Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک سال اور گزر گیا – تحریر صوفی محمد اسلم

Posted on
شیئر کریں:

ایک سال اور گزر گیا – تحریر صوفی محمد اسلم

سال2022 جانے اور سال 2023 داخل ہونے والا ہے ہم کسی نہ کسی طرح مملکت خداداد میں اپنا ایک سال مذید گزار دیے۔ جس طرح غریبوں کے حالات گزرا خدا کرے ایسا کھبی نہ گزرے۔ معاشیات و سیاسیات  کے تاجداروں نے خزانے کو خزاں کے پتوں کی طرح اڑانے سے چپ چاپ غریبوں کے اوسان جھولتے رہے۔ ستم یہ ہے ایک طرف مہنگائی پھیل گئی تو دوسری طرف آفات پر پھیلاتے داخل ہوئے۔
بندہ کرے تو کیا کرے انسانی جسم میں تین قوتیں ہوتے ہیں قوت ایمان، قوت مدافعت  اور قوت فراست ۔ ان 75سالوں میں عوام یہی ازماتے رہے ہیں مگر سب نظام بے لگام  کے سامنے مات کھا گئے۔ قوت ایمان کب کے مٹ چکی ہے اور قوت مدافعت آزمائی پر بعض کے سافٹ وئیر اپڈیٹ  ہوگئے اور بعض پر قہر چنگیزی نازل کیے گئے ،کئی دیش میں کٹ گئے کئی پردیس میں مٹ گئے اور باقی بدلتے موسم کے انتظار کرتے رہے نہ کوئی بادل ائے  نہ کوئی بارش ہوئی۔
اگر غور کیاجائے تو یہ زمین و سما رنگ بھی انسانوں کو دیکھ کر بدلتے ہیں۔ بلال رضی اللہ آزاد ہوا کیونکہ وہ زمین و سما کو رنگ بدلنے پر مجبور کیا۔ جتنے بھی عزیم شخصیات جسے آج بڑے فخر کے ساتھ ہم یاد کرتے ہیں وہ اپنے اسطاعت سے بڑھ کر کوششیں کیے ۔ بہتے دریا کے ساتھ بہتے چلے گئے ہوتے تو آج ہمارے دلوں پر راج نہ کرتے۔
حالات نہ بدلنے کی وجہ کہی نہ کہی ہمارے ہی ہاتھ ہیں۔ 75 سالوں سے ہم بہتے دریا کے ساتھ بہتے رہتے ہیں جو کہتے تھے وہی کرتے تھے آج بھی وہی کررہےہیں۔  پہلے بھی ہم سے گھاس کھانے کو کہتے تھے آج بھی ہم سے گھاس کھانے کو کہ رہے ہیں۔ عدالتوں میں پہلے بھی ہم خوار ہوتے تھے آج بھی ہورہے ہیں، سرکاری ملازمین سے پہلے بھی ہم ڈرتے تھے آج بھی ڈررہے، سیاسی لوگوں  کے پہلے بھی خوشامدی کرتے تھے آج بھی کررہے ہیں۔ظلم پہلے بھی ہم دیکھ کر خاموش رہتے تھے آج بھی خاموش رہتے ہیں۔
75سال پہلےبیمار قائد کے ڈرائیور کو گاڑی سنسان راہوں پر دھکے مارتے ہوئے دیکھے تھے  اور آج ارشد کے جگر سے لالہ گل بہتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔ رنگ لال سے جو رنگین ہوا وہ یا تو یہ مٹی ہوئی یا سینہ چیرتے ہوئے گولی۔ نہ کسی کے جبین پر شکن نمودار ہوئی نہ کسی کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔
یوں ازماتے رہے کھبی آسمان کو تو کھبی ہاتھ کے لکیروں کو کوستے رہے، نہ آسمان سے آواز ائی” کن فیکون” نہ ہمارے قسمت کی لکیریں لبریز ہوئیں۔ سب کا یہی کہنا ہے جب تک تو خود اپنا تقدیر بدلنے کی کوشش نہ کروگے تمہارے تقدیر بدلا نہیں جائے گا۔
یہ کیسا ہوسکتا ہے کہ کسی مسلے کا حل نہ ہو۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہمارے آباواجداد جو کشتی دشمنوں سے چھین کر ہمارے حوالے کیے ہمارے پاس وہ قوت و ہمت ہی نہ ہو کہ اسی کشی کو کناروں میں پہنچائے ۔ اگر ہم اپنے انا اور ذاتی مفادات کو پھیچے دھکیل کر باہمت اور سمجھ داری سے کام لینگے دیر سہی کناروں پر پہنچ ہی جائیں گے ۔
تحریر صوفی محمد اسلم

شیئر کریں: