Chitral Times

Jan 28, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میں ہوں اپنی شکست کی آواز – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

Posted on
شیئر کریں:

میں ہوں اپنی شکست کی آواز – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

کوئی فرد سیاستدان کے عہدے کیلئے درخواست نہیں دے سکتا، جو اپنے آپ میں ایک منتخب عہدہ نہیں ہے سیاست دان کیا ہوتا ہے؟، افلاطون نے’’سیاست دان‘‘ کے نام سے ایک طویل ڈرامہ لکھا (اس کے مرکزی کرداروں میں سے ایک سقراط تھا)، افلاطون کا ڈرامہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ اس لفظ کو واضح کرنے میں ناکام رہا۔ دی اسٹیٹس مین کے مورخ چارلس اے بیئرڈ نے امریکن مرکری میں لکھا ہے کہ سیاست دان وہ شخص ہوتا ہے جو مستقبل میں اپنے طبقے اور ملک کے مقام کی پیش گوئی کرتا ہے، اپنے ہم وطنوں کو ان کی تقدیر کیلئے تیار کرنے کیلئے دانشمندی سے کام لیتا ہے، جرأت اور دانشمندی کو جوڑتا ہے، خطرات مول لینے کی جرأت کرتا ہے، ضرورت پڑنے پر محتاط انداز میں کام کرنے کی مشق کرتا ہے، اور مناسب حد تک احترام کے ساتھ سٹیج سے باہر چلتا ہے۔ سیاست دان کی تعریفوں میں یہ بھی ایک جامع تعریف ہے۔
کسی زمانے میں ہمارے ہاں مناظروں کا بہت زور ہوا کرتا تھا اور ان سے اس ہنگامہ پسند قوم میں بڑی گہماگہمی رہا کرتی تھی، اب جو کچھ سیاست میں ہونے لگا ہے، تب سے مناظروں کی ہیت بدل گئی ہے، اب دلیل کے بجائے ہنگاموں، الزامات اور کردار کشی نے جگہ لے لی ہے آج اگر تلاش کیا جائے کہ مفکر تبدیلیات کون ہے تو نام بتانے کی ضرورت نہیں، فوراً ایک ایسی شخصیت کا تصور سامنے آ جاتا ہے جس کے قول و فعل کے تضاد نے سیاسی فکر کو نت نئے رنگوں سے روشناس کرایا۔ نوجوانوں کی ذہنی الجھنوں اور عملی مسائل کا قابل عمل حل بتانے کے بجائے اصول کی اصل قوت عمل کو بالائے عقل تسلیم کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نوجوان ذہن صحیح رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے انتشار کا شکار ہے، ہمارے معاشرے کا غلط نظام اُسے ایسے مقام پر لے آیا ہے کہ وہ دو راہے کے بجائے بے شمار راستوں کے سنگم پر حیران و پریشان کھڑا ہے، وجہ اس کی صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہر رہنما کی اپنی اپنی ڈفلی ہے اور اپنا اپنا راگ ہے اور ہر رہنما صرف اپنے راگ کو صحیح ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔
ہمارے سامنے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو دراصل سیاسی مگر بزعم خود نیم مذہبی ہوتا ہے اس کی نیم مذہبی روش کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معصوم چہرہ بنا کر خود ساختہ فلسفوں کو مذہبی ٹچ دیتے رہتے ہیں، ان کا مقصد مذہبی تقدس حاصل کرنا اور نوجوانوں کے سامنے اپنے غیر منصفانہ اور استحصالی پروگراموں کو مذہب کے رنگ میں ڈھال کر نوجوانوں کو گمراہ کیا جائے، ان کے قول و فعل کے تضاد سے اسلام کے متعلق مزید شکوک و شبہات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کے سامنے بھی اسلام کو تضادات سے بھرپور ظاہر کرکے تضحیک ِ دین کا موجب بنتا ہے۔ ان کے تضادات کا یہ حال ہے کہ جھوٹ، مکاری او ر چالبازی ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے اور ایک جمہوریت پسند کافر، ایک غیر جمہوریت پسند مسلمان سے زیادہ قابل حمایت ہو جاتا ہے رہنماؤں کے کرداروں کو جذبات کے اندھے آئینے میں دیکھ کر خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ یہی موصوف سب کچھ بدل دیں گے۔
ملک و قوم کو اس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کیلئے آج معاشیات کے ارسطو جتنے بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں، انہیں سن کر عجیب سا لگتا ہے کہ یہ آخر اتنی سفاکی سے جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں، اعداد و شمار کے گنجلک دھندے سے عوام کو کوئی سروکار نہیں، اسے مہنگے ہوتے آٹے اور ضروریات زندگی کے دسترس سے نکل جانے کا غم ہے، وہ اقتدار کی رسہ کشی میں صرف اپنے مقام کو دیکھتا ہے کہ اسے رہائی کب ملے گی۔ دو اور دو جمع چار کے سیدھے حساب میں سمجھا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ کسی بھی عمارت کو بنانے میں عرصہ لگ جاتا ہے لیکن جب اسے ڈھانے کا فیصلہ ہوجائے تو لمحوں میں بڑی سی بڑی عمارت ڈھا دی جاتی ہے اور وہاں صرف گرد و غبار کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ کچھ یہی حال ہمارا، ان لوگوں نے کردیا ہے جنہیں حکومت کی سمجھ نہیں تھی اور کسی کے کندھے پر سوار ہو کر ملک کے ناخدا بن گئے ، انہیں اس کا کیا علم تھا کہ عوام کیا چاہتے ہیں، انہیں تو بس غرض اس میں تھی کہ کسی بھی طرح ہو، اقتدار کا ہما ان کے سَر بیٹھے۔ بد قسمتی اس نئے تجربے کو بھی ناکامی کا سامنا ہوا اور ملک کو ایک اور نازک موڑ سے گذرنا پڑ رہا ہے۔
رواں برس معاشی حوالے سے جتنا سخت دور کا سامنا عوام کو ہونے والا ہے اس کا ادراک بھی کیا جانا ہول دلا دیتا ہے۔ باہمی چپقلش اور نا اتفاقی نے جو حالات پیدا کئے ہیں اس سے نکلنے کی راہ سیاسی استحکام بتایا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ سیاسی عدم استحکام نے جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے، لیکن اس امر کی یقینی دہانی نہیں مل رہی کہ انتخابات کا انعقاد، پاکستان کے موجودہ حالات میں کس طرح سود مند ہو سکتے ہیں۔ عام انتخابات کا قبل از وقت ہونا ملک کو کس طرح معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے؟۔ مربوط سیاسی ڈھانچہ مضبوط ہی نہیں ہے، پل میں اتحاد تو پل میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ اتحادی اچانک پرائے ہو جاتے ہیں، طویل المدت پالیسی کسی بھی حکومت کی ترجیحات نہیں رہی، کوئی بھی سیاسی جماعت کلی طور پر انتخابات میں کلین سوئپ نہیں کر سکتی، اگر کسی کو اس کی غلط فہمی ہے تو یقیناً وہ خوش فہمی کی جنت میں رہتا ہے۔ ملک کے سیاسی نظام میں کسی بھی ایسی جماعت کو ایسی قوت حاصل نہیں کہ چمک کے بغیر اسے کسی اتحادی کا ضرورت نہ پڑے۔
نظام کو تبدیل کرنے کیلئے پہلے سیاسی رویوں کو بدلنا ہوگا۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔ حیرت ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو، قیدیوں کی ضروریات ِ زندگی کی ذمے داری اپنے سر پر لیتی ہے کیونکہ ان کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہوتا لیکن عوام کی ذمے داری لینے بجائے ۔ الٹا خود عوام کے اوپر طاقت سے زیادہ بوجھ لاد دیتے ہیں، اشرافیہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے عوام کے جینے کی راہ مسدود کرتی چلی جاتی ہیں، عوام کوئی سانپ کے بچے تو ہیں نہیں کہ مٹی کھا کر گزارا کرلیں گے، وہ اپنی ضروریات پورا کرنے کیلئے ہی تو اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ انہیں کیا ملتا ہے اس سے کوئی نابلد نہیں، لیکن جب افلاطون بھی سیاست دان کی تعریف نہ بتا سکے تو بیچارے غریب عوام روٹی کے جھنجھٹ سے آزاد ہوں تو کچھ سوچیں۔

شیئر کریں: