Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جنیوا میں منعقدہ انٹرنیشنل فلڈ کانفرنس میں شرکت، صوبے میں ہونے والے نقصانات، بحالی پروگرام اور بین الاقوامی امداد پر بریفنگ

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جنیوا میں منعقدہ انٹرنیشنل فلڈ کانفرنس میں شرکت، صوبے میں ہونے والے نقصانات، بحالی پروگرام اور بین الاقوامی امداد پر بریفنگ

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑا نے سینئیر بیوروکریٹ امتیاز علی شاہ کے ہمراہ جنیوا میں منعقدہ انٹرنیشنل فلڈ کانفرنس میں صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ انٹرنیشنل کمیونٹی خیبرپختونخوا میں امن کے قیام اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے صوبے کی مدد کرے۔ وزیر خزانہ نے صوبے میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور حکومتی اقدامات پر شرکا کو بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 737 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ صوبے کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے دس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ سیلاب سے 311 اموات واقع ہوئیں جبکہ 91 ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے۔ 1 لاکھ ایکڑ سے زیادہ کی فصلیں تباہ ہوئیں، 104 صنعتیں تباہ جبکہ 39 ہزار سے زائد جانور لُقمہ اجل بن گئے۔

 

2010 کے بعد سے لیکر اب تک 60 ارب روپے سیلاب سے بچنے کیلئے حفاظتی پُشتوں کی تعمیر پر خرچ کئے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کیلئے 2022 تک صوبے میں 569 ملین درخت لگائے گئے ہیں۔ بین الاقوامی معیار پر مبنی ریسکیو خدمات نے 70 ہزار سے زائد افراد کی جانیں بچائیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کو مطلوبہ 13 ارب ادائیگیوں میں سے چار ارب ادائیگیاں کی گئیں ہیں۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کیلئے چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کے ٹیلی تھون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی شروع کی۔ صوبے میں گُزشتہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے تیمور جھگڑا نے بتایا کہ پچھلے دو دہائیوں سے صوبے اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردی و قدرتی آفات کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات واقع ہوئیں۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ فی ملین آبادی اموات قبائلی اضلاع میں 5445 ہوئیں۔ بندوبستی اضلاع میں دہشت گردی و قدرتی آفات سے فی ملین آبادی 561 اموات واقع ہوئیں۔

 


شیئر کریں: