Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کی ترقی میری ذاتی ترقی ہے، وہاں کے لوگوں کے لیے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہوں، گورنرخیبر پختونخوا

Posted on
شیئر کریں:

چترال کی ترقی میری ذاتی ترقی ہے، وہاں کے لوگوں کے لیے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہوں، گورنرخیبر پختونخوا
اپنے ہی اداروں کے خلاف بات کرنا خودکشی کے مترادف ہے، سازشوں کو ناکام بنانا ہے، گورنر حاجی غلام علی

قدرتی وسائل سے مالامال اضلاع میں نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، چیزوں کو ویلیو ایڈڈ کرکے کاروبار کو نئی جہد دی جاسکتی ہے، چترال سمیت دیگر وفود سے اظہار خیال

 

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے کیونکہ بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ اسے اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ایسے میں اپنے ہی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کرنا خودکشی کے مترادف ہوگا کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں، اس صوبے کا ہر ایک علاقہ میرے لیے قیمتی ہے اسی طرح چترال بھی میرے دل کے بہت قریب ہے اور اس کے بسنے والوں کو ہر فیلڈ میں کامیاب و کامران دیکھنا چاہتا ہوں، جلد وہاں کاروبار اور مقامی افراد کے روزگار کے نئے مواقع میسر ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار گورنر حاجی غلام علی نے گزشتہ روز گورنر ہاوس میں آنے والے مختلف علاقوں کے نمائندہ وفود اور بالخصوص چترال کے 40 سے زائد رکنی وفد سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ چترال کے وفد نے علاقے کے مسائل کے حوالے سے گورنر کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گیس اور بجلی سمیت مختلف انتظامی امور ایسے ہیں جن پر عدم توجہی کے باعث چترال کی عوام کو کئی ایک شعبوں میں اور روزمرہ زندگی کے معاملات سے جڑے امور کو انجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنہ ہے۔ وفد نے سڑکوں سمیت نوجوانوں کو حصول تعلیم اور روزگار بارے مشکلات سے گورنر کو آگاہ کیا۔

 

 

اسی طرح دیگر وفود نے بھی گورنر کو اپنے اپنے علاقہ بارے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوامی گورنر ہونے کے ناطے ان سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کو آن بورڈ لیتے ہوئے عوامی مشکلات اور ان کی سفارشات ان کے سامنے رکھیں گے۔ گورنر نے وفود سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان جو کہ ہماری شان اور پہچان ہے بہت ہی مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں نہ صرف بیرونی سازشوں کا سامنا ہے بلکہ ملک کے اندر بھی ایسے خطرات موجود ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے تمام تر اختلافات کو بھلانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اور عام طور پر بھی اپنے ہی ملکی اداروں کے خلاف بیان بازیاں کرنا اور اشتعال پیدا کرنا بغاوت سے بھی آگے کا جرم و گناہ ہے اور یہ سیدھا سیدھا خودکشی کے مترادف ہے، کیونکہ اگر اس ملک کو خطرہ لاحق ہوا تو پھر ہم بھی کہیں کے نہ رہینگے۔ یہ ملک ہے تو ہم بھی ہیں وگرنہ ہاتھ ملنے کے سوا کچھ باقی نہ رہیگا۔

 

انہوں نے کہا کہ جہاں تک علاقوں میں گیس، بجلی، پینے کے صاف پانی، مقامی انتظامیہ سے جڑے مسائل ہیں ان کے تدارک کے لیے میئر پشاور بھی دن رات اپنے تائیں بھرپور کوششوں میں ہیں اور میری جانب سے بھی کسی قسم کی کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی جائیگی۔ گورنر نے چترال کے وفد سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چترال کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور وہاں کے لوگوں اور ان کی روایات سمیت ان کی مہمان نوازانہ طبیعت کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ چترال میں کاروبار کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میرے مشن کا حصہ ہے۔ چترال کے لیے پہلے ہی قرشی انڈسٹریز کے مالک سے بات کر چکا ہوں کہ اس علاقہ میں یونٹس لگائے جائیں کیونکہ چترال کا سیب، خوبانی، اخروٹ، تْوت، اور سبزیاں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان چیزوں کو ویلیو ایڈڈ بنانے کے لیے یہاں یونٹس کے قیام سے نہ صرف کاروبار دوام حاصل کریگا بلکہ چترال کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پید اہونگے اور ہر طرف ترقی و خوشحالی ہوگی۔

 

انہوں نے کہا کہ چترال کو اللہ نے بہت نواز رکھا ہے،لیکن نصیب جگانے کے لیے محنت اولین شرط ہے۔ چترال میں بھی مقامی طور پر چھوٹی انڈسٹریز لگائی جائیں تاکہ ان پھلوں، سبزیوں اور معدنیات کا فائدہ ملک و بیرون ملک سمیت یہاں کی مقامی آبادی کو بھی ذر مبادلہ کی شکل میں حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ کرنے والے سرکاری اداروں کو بتا چکا ہوں کہ نوجوانوں کو بھی اس مفید ترین عمل میں شامل کریں اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کی اہمیت سے روشناس کریں تاکہ تحقیق کے ذریعے سامنے آنے والے خزانوں کا فائدہ ملک و قوم دونوں کو ہو۔ گورنر نے کہا کہ چترال کی ترقی کو اپنی ترقی سمجھتا ہوں۔ گورنر کی جانب سے مکمل یقین دہانی اور مہمان نوازی پر چترال سمیت دیگر وفد نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب انہیں یقین ہے کہ ان کے مسائل کا حل بھی نکالا جائیگا اور مستقبل میں نئی روشن راہوں کا تعین بھی ممکن ہو سکے گا۔

Governor Kp Delegation Photo 2 1

 


شیئر کریں: