Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاشہ کمیونٹی کو شناخت دینے کے حوالے سے وفاقی سطح پر مشاورتی اجلاس 

Posted on
شیئر کریں:

کالاشہ کمیونٹی کو شناخت دینے کے حوالے سے وفاقی سطح پر مشاورتی اجلاس

اسلام آباد ( چترال ٹایمز رپورٹ ) کالاش کمیونٹی کو شناخت دینے کیلئے وفاقی سطح کا مشاورتی اجلاس اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ میٹنگ کا مقصد تمام سرکاری دستاویزات میں کالاشہ کو بطور مذہب شامل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنا تھا۔ کالاشہ کے لوگوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر بات کرنا بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔ پہلے سیشن میں ڈاکٹر شعیب سڈل چیئرمین ہیومن رائٹس ون مین کمیشن مہمان خصوصی تھے، لوک رحمت نے اس معاملے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور موجودہ صورتحال کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ اپنے پریزنٹیشن کے دوران انہوں نے تنظیم کی طرف سے کرائی گئی تازہ ترین مردم شماری پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کالاشہ کے لوگوں کی موجودہ آبادی 3980 ہے جس میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعدادبہت کم ہے۔ یعنی 200 خواتین مردوں سے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیونٹی کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے حاضرین کو قانونی شناخت کی اہمیت اور اس حوالے سے اپنی ٹیم کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں گے اور کالاشہ کے لوگوں کو ان کی شناخت دلانے میں مدد کریں گے۔ ڈاکٹر شعیب نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی نگرانی میں خصوصی طور پر اقلیتوں کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ کالاشہ برادری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے حکومت خیبر پختون خوا کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے دیگر صوبوں کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیا۔

اجلاس کے دوسرے سیشن میں حکومتی مشیر بیر سٹر حافظ احسان احمد کھوکھر مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ اس نشست میں کالاشہ برادری کے 25 افراد جن میں منتخب نمائندے، وکلاء، عمائدین، خواتین، نوجوان اور مذہبی پیشوا شامل ہیں موجود تھے۔ مہمان خصوصی نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ، ڈاکٹر زوبیہ سلطانہ ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ لوک ورثہ، نابیگ ایڈووکیٹ اقلیتی کونسلر، مہوش ممتاز بیگ اینکر پرسن اور مختار منیجر نے بھی خطاب کیا۔

اجلاس میں سابق ایم این اے پی ایم ایل این اسفندیار بھنڈارا اور دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔

chitraltimes kalasha consultation meeting islamabad


شیئر کریں: