Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مرکز میں ایم ایم اے کی حکومت ہونے کے باوجود ایم این اے عبد الاکبرچترالی کا حزب اختلاف میں بیٹھناچترال کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ حیات اللہ گرزی 

شیئر کریں:

مرکز میں ایم ایم اے کی حکومت ہونے کے باوجود ایم این اے عبد الاکبرچترالی کا حزب اختلاف میں بیٹھناچترال کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ حیات اللہ گرزی

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)  چترال نیشنل مومنٹ کے صدر حیات اللہ خان گیرزی نے کہا ہے کہ  مسائل میں گھیرے ہوئے چترال کے دو اضلاع کے اکلوتے ایم این اے  کی کارکردگی اور نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، وہ قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی شاید نمائندگی کررہا ہے مگر جن لوگوں نے انھیں ووٹ دیکر ایوان میں بھیجا تھا ان کو لالی پاپ کے سوا کچھ نہیں دے سکا ہے۔ ان کی چار سالہ کارکردگی میں ان کے اپنے گاوں بروزویلج کونسل کیلئے بجلی کی فراہمی کیلئے کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جبکہ علاقے کے عوام ان سے بہت سے تواقعات وابستہ کئے ہوئے تھے۔جن پر انھوں نے پانی پھیر دیا۔
 چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے گرزی نے کہا کہ ایک زمانہ تھاکہ میں اور عبد الاکبرچترالی  دیگر ساتھیوں کو لیکر لواری ٹنل تحریک شروع کیا جس میں ہمیں کامیابی ملی۔ اس کے بعد دو دفعہ چترال کے عوام نے عبد الاکبرچترالی کو ووٹ دیا مگر دونوں ٹینور میں مولانا چترالی عوام کو کچھ ڈیلور نہیں کرسکا ہے۔اور تعجب کی بات یہ ہے کہ حزب اختلا ف میں بیٹھنا مولاناچترالی کا شوق اور شیوا رہا ہے جب شوکت عزیز وزیر اعظم تھے تب بھی  مولانا چترالی حزب اختلاف میں تھااور اب بھی وہ شیخ رشید کی نقش قدم پر چلتے ہوئے حسب اختلاف میں بیٹھنے کو ترجیح دیا ہے۔ جبکہ چترال کے عوام نے ایم ایم اے کے امیدوار کو ووٹ دئیے تھے اور اب حکومت بھی ایم ایم اے کی کولیشن پارٹیوں کی ہے۔ مگر چترالی کی حزب اختلاف میں بیٹھنا وقت ضائع کرنے کے ساتھ چترال کے عوام کی  ووٹوں کی حق تلفی  ہے۔  گرزی نے کہا کہ مولانا چترالی شیخ رشید کی نقش قدم پر چلنے کی بجائے حکومتی بینجوں پر بیٹھ کرچترال کے ووٹروں کا حق ادا کریں، شیخ رشید کے حلقے میں بجلی کا مسئلہ ہے ا ور نہ سڑکوں کا جبکہ ریلوے لائن ان کی حلقہ سے گزرتی ہے،
انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے وقت اسلام اور مذہبی جماعت ودیگر نعروں سے لوگوں سے ووٹ لیا گیا مگر آ ج اُسی ایم ایم اے کی کولیشن گورنمنٹ ہے مگر مولانا چترالی اکیلا حسب اختلاف میں بیٹھ کر اپنی سیاسی دکان چمکانے کی کوشش کررہا ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ حکومتی بینچوں میں بیٹھ کر چترال کے خستہ حال سڑکوں پر کام کو تیز کرنے،لواری ٹنل کے بقایا کام مکمل کراتے، اپر چترال میں بجلی کی ناگفتہ بہہ صورت حال اور ناروالوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرانے میں کردار کرتے مگر افسوس کا مقام ہے کہ وہ ڈیسک بجانے کو ترجیح دیا ہے، گرزی نے کہاکہ اور کچھ کام نہیں کرسکتا تو سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کے منظور کردہ چترال کے گیس پلانٹس کی بحالی، بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن، اپر چترال کیلئے الگ گرڈاسٹیشن ودیگر منصوبوں پر عمل درآمد کراتے مگر افسوس صد افسوس مولانا چترالی نہ خود کچھ کرسکا اور نہ سابقہ ایم این اے کی منصوبوں کو بحال کراسکا۔ ہاں البتہ مولانا چترالی کی قومی اسمبلی میں حاضری سب سے زیادہ ہیں جس کیوجہ سے وہ تنخواہ اور مراعات بھی پورا حاصل کرسکیں گے۔ مگر کیا ان کی حاضری سے چترال کے عوام کو کچھ ملنے والا ہے، نہیں،
انھوں نے کہا کہ مولانا چترالی نوے فیصد نان ایشوز کو ایشوز بناکر اسمبلی میں پیش کرتا ہے جس میں چترال کے عوام یا مسائل کا دور کابھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔ لہذا چترال کے عوام جماعت اسلامی چترال کے ذمہ داروں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا ہم نے مولانا چترالی کو حسب اختلا ف میں بیٹھ کر ڈیسک بجانے کیلئے ووٹ دئیے تھے؟ اور کیا آئندہ  الیکشن میں بھی آپ لوگ مذہبی جماعتوں کا  لبادہ اّڑ کر لوگوں کو پھر سے دھوکہ دینے کیلئے آئیں گے؟ حیات اللہ گرزی نے مولانا چترالی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ بحثیت ایم ایم اے کا ایم این اے حکومتی بینچوں میں بیٹھ کر چترال کے چیدہ مسائل کو فوری حل کرنے کی کوشش کریں بصورت دیگر ائندہ الیکشن میں ڈیسک بجانے کیلئے  چترال کے عوام ووٹ ضائع نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ مذہبی جماعتیں دوبارہ اتحاد کرکے چترال کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں۔

شیئر کریں: