Chitral Times

Mar 2, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لاہور ہائیکورٹ: قیام پاکستان سے قبل کے 78 برس پرانے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

شیئر کریں:

لاہور ہائیکورٹ: قیام پاکستان سے قبل کے 78 برس پرانے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

لاہور(سی ایم لنکس)صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے قبل کے 78 برس پرانے اراضی سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سنا دیا۔تفصیلات کے مطابق اراضی سے متعلق 78 برس پرانے تنازعے کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی، جسٹس مزمل اختر شبیر اور جسٹس محمد اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔درخواست کے مطابق سنہ 1944 میں فضل محمود اور اسلم نامی افراد نے لائل پور میں 19 کنال اراضی دھنا سنگھ نامی شخص کو فروخت کی، دھنا سنگھ 1947 میں آزادی کے بعد بھارت چلا گیا۔سنہ 1951 میں فضل محمود کے بیٹے خالد محمود نے زمین فروخت کرنے پر اپنے والد اور دھنا سنگھ کے خلاف سول کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا، سول عدالت نے دھنا سنگھ کے پیش نہ ہونے پر 1952 میں زمین کا فیصلہ خالد محمود کے حق میں دے دیا۔1962 میں زمین فروخت کرنے والے دوسرے شخص اسلم کے بیٹے نجیب نے خالد محمود کے نام زمین کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست دے دی جسے سول عدالت نے منظور کر لیا.
بعد میں خالد محمود نے فیصلے کے خلاف اپیل کی جو مسترد ہو گی، نجیب کے ورثا نے سنہ 2018 میں سول عدالت کے فیصلے پر عمل کے لیے ہائیکورٹ میں درخواست دے دی۔اب عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آزادی کے بعد پاکستان سے جانے والے غیر مسلموں کی زمین سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کی ملکیت تھیں، خالد نے سنہ 1951 میں بدنیتی پر مبنی دعویٰ سول کورٹ میں دائر کیا اور سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کو فریق نہیں بنایا۔عدالت نے کہا کہ سول کورٹ کا آرڈر غیر قانونی تھا، اراضی بنیادی طور پر وقف املاک بورڈ، حکومت پاکستان کی ہوچکی تھی، دونوں درخواست گزاروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔عدالت نے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) لاہور کو ہدایت کی کہ معاملے کو دیکھیں اور اس کے حوالے سے ضروری کارروائی کریں۔2 رکنی بینچ نے اپیل دائر کرنے والے مرحوم نجیب اسلم کے وارثان پر بھی 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

شیئر کریں: