Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال بونی مستوج شندور روڈ، کالاش ویلی روڈ ودیگر سڑکوں پر کام کی بندش کے خلاف چترالی باشندوں کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ 

شیئر کریں:

چترال بونی مستوج شندور روڈ، کالاش ویلی روڈ ودیگر سڑکوں پر کام کی بندش کے خلاف چترالی باشندوں کا اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال بونی مستوج شندور روڈ، کالاش ویلی روڈ ودیگر سڑکوں پر کام کی بندش ، جاری فنڈز کی مبینہ طور پر دوسرے اضلاع میں منتقلی اور مشینریز اٹھا کر واپس لے جانے اور حکومت کی عدم دلچسپی کے خلاف راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم چترالی باشندوں نے سنیٹر فلک ناز چترالی،کیپٹن سراج الملک معروف ماحولیاتی ایکٹیوسٹ رحمت علی جوھر دوست اور تحریک نوجوانان تورکھو یو سی تریچ کے صدر و اپر چترال کے معروف سوشل ایکٹیوسٹ حسین زرین چرویلو کی قیادت میں ہفتہ کے روز اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں راولپنڈی اسلام آباد ۔میں رھائش پزیراپر چترال سے تعلق رکھنے والے بہن بھائیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرین چترال بونی مستوج شندور روڈ ، اور چترال کے تمام سڑکوں کی ابتر صورتحال خصوصا چترال بونی مستوج شندور روڈ میں کام کی بندش کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ، جس میں چترال بچاؤ ،ملک بچاؤ ،اور چترال کے سڑکوں میں کام کی بندش نا منظور نا منظور کے نعرے درج تھے ۔ چترال کی بیٹی سنیٹر فلک ناز چترالی ،کیپٹن سراج الملک،شاد فاؤنڈیشن کی بانی میڈم شمشاد زرین، معروف سوشل ورکر حسین زرین چرویلو،ماحولیاتی ایکٹیوسٹ رحمت علی جوھر دوست ،سابق ڈی پی او چترال محمد سید خان،ڈاکٹر احترام الحق،کرم علی،قابل زکر ھیں نے مظاہرین سے خطاب کیا ۔

انھوں نے مطالبہ کیا  کہ چترال بونی مستوج شندور روڈ اور چترال کے دیگر زیر تعمیر سڑکوں کے لئے جلد از جلد فنڈز ریلیز کر کے ان پر دوبارہ کام کا آغاز کیا جائے مقررین نے کہا کہ اگر ان زیر تعمیر سڑکوں میں فورآ کام کا آغاز نہ کیا گیا تو چترال بھر میں احتجاجی تحاریک کا آغاز کیا جائے گا کیونکہ چترال جیسے جغرافیائی اعتبار سے حساس علاقے کو حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنا سمجھ سے بالاتر ھے ان خراب سڑکوں کی وجہ سے چترال کے ماحولیاتی آلودگی میں بھی روز بروز اضافہ ھو رھا ھے لہذا ان زیر تعمیر سڑکوں پر جلد کام کا آغاز کیا جائے ،چترال بونی شندور روڈ میں ترکول کو اکھاڑ کر پھینکا گیا ھے جس کی وجہ سے اپر چترال ترقی کی راہ میں 30سال پیچھے چلا گیا ھے اور عوام اب دو گھنٹوں کے بجائے چار گھنٹوں میں چترال شھر سے بونی پہنچتے ھیں لہزا اس روڈ سے مشینریز اٹھا کر لے جانا سمجھ سے بالا تر ھے ان مشینریز کو فورآ واپس لا کر دوبارہ کام شروع کیا جائے۔
چترال کے زیر تعمیر سڑکوں میں حکومت کی عدم دلچسپی اور کام کی بندش کے خلاف اسلام آباد میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا احتجاجی مظاھرہ تھا

chitraltimes chitrali protest in front of islamabad press club chitraltimes chitrali protest in front of islamabad press club2 chitraltimes chitrali protest in front of islamabad press club3


شیئر کریں: