Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وفاقی حکومت صوبے کے حقوق روک کر جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے.وزیراعلیٰ

Posted on
شیئر کریں:

وفاقی حکومت صوبے کے حقوق روک کر جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے.وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سابقہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو قبائلی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنے عزم کے مطابق ضم اضلاع کی ترقی و بحالی کے سلسلے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ، تاہم موجودہ وفاقی حکمرانوں کا اس سلسلے میں طرز عمل تشویش کا باعث ہے۔ وفاقی حکومت صوبے کے حقوق روک کر جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے جو صوبے خصوصاً ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ کھلی نا انصافی اور غیر جمہوری عمل ہے۔ ضم اضلاع کےلئے رواں مالی سال میں مختص 55 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 5 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔اسی طرح ضم اضلاع کے 85 ارب روپے کرنٹ بجٹ میں سے بھی صرف 60 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے مسائل کے باوجود انضمام کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل کیا ہے۔ ضم اضلاع کے بیشتر علاقوں میں صوبائی حکومت کو زیرو سے سٹارٹ لینا پڑا کیونکہ ماضی میں ان علاقوں کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ خصوصی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے ضم اضلاع میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد قبائلی عوام کی دہائیوں پر محیط محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، صوبائی وزراءانور زیب خان اور اقبال وزیر کے علاوہ ضم اضلاع سے دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس میں ضم اضلاع کے عوام کے لئے صوبائی حکومت کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف روزگار اسکیم کے دوسرے مرحلے کا اجراءکردیا گیا ہے، جس کے تحت مزید 3000 کے زائد قبائلی نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنے پاو ¿ں پر کھڑے ہو سکیں۔

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ترقی کے دھارے میں لانے اور انکے طرز زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت عملی اقدامات اٹھائے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو چکے ہیں ، موجودہ صوبائی حکومت نے مسائل کے باوجود صوبائی اداروں اور محکموں کی نئے اضلاع تک توسیع یقینی بناکر ثابت کردیا کہ حکومت قبائلی اضلاع کی ترقی و خوشحالی کیلئے نہ صرف پرعزم ہے بلکہ اس مقصد کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران ضم اضلاع کے تمام شعبوں میں متعدد اقدامات مکمل کئے گئے ہیں جن سے قبائلی عوام مستفیدہو رہے ہیں۔ لیویز اور خاصہ داروں کا پولیس میں انضمام، سابقہ فاٹا کے پراجیکٹ ملازمین کی ریگولرائزیشن ،مختلف ضم اضلاع میں صحت سہولیات کی آوٹ سورسنگ اور انصاف روزگار سکیم کا اجراءبڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اس کے علاوہ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو طبی آلات اورایمرجنسی ادویات کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں۔اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی نظر آنے والے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں ضم اضلاع کے طلبا و طالبات کو سکالرشپ کی فراہمی، نئے اساتذہ کی بھرتی ، پلے گراونڈز کی تعمیر،سکولوں کی اپ گریڈیشن ،سائنس اینڈ آئی ٹی لیبارٹریوں کا قیام،سکولوں اورمساجد کی سولرائزیشن ، سڑکوں کی تعمیرو بحالی، مائیکرو ہائیڈل پلانٹس اور گرڈ سٹیشن کا قیام، نئے ٹرانسفارمز اور فیڈرز کی تنصیب جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ضم اضلاع کے دیگر شعبوں صنعت، سیاحت، زراعت، آبپاشی اور قانون و انصاف میں بھی نظر آنے والے اقدامات اٹھائے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت کو ترقی کا یہ سفر ہضم نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے وہ صوبے کے حقوق روک کر مسائل پیدا کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکمران ضم اضلاع کی بہتری کیلئے خود اقدامات نہیں ا ±ٹھا سکتے تو کم ازکم صوبائی حکومت کیلئے روکاوٹیں پیدا نہ کریں۔


شیئر کریں: