Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان -”ہم قطار میں کھڑے ہیں “۔محمد جاوید حیات

شیئر کریں:

دھڑکنوں کی زبان -”ہم قطار میں کھڑے ہیں “۔ محمد جاوید حیات

قطار میں ترتیب سے سکون سے کھڑا رہنا باترتیب اور منظم ہونے کی نشانی ہے بندہ اپنی باری پر اپنا مسلہ حل کرے گا کسی کا حق مارا نہیں جاۓ گا کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی زندہ قوموں کے یہ افسانوی قصے لوگ سناتے رہے ہیں سری لنکا جیسے غریب ملک کے باشندوں کو میں نے ان کے اٸر پورٹ پر ٹرمینل کے ہال میں آرام سے بیٹھے ہوۓ دیکھا پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اپنا نسبتا ترقیافتہ ملک پاکستانيوں کے کراچی اٸر پورٹ یاد آیا ایک ہلا گولا ایک ہاٶ ہو ٹیکسیوں اور ٹیکسی والوں کی چیخ و پکار دھکم پیل ۔۔۔۔ہم بے ترتیب لوگ قطار کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ۔۔۔ہاں نہ جانتے ہوۓ بھی بحیثیت قوم قطار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کھڑے ہیں ۔ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کب ترقی کریں گے کب مہذب بنیں گے کب کشکول گداٸی گلے سے اترے گا کب قرضوں سے چھٹکارہ حاصل ہوگا لیکن ہم اس حقیقت سے نا اشنا ہیں کہ گفتار کے غازی کبھی کردار کے غازی نہیں بن سکتے ۔

 

دنیا میں جس نے ترقی کی ہے اس نے کام بھی کیا ہے معاشرے کی تباہی ان لوگوں خاص کر ان ذمہ داروں اور بڑوں کے ہاتھوں آتی ہے جو ہر قسم کی براٸی کا مرتکب ہوتے ہیں ان کےپاس قوم کی بڑی ذمہ داریاں ہوتی ہیں مگر وہ ان کی پرواہ نہیں کرتے ۔آج ہماری پوری قوم بڑی طرح قطارمیں کھڑی ہے ۔جس کا چولہا بجھ گیا ہے بچے بلک رہےہیں ان کی جان پہ بنی ہے وہ ایک کلو اٹا ملنے کی امید میں قطار میں کھڑا ہے اس کی باری آتی ہی نہیں وہ کچلا جاتا ہے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔زندگی جہد مسلسل ہے ایک کے گھر میں گیس نہیں چولہا جلتا نہیں وہ قطار میں کھڑا ہے ۔ایک مزدوری کے لۓ گھر سے نکلتا ہے قطار میں کھڑا ہے کسی سے دیہاڑی مل جاۓ دیہاڑی لگاۓ اور شام کو بچوں کی بھوک کا مداوا کرسکے ۔ایک انصاف ملنے کے انتظار میں قطار میں کھڑا ہے دہاٸی کوٸی سنتا ہی نہیں ۔۔۔ ایک روزگار ملنے کے انتظار میں ہے یہ قطار بڑھتی ہی جاتی ہے گھٹتی نہیں عمریں بیت جاتی ہیں باری آتی نہیں ۔بحیثیت قوم ہم دنیا کے اقوام کی قطار میں کھڑے ہیں یہ قومیں آگے ہی بڑھتی چلی جاتی ہیں ہم مزید پیچھے آتے ہیں انصاف کے لحاظ ہماری قطار میں نمبر اتنا پیچھا ہے کہ شاید کوٸی ایک دو ممالک ہوں جو ناانصافی میں ہم سے پیچھے ہوں ہمارے دارالعدل کی بڑی بڑی عمارتیں ہیں ان میں بیٹھے کالی شیروانیوں میں ملبوس ججز لاکھوں کی تنخواہ اور کروڑوں کی مراعات لے رہے ہیں

 

ان عمارتوں کے اندر ساری سہولیات موجود ہیں البتہ انصاف کی سہولت موجود نہیں ہم ان کے باہر انصاف کے حصول کے لیۓ قطاروں میں کھڑے ہیں ۔صحت ہر ایک کا ذاتی مسلہ کتنے کراہتے جسم ہسپتالوں کلینکوں اور میڈیکل کامپلکس اور سنٹروں کے باہر قطار میں کھڑے ہیں ان کی باری آتی ہی نہیں ۔کتنے مجبور و بے نوا بینکوں کے باہر چیک وصول کرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں لیکن کوٸی چور دروازہ ہوگا وہاں سے لوگ دھڑادھڑ اپنے پیسے لیتے نکل رہے ہونگے ۔کتنے مزدور ٹھیکدار کے آنے کے انتظار میں ہیں کہ ان کی مزدوری ان کو ملے ۔کتنے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر پہ آس کی نگاہیں جماۓ بیٹھے ہیں کتنے احساس پروگرام کا خواب آنکھوں میں سجاۓ بیٹھے ہیں کتنے پیکیجز اور امداد کے سہنرے خواب دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ اقتدار کے بھوکے اگلے الیکشن اور پروموشن کے منتظر اگلی ترقی کی امید لیۓ جی رہے ہیں ۔ہماری قطاروں پہ افسردگی چھاٸی ہوٸی ہے ہمارے انتظار کربناک ہیں ہماری باری تھکا دینے والی ہے ہمارے لیۓ کسی مقصد کا حصول ناممکن ہے ۔بس ہم قطار میں کھڑے ہیں ۔میں یوٹیلٹی سٹور میں گھی خریدنے پچھلے دو گھنٹوں سے قطار میں کھڑا ہوں ٹانگیں سن ہورہی ہیں

 

اتنے میں میرے سامنے والے بندے نے مجھ سے پوچھا ہے کہ بھاٸی تمہارا ”کوڈ“ نمبر کیا ہے میں حیران ہوتا ہوں کہ خریداری کے لیۓ کوٸی ”کوڈ“چاہیۓ ہوتا ہے وہ طریقہ کار بتاتا ہے میں مایوس قطار سے نکلتا ہوں اب ”طریقہ کار“ کے پیچھے پڑتا ہوں کوٸی پانچ ہزار کا چیک ہاتھ میں لیے میں پیسے لینے کے بعد انکے استعمال پر غور کر رہا ہوں صبح آیا ہوں شام آرہی ہے میری باری نہیں آرہی اتنے میں اعلان ہوتا ہے بنک بند ہوا ۔۔۔۔کل آنا ۔۔۔میں ڈاکٹر کے آفس کے سامنے قطار میں کھڑا ہوں مریض کے سینے میں شدید درد ہے میری باری نہیں آتی ۔۔۔

 

ٹی وی پر انصاف فلاح اور عوامی سہولیات کی باتیں ہیں ۔دوپہر کا کھانا مرضی سے ارڈر پہ کھا کے رہنما آیا ہے خوب بن ٹھن کے آیا ہے آٹا بحران کی باتیں کر رہا ہے اٹھلا اٹھلا کے تبصرہ کر رہا ہے ۔اس کے محکمے میں اربوں کی کرپشن ہوٸی ہے وزیرموصوف اپنی صفایٸاں دےرہا ہے گویا کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔بڑے بڑے عہدے دار پنشن لے کے کروڑوں کی مراعات کے ساتھ ملک سے باہر ہیں اساتذہ ،فوج کے، پولیس کے سپاہیوں اور معمولی سرکاری نوکروں کے پنشن کے چند ہزار روپے قومی خزانے پر بوجھ ہیں ان کو اصلاحات کے نام پر ختم کرنے کی باتیں ہیں ۔قوم کے نماٸندے جاٸدادیں بنارہے ہیں ملک کا کباڑہ ہوا ہے کسی کو کوٸی پرواہ نہیں ۔چمکتی ہلتی کرسیاں ہیں شاندار عمارتوں کے اندر موج مستیاں ہیں ۔قومی نماٸندے بھیک مانگ رہے ہیں دنیا کہتی ہے کہ یار ذرا کرپشن بند کرو کب تک بھیک مانگتے رہوگے۔۔

 

امداد کی رقم آۓ گی ہم اسی طرح قطاروں میں کھڑے رہیں گے ۔۔۔۔۔اگر ہماری تھوڑی سی جاگ اٹھے ہم تھوڑی خوف خدا اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوجاۓ تو یہ قطاریں یہ کربناک انتظار کے لمحے یہ لاپرواہیاں یہ تجاہل عارفانہ یہ سب کچھ ختم ہو جائینگے ہم ایک دوسرے کا درد محسوس کریں گے اللہ کرے ایسا ہو ۔۔غریبی ہمیں کچل رہی ہے اور امیری دھول بن کر امیروں کی انکھوں میں پڑ رہی ہے ہم بے بس ہیں جنبہ داری ہماری پہنچ سے دور ہے وہ ہوش میں نہیں جنبہ داری کیا کریں گے .


شیئر کریں: