Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جن جن علاقوں میں عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ان کے ازالے کے لیے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے۔گورنر خیبرپختونخوا

Posted on
شیئر کریں:

جن جن علاقوں میں عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ان کے ازالے کے لیے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے۔گورنر خیبرپختونخوا

پشاور کے ہر ایک علاقے کے احساس محرومی کو دور کرونگا، گورنرحاجی غلام علی

پشاور شہر اور اسکے اندرونی و بیرونی علاقے میرے دل کے بہت قریب ہیں، خود کو اس شہر کا خادم اور مقروض سمجھتا ہوں،
تاکہ اتفاق و اتحاد کی فضا کو تقویت ملے اور مشکلات بھی حل کی جانب گامزن ہوں، وفود سے ملاقات میں اظہار خیال

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ انتخابات میں جیت کے اسمبلیوں میں آنے والے افراد کی سب سے پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل نکالنا اور اس حل کے لیے راستے متعین کرنا ہے، ہمیں ہر قسم کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنا ہونگی، گزشتہ چند سالوں سے جن علاقوں کا معیار زندگی اور نظام بہتر نہ ہو سکا اسے ٹریک پر لانے کے لیے ہر ایک کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا پڑیگا۔ ان خیالات کا اظہار گورنر حاجی غلام علی نے گزشتہ روز گورنر ہاؤس میں آنے والے مختلف وفود جن میں بزنس کمیونٹی، تاجر برادری،، ڈاکٹرز، وکلا، سول سوسائٹی، اساتذہ اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے وفود شامل تھے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تنظیم تحفظ تاجران شفیع مارکیٹ 25 مارکیٹوں کے نمائندہ وفد نے حاجی عبدالنصیر اور انگور شاہ آفریدی کی قیادت میں گورنر سے ملاقات کی۔وفود نے گورنر سے ملاقات میں اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور درپیش مشکلات بارے تفصیلی بات چیت کی۔ ملاقات میں بیان کرتے ہوئے شرکاء نے گیس، بجلی لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کی شکایات کیں۔ گورنر سے تعلیمی اداروں سے جڑے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔شہر بھر اور ملحقہ اضلاع و علاقوں سے آئے ان وفود میں شامل مشران نے گورنر کو بتایا کہ ان کے علاقوں کو ہمیشہ سے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے میں نظر انداز کیا جاتا رہا۔

 

شہر سے آئے تاجروں و نمائندہ وفود نے بتایا کہ کوٹلہ محسن خان، نوتھیہ، گلبرگ، کینٹ کے دیگر مقامات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آج تک پینے کے صاف پانی سے کئی ایک بلکہ ہزاروں گھرانے محروم ہیں۔ وفود کی گذارشات اور مطالبات سننے کے بعد گورنر حاجی غلام علی نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ جب تک ہم اپنے آپ سے مخلص نہیں ہوتے تب تک ہم اپنے ملک و قوم سے بھی مخلص نہیں ہو سکتے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکے اسمبلی میں آنے کے بعد ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں، کیونکہ پھر فرض یہ ہوتا ہے کہ عوام اور عوام کی خدمت، انکے مسائل کے خاتمے کی جدوجہد اور خوشحالی کے لیے پوری پوری کوشش۔ گورنر نے کہا کہ شہر کے مزکورہ بیان کردہ علاقوں کی مشکلات سے واقف ہوں اور ہر وقت انکے حل کے لیے جدوجہد کرتا بھی رہا ہوں اور کرتا بھی رہونگا، گیس بجلی پانی ہسپتال اور نظام ہر ایک جگہ بھرپور توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گورنر بننے سے قبل بھی، اسکے بعد بھی عوام کے ساتھ تھے، ہیں اور ان کے ساتھ رہینگے، کیونکہ عوامی مشکلات کو حل کرکے جو سکون ملتا ہے وہ سوائے نماز اور خدمت کے اور کسی چیز میں نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے تمام سیاسی جماعتوں اور جمعیت علمائے اسلام سمیت تمام مکاتب فکر اور کمیونٹیز کو احترام دیا اور مل کے عوامی مفاد میں تاریخی کام کیے۔ یہ صرف تب ہی ہو سکتا ہے جب اتفاق و اتحاد کی نیت مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک طبقے کو شہر پشاور میں یکجہتی کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔گورنر کی جانب سے مثبت انداز میں مسائل سننے اور گورنر ہاؤس میں عوامی انداز میں ملاقاتوں پر وفود نے انکا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی حاجی غلام علی کے ویثرن کی قدر کرتے ہوئے ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہینگے۔

Governor KP IM Sciences bog meeting

 

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کی زیر صدات انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز حیات آباد کے بورڈ آف گورنرز کا 32واں اجلاس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کی زیر صدات انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز حیات آباد کے بورڈ آف گورنرز کا 32واں اجلاس گورنر ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی ایم سائنسز کی فیکلٹی اراکین کی پروموشن کیسز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ادارہ کی 27ویں سلیکشن کمیٹی کے منٹس بھی منظوری کیلئے پیش کئے گئے۔جس پر بورڈ اراکین نے فیکلٹی کو اکیڈیمک ریسرچ اور ضرورت کی بنیادوں کے مطابق ہونے پر زور دیا اورکہا کہ اس حوالے سے ادارہ کی مالی پوزیشن کو بھی مدنظر رکھاجائے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ مالی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اجلاس میں آئی ایم سائنسز کے مستقل ڈائریکٹر کی تعیناتی کیلئے سرچ اینڈ اسکروٹنی کمیٹی کیجانب سے شارٹ لسٹڈ کئے جانیوالے امیدوار ڈاکٹر عجب خان، ڈاکٹر عثمان غنی اور فخر عالم بورڈ اراکین کے سامنے انٹرویو کیلئے پیش ہوئے اور اپنی اپنی جانب سے بورڈ کو اپنی پیشہ ورانہ اہلیت، ادارہ کی بہتری کیلئے اپنے ویژن، سوچ اور صلاحیتوں کے استعمال سے متعلق آگاہ کیا۔ اجلاس میں شرکت کرنیوالے قائمقام ڈائریکٹر آئی ایم سائنسز ڈاکٹر محسن خان سمیت بورڈ اراکین میں ہائیر ایجوکیشن کے نمائندے اویس احمد، وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ادریس، محمد اسحاق پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری،محسن ودود، اطہر عمران، امجد علی ارباب اور بذریعہ آن لائن پروفیسر ڈاکٹر سمیع فاروق غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ صوابی، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن سے سعیداللہ اور انسٹیٹیوٹ آف بنکرز کراچی کے نمائندے نے شرکت کی۔


شیئر کریں: