Chitral Times

Feb 8, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنے دشمن آپ – میری بات; روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

اپنے دشمن آپ – میری بات; روہیل اکبر

پاکستان کی معاشی صورتحال تو خراب ہے ہی ساتھ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی بھی زد میں ہیں اور ابھی تک ہم اس تبدیلی سے باہر نہیں نکلے جو سندھ،بلوچستان اور پنجاب میں سیلاب کے بعد آئی تھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ خاندان ابھی تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکے اوپر سے اقوام متحدہ نے پھر خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل قریب میں مزید تباہی کا باعث بنیں گے جبکہ اسی سال موسم گرما میں آنیوالا تباہ کن سیلاب ایک واضح یاد دہانی تھی کہ پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے سبب شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اگست میں ایک قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنا پڑاکیونکہ ملک کا ایک تہائی حصہ پانی کے اندر ڈوب چکا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں زمین کے مسلسل گرم ہونے کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے سبب درپیش ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں ہماری ناکامی پر افسوس کا اظہاربھی کیا گیا

 

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او)کی ایک حالیہ تحقیق کا بھی حوالہ دیا گیا جس کے مطابق 2060 میں دنیا کو شدید گرمی کی لہروں کا بار بار سامنا رہے گا۔ اقوام متحدہ 9 جنوری کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلینٹ پاکستان کے موضوع پر ایک عالمی کانفرنس کی میزبانی کرے گا جس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا جبکہ اسی تبدیلی کے نتیجے میں بلوچستان میں بارش اور برفباری کی صورتحال کے باعث محکمہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ (پی ڈی ایم اے)کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جسکے بعد تمام اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ اور ڈیوٹی کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے اسکی وجہ شائد یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کا درخت لگانے کی بجائے انہیں کاٹ دیتے ہیں خاص کر بڑے شہروں میں سبزہ زاروں کی کمی کی وجہ سے ہم بدترین ماحولیاتی مسائل کا شکارہیں یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم فضائی آلودگی میں نمبر ون ہوتے ہیں تو کبھی معاشی آلودگی میں جو ہمیں جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج بناتی جارہی ہے اور فضائی آلودگی میں اضافہ سے نت نئی بیماریاں جنم بھی جنم لے رہی ہیں

 

اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ سانس لینا بھی دشوارہوچکا ہے شہروں کی بے ہنگم آبادی اورخراب آب و ہوا سے ایک عام انسان کی زندگی میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں اور اس وقت سب سے مشکل اور تکلیف میں جو طبقہ ہے وہ کرائے داروں کا ہے پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کا لالچ دیکر غریب عوامکو اپنے پیچھے لگایا تو تھا مگر انہیں یہ چیزیں اب تک میسر نہ آسکی اور بڑھتی ہوئی آبادی سے شہروں میں رہنے کے اخراجات میں اضافہ سے دستیاب سہولیات پر بوجھ پڑ گیا بے 2008 میں پاکستان کے 14.8 فیصد شہری گھرانے کرایہ دار تھے اور یہ تعداد 2020 میں بڑھ کر 22 فیصد ہو گئی صوبہ سندھ سب سے آگے ہے جہاں 26 فیصد خاندان کرائے پر رہتے ہیں اس کے بعد خیبر پختونخواہ میں 23 فیصد،بلوچستان میں 22.5فیصد اور پنجاب میں 19فیصد خاندان کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ہماری دیہی آبادی اکثر زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے کہ پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت، سڑک کے بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ سے محروم رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ شہروں میں چلے جاتے ہیں اور معیاری زندگی کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

 

یہی بنیادی سہولیات اگر دیہات میں میسر ہوں تو کوئی شخص شہر کا رخ نہیں کریگا کیونکہ جو ماحول اور فضا ہماریدیہاتوں کی ہے وہ شہروں میں نہیں ہے اس لیے حکومت کو بھی چاہیے کہ دیہی علاقوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کر کے وہاں پانی، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، سڑکیں، ٹرانسپورٹ، معیاری خوراک فراہم کرنی چاہیے جب مقامی لوگوں کو یہ سہولیات ان کے آبائی شہروں میں ملیں گی تو وہ کبھی شہروں کی طرف ہجرت نہیں کریں گے پاکستان میں آبادی میں اضافے کی بلند شرح کا مطلب غربت، ناخواندگی، کم معیار زندگی، خوشحالی کا فقدان، اور غربت کا شیطانی چکر، دولت کی غیر مساوی تقسیم اوربیماریاں ہیں ہماری بڑھتی ہوئی شہری آبادی روزگار کی منڈیوں کے لیے سنگین چیلنجز کا باعث بنتی جارہی ہیں ان سے ہم تب ہی نمٹ سکیں گے جب ہمارے حکمران ہمیں لال بتی کے پیچھے نہیں لگائیں گے ہمارے مسائل کی جڑ اور پیداوار ہمارے حکمران ہی ہیں جو اپنے بہتر مستقبل کی خاطر ہمارا مستقبل تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کرنا حکمرانوں کا کام ہے اداروں نے ان پر عمل کرنا ہوتا ہے مگر یہاں پر سب کچھ الٹاہی الٹا ہے

 

ادارں میں بیٹھے ہوئے افراد حکمرانوں کے ساتھ ملکر لوٹ مار میں مصروف ہیں اور یہاں غریب آدمی سر درد کی گولی کے لیے لائن میں لگا ہوا ہے پینا ڈول بخار کی دوائی ہے جو کسی میڈیکل سٹور پر بھی دستیاب نہیں یہاں پر ڈرگ انسپکٹر بھی کمال کے ہیں جو سٹوروں سے پیسے اکھٹے کرنے میں مصروف ہیں معاشی دہشت گردی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہر شخص متاثر نظر آرہا ہے ابھی تک تو ہم مذہبی دہشت گردی سے باہر نہیں نکلے اوپر سے معاشی دہشت گردی نے بھی ہمیں دبوچ رکھا ہے حالات ہمیں کس طرف لے کر جارہے ہیں پہلے تو شائد دھندلا سے نظر آتا تھا لیکن اب تو واضح نظر آرہا ہے آنے والے دنوں میں ہم کس صورتحال سے دوچار ہوسکتے ہیں اب بھی نہ سنبھل پائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بچا نہیں پائے گی حالیہ سیلاب کی صورتحال ہمارے سامنے ہیں غریب لوگ سڑکوں پر ہیں اور ہم غیر ملکی امداد کے انتظار میں ہیں تاکہ وہ آئے تو اسکی بندر بانٹ کی جائے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے دشمن خود ہی بنے ہوئے ہیں۔


شیئر کریں: