Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے۔وزیراعلیِ

Posted on
شیئر کریں:

صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست کے قیام کے وژن کے تحت عوام کی فلاح وبہبود کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن سے عوام بلاتفریق مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکز شہریوں کے طرز زندگی کو بہتر بنانا اور انہیں دور جدید کی تمام سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہفتہ کے روز صوبائی حکومت کی اصلاحی اور فلاحی حکمت عملی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے جاری اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ محمودخان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا پہلا اور حتمی ہدف ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال کر دیر پا ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور خدمات کی فراہمی کے نظام تک عوام کی یکساں رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو عوام کے حقوق کے لیے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پلس اسکیم، یکساں نصاب تعلیم کا اجرائ، ہسپتالوں اور صحت مراکز کی ریویمپنگ، دور افتادہ علاقوں میں صحت سہولیات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر چلانا، سروسز ڈیلیوری سنٹرز کا قیام، آئمہ مساجد اور اقلیتی برادری کے مذہبی رہنماوں کو اعزازیہ کی فراہمی، پبلک کمپلینٹ سیلز کا قیام، پٹوار سسٹم میں اصلاحات، مساجد کی سولرائزیشن اور ای گورننس پالیسی کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا۔

 

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت کی فلاحی کاوشوں اور اقدامات کا آزادانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کے لیے اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات اٹھائے ہیں اور اس نے بے شمار چیلنجز اور مسائل کے باوجود فلاح انسانیت کے منشور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین کی طرف سے منفی پروپیگنڈہ کے باوجود عوام کے پی ٹی آئی کے طرز حکومت پر اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ آئے دن پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ واضح رہے خیبر پختونخوا حکومت کے قابل ذکر منصوبوں میں صحت کارڈ سمیت دیگر بڑے منصوبے شامل ہیں جن سے بڑے پیمانے پر لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ صحت کارڈ پلس منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 96 لاکھ خاندانوں کو مفت علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہے جو عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ صحت کارڈ اسکیم سے اب تک لاکھوں افراد مفت علاج کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔ صحت کارڈ میں لیور ٹرانسپلانٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے علاج کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ صوبے کے غریب یا متوسط طبقے کو ان بیماریوں کے علاج کیلئے اپنی کوئی جائیدا د نہ بیچنی پڑے۔ اس کے علاوہ عوام کو شہری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے سروس ڈیلیوری سنٹرز اور سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر لوگوں کو زمینوں کے فرد کا اجراءاور ڈومیسائل سر ٹیفیکیٹ سمیت دیگر خدمات آسان اور آن لائن فراہم کی جارہی ہیں۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کے ای۔ گورننس منصوبے کا ایک اہم جز ہے۔

 

مزید برآں صوبائی حکومت تمام شہریوں کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے دوررس اقدامات اٹھا رہی ہے جن میں پہلے سے موجود سکولوں کی بحالی و اپگریڈیشن ، ضرورت کی بنیاد پر نئے سکولوں کا قیام ، سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی،طلبہ کو تعلیمی وظائف کی فراہمی اور اساتذہ کی بھرتی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت مختلف اضلاع میں ماڈل سکولز بھی قائم کر رہی ہے جن میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے گی۔خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ مقرر کیا جبکہ خطیبوں کیلئے مختص تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح اقلیتی مذہبی پیشواو¿ں کو بھی اعزازیہ دیا جارہا ہے اور صوبہ بھر میں مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے۔ اب تک تقریباً آٹھ ہزار مساجد کوشمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید نو ہزار مساجد کی سولرائزیشن پر کام جاری ہے۔صوبائی حکومت کے مذکورہ اقدامات بلاشبہ ایک فلاحی معاشرے کے قیام کی طرف اہم پیشرفت ہیںاس کے علاوہ مختلف شعبوں میں مزید اصلاحات اور اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔


شیئر کریں: