Chitral Times

Jan 27, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئینی حقوق سے لاعلمی – محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

آئینی حقوق سے لاعلمی – محمد شریف شکیب

ہمارے آئین اور قانون میں خواتین، بچوں، معذور افراد اور معاشرے کے تمام طبقوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔لیکن عام آدمی کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا علم ہی نہیں۔حالانکہ یہ معلومات درسی کتابوں کے ذریعے عوام کو بتانے کی ضرورت ہے۔مثال کے طور پر بجلی اور گیس کے بلوں کی عدم ادائیگی پر آپ کا میٹر اتارنے کا واپڈا اور محکمہ سوئی گیس کو حق حاصل نہیں۔چار چھ مہینے کا بل اگر کوئی صارف کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں دے سکا تو متعلقہ ادارہ اسے تین بار نوٹس بھیجے گا پھر بھی مثبت جواب نہ آیا تو بجلی کا محکمہ اس کے میٹر سے اپنی تار الگ کر سکتا ہے میٹر اتار کر لے جانا چوری کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ میٹر صارف کی زرخرید ملکیت ہے اسے اتار کر لے جانا قانونی طور پر جرم ہے۔جس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

 

میٹر سے تار الگ کرنے کے باوجود متبادل طریقے سے صارف کو بجلی کی ترسیل بحال رکھنا واپڈا کا فرض ہے بقایا جات کی ادائیگی پر ادارہ میٹر کے ساتھ لائن جوڑنے کا پابند ہے۔عوام کو اپنے اس حق کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اداروں نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔گذشتہ روز پڑوسی ملک بھارت کے صوبہ مدھیہ پردیش کے گاوں رتلام سے تعلق رکھنے والے ایک دیہاتی نے ضلعی عدالت میں ایک دلچسپ مقدمہ دائر کیا ہے۔درخواست گذار کا موقف ہے کہ اسے دو سال قبل ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔مذکورہ خاتون کے شوہر نے بدنیتی کی بنیاد پر یہ الزام لگایا تھا۔عدالت نے سماعت مکمل ہونے پر ملزم کو باعزت بری کر دیا۔مذکورہ شخص نے سرکار ایک سو کروڑ دو لاکھ روپے ہرجانے کا دعوی کیا ہے۔

 

مدعی کا کہنا کہ کہ اسے بے جرم و خطا دو سال قید میں رکھا گیا وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔اس کے جیل جانے کے بعد ںچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور پورا خاندان بھیک مانگنے پر مجبور ہوا۔ جیل سے رہائی کے باوجود اسے کوئی ملازمت دینے کو تیار نہیں، اس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور وہ چھ سو چھیاسٹھ دنوں تک جنسی لذت کے قدرتی تحفے سے محروم رہا ہے۔ان تمام نقصانات کی تلافی سو کروڑ دو لاکھ روپے سے ہی ممکن ہے عدالت نے ہرجانے کا یہ مقدمہ قابل سماعت قرار دیا ہے۔ہمارے ہاں بھی شہری حقوق کی ضمانتیں قانون میں موجود ہیں لوگ اپنے حقوق کے لئے قانونی راستہ اختیار کریں اور قانون شکن عناصر کو قرار واقعی سزائیں ملنا شروع ہو جائیں تو کسی کو قانون توڑنے یا کسی کے حقوق غصب کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔ حکومت،ماہرین قانون، اساتذہ اور میڈیا کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ان کے قانونی اور آئینی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔


شیئر کریں: