Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنر خیبر پختونخوا کے زیر صدارت جامعہ چترال سمیت پندرہ  پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کانفرنس

Posted on
شیئر کریں:

گورنر خیبر پختونخوا کے زیر صدارت جامعہ چترال سمیت پندرہ  پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کانفرنس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخواحاجی غلام علی کی زیرصدارت صوبے کی اعلی تعلیمی جامعات میں تعلیم کی بہتری، یونیورسٹیوں کے مسائل کے حل اورطلباء وطالبات کو عصر حاضرکے تقاضوں کیمطابق تعلیمی سہولیات مہیا کرنے سے متعلق15 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پرمشتمل گورنرہاؤس میں وائس چانسلرز کانفرنس منعقد ہوئی جوکہ اپنی منفردنوعیت کی ایک طویل کانفرنس تھی جو 6گھنٹے دورانیہ تک جاری رہی۔ کانفرنس میں شامل تمام وائس چانسلرز نے یونیورسٹیوں کو درپیش مشکلات،تعیناتیوں پرپابندی اورتعلیمی معیار کی بہتری پرسیرحاصل گفتگو کی اور تمام وائس چانسلرز نے اپنی اپنی سوچ اور وژن کے مطابق تجاویز پیش کیں۔ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے طویل دورانیہ پر مشتمل کانفرنس میں شرکت کرنے پر تمام وائس چانسلرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلرز کے ساتھ ملاقات کا مقصدنہ صرف انکی مشکلات اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی نظام کی مجموعی صورتحال جاننا تھا بلکہ تعلیمی نظام کی بہتری اور بالخصوص طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک مشاورت کر نا تھی۔

 

گورنرنے فیکلٹی اراکین کے مرتبہ،قدرمنزلت اور ان کی اہمیت کو قابل نظر رکھتے ہوئے طلباء و طالبات کو بہترین اساتذہ کی فراہمی کیلئے تمام یونیورسٹیوں میں فیکلٹی اراکین کی بھرتیوں پر پابندی ختم کرنیکا اعلان کیا جبکہ منسٹریل سٹاف کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کرنے سے متعلق تمام وائس چانسلرز کو ضرورت اوروضاحت کے ساتھ تحریری طور پر آگاہ کرنیکا کہا۔ گورنر حاجی غلام علی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں وائس چانسلرز کے ساتھ کانفرنس میں وائس چانسلرز کی آراء اور تجاویز جاننے کا موقع ملا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں دیگر پبلک یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ کل (جمعہ) کے روز کانفرنس منعقد کی جائے گی جس کے بعد تمام یونیورسٹیوں کی آراء، تجاویز سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ایکشن پلان مرتب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی مشکلات کے حل، بہترین تعلیمی نظام، ریسرچ کے شعبہ کو بہتر کرنا، فیکلٹی اراکین کو تمام سہولیات کی فراہمی اور طلباء و طالبات کوبہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی کیلئے وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورت سے بڑا کوئی فورم نہیں ہے، آپ لوگوں کا معاشرے میں ایک باوقار مقام ہے کیونکہ آپ لوگ اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں ملک کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں،

 

گورنر نے کہا کہ بلاشبہ ہم سب کا واحد مقصد اپنے بچوں کا بہترین مستقبل بنانا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے صوبہ میں بہترین اساتذہ، پروفیسرز اور نوجوان ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم سب نے ملکر باہمی مشاورت سے ایک ایسا اعلیٰ تعلیمی نظام ترتیب دینا ہے کہ جس میں صوبہ کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم دیکر اس قابل بنا سکیں کہ وہ اپنی فیلڈ میں نہ صرف اپنا نام پیدا کرسکیں بلکہ ملک و قوم کیلئے بھی فخر کا باعث بن سکیں۔ پہلے مرحلے میں منعقدہ وائس چانسلرز کانفرنس میں گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان، زرعی یونیورسٹی ڈی آئی خان، زرعی یونیورسٹی پشاور، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی، ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف ملاکنڈ، یونیورسٹی آف سوات، زرعی یونیورسٹی سوات، یونیورسٹی آف شانگلہ، یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف بونیر، شہیدبینظیربھٹویونیورسٹی شرینگل دیربالا، یونیورسٹی آف لکی مروت، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کے وائس چانسلر نے شرکت کی جبکہ صوبہ میں تعلیمی شعبہ میں خدمات انجام دینے والی پرائیویٹ سیکٹرزیونیورسٹیوں جن میں فاسٹ نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے ریکٹر جبکہ سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وائس چانسلرز بھی شریک ہوئے اور اپنی اپنی یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات سے متعلق شرکاء کانفرنس کو آگاہ کیا۔ وائس چانسلرز کانفرنس میں محکمہ ہائیر ایجوکیشن، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے بھی موجود تھے جبکہ سابقہ صوبائی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر سید اختر علی شاہ، عدنان جلیل اور حافظ عبدالغفور نے کانفرنس میں خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

Governor VCs Conference Group Photo


شیئر کریں: