پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مشترکہ کمیشن کا تین روزہ اجلاس 18 سے 20 جنوری 2023ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت وزیر توانائی نیکولائی شلگینوف جبکہ پاکستان کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امور سردار ایاز صادق نے کی۔

 

اجلاس میں دونوں ممالک کے سینئر اہلکاروں بشمول وزرا و سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی رہنمائی میں فریقین نے ایک مضبوط اور جامع اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں کا یہ موقف تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اس طرح کے تعلقات کے نتیجہ میں دونوں ممالک کے عوام اور خطے کو فائدہ پہنچے گا۔ مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ پاک روس بین الحکومت کمیشن کے ساتویں اجلاس کی گفتگو اور فیصلوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، مواصلات، ٹرانسپورٹ، ہائیر ایجوکیشن، انڈسٹری، ریلویز، مالیات، بینکنگ، کسٹمز، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا اور اس ضمن میں مندرجہ بالا شعبہ جات میں مثبت امکانات اور قابل عمل منصوبوں پر غور کیا۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتیں اور محکمے مشترکہ خوشحالی کے وڑن کے تحت روابط کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

 

فریقین نے توانائی کے شعبہ میں تعاون کو بڑھانے، توانائی کی تجارت کے فروغ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچہ کو وسیع کرنے کے اقدامات سے بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اس ضمن میں ایک جامع منصوبہ برائے توانائی تعاون پر کام کرنے سے بھی اتفاق کیا جو رواں سال مکمل کیا جائے گا، اس میں مستقبل میں توانائی کے شعبے میں تعاون خدوخال طے کئے جائیں گے۔ فریقین نے پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن پراجیکٹ سے بھی اتفاق کیا اور اسے پائیدار گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے ضمن میں ایک جامع بنیادی ڈھانچہ کیلئے موزوں قرار دیا۔ مذاکرات میں روس کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کی دعوت دی گئی۔روسی سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت بھی دی گئی۔ فریقین نے اشیاء کی پیداوار کے مقام کے سرٹیفیکیٹ اور الیکٹرانک ویریفیکیشن سے متعلق باقی ماندہ مسائل کو مئی 2023ء تک حل کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ وسطی اور جنوبی ایشیاء میں رابطہ کاری اور لاجسٹک کے شعبوں میں تعاون کیلئے دونوں ممالک نے فوکل پرسنز تعینات کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ اسی طرح فریقین نے سائنس و ٹیکنالوجی، ہائر ایجوکیشن، مشترکہ منصوبوں، تربیت اور روس میں پاکستانی طلباء کے تعلیمی مواقع میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے سے بھی اتفاق کیا۔

 

فریقین نے تجارت اور کاروبار میں اختراعی طریقے اختیار کرنے بشمول بارٹر سسٹم اور دیگر دستیاب طریقہ ہائے کار سے استفادہ کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ فریقین نے ریل اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچہ میں تعاون اور معلومات کے تبادلے سے بھی اتفاق کیا۔بعدازاں دونوں ممالک نے کسٹم امور، شہری ہوا بازی اور کسٹم پروٹوکول کے شعبہ جات میں تعاون کے تین معاہدوں پر دستخط کئے۔ کسٹم امور سے متعلق معاہدے پر روس کے محکمہ کسٹم کے نائب سربراہ ولادی میر ایواین اور ایف بی آر کے ممبر کسٹم مکرم جان انصاری نے دستخط کئے۔ کسٹم پروٹوکول اور ہوا بازی کے شعبہ میں تعاون کے معاہدوں پر ڈائریکٹر جنرل ایوی ایشن خاقان مرتصیٰ اور روسی ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی کے الیگزینڈر نے دستخط کئے۔

 

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وفد کے سربراہ نیکولائی شلگینوف نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ برآمدات اور ڈیری کی صنعت میں تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور روس نے خام تیل پر تعاون سے اتفاق کیا ہے۔ اس ضمن میں ہم نے ٹائم لائن دے دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے طویل المعیاد سودے ہوتے ہیں، اس لئے سپاٹ مارکیٹ میں اس کی استعداد کم ہوتی ہے تاہم پاکستان روسی کمپنیوں گیزوپروم اور نواطک سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تیل اور تیل سے بنی مصنوعات کی فراہمی کیلئے دونوں ممالک کے مابین مذاکراتت حتمی مرحلہ میں ہیں، حکومت پاکستان مذاکرات میں سہولت کاری فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کے ساتھ بینکنگ اور مالیاتی امور میں تعاون چاہتے ہیں۔

 

پاکستان کے ساتھ تیل وگیس کی ادائیگیاں کسی بھی دوست ملک کی کرنسی میں ہوسکتی ہیں، روسی وزیر توانائی

اسلام آباد(سی ایم لنکس)روسی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ توانائی کی خریداری کی ادائیگیاں کسی بھی دوست ملک کی کرنسی میں ہو سکتی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان میں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس میں موجود روسی وزیرتوانائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مارچ کے آخر میں پاکستان کو خام تیل کی ایکسپورٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔روسی وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تیل و گیس کی ادائیگیوں کے میکنزم پر بات ہوئی ہے، ادائیگیاں کسی بھی دوست ملک کی کرنسی میں ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی تجارت سے متعلق اسٹرکچر کو مارچ میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔واضح رہے کہ پاکستان اور روس کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہو گئے۔روس سے سستا تیل اور ایل این جی خریداری کے معاملے پر پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے درمیان آخری روز کا وزارتی سطح کا اجلاس ہوا۔پاکستانی وفد کی صدارت وفاقی وزیر اقتصادی امور ایاز صادق نے جبکہ روس کے وفد کی نمائندگی روس کے وزیر توانائی نے کی۔


شیئر کریں: