Chitral Times

Jan 28, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاکوئی امکان نہیں، ایسی باتیں کرنے والے نام نہاددانشوروں کوناکامی اورمایوسی ہوگی، وزیرخزانہ سینیٹرمحمداسحاق ڈار

Posted on
شیئر کریں:

پاکستان کے دیوالیہ ہونے کاکوئی امکان نہیں، ایسی باتیں کرنے والے نام نہاددانشوروں کوناکامی اورمایوسی ہوگی، وزیرخزانہ سینیٹرمحمداسحاق ڈارکا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب

اسلام آباد( چترال ٹایمز رپورٹ )وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداسحاق ڈارنے کہاہے پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا اور اس بات کاکوئی امکان نہیں،دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے نام نہاددانشوروں کوناکامی اورمایوسی ہوگی،پاکستان کو مشکلات کے بھنورسے نکالنا ہے،اقتصادی زونز میں پیش رفت ہورہی ہے، زراعت کیلئے پیکج دیا گیا،حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارے کو 8 فیصد سے نیچے لانا، پرائمری بیلنس کوسرپلس اور سٹاک ایکسچینج کوبہتر بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے خیالات کااظہار بدھ کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گونگ تقریب سے اپنے ویڈیوخطاب میں کیا۔وزیرخزانہ نے تقریب میں شرکت کی دعوت پرمنتظمین کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ سٹاک اورکیپٹل مارکیٹ کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔،وزیرخزانہ نے کہاکہ بدقسمتی سے سابق حکومت نے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبہ کوبھی نظراندازکیا، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن گزشتہ دوسالوں سے بدقسمتی سے فعال نہیں تھا، موجودہ حکومت نے شفاف عمل کے ذریعے اسے مکمل کیا، ایس ای سی پی کے قوانین میں ہم نے ترامیم کیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ کسی بھی ملک کے سمت کو درست اورمثبت راہ پرگامزن کرنے میں سٹاک ایکسچینج کا اہم کردار ہوتا ہے، ہماری گزشتہ حکومت نے کارپوریٹ شعبیمیں اصلاحات کیں، کمپنی آرڈی ننس میں ترامیم کی گئیں ان اصلاحات سے سٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا کی بہترین سٹاک مارکیٹ بن گئی، اس شعبہ کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اورمل کر اس شعبے کوترقی کی راہ پرگامزن کریں گے۔

 

وزیرخزانہ نے کہاکہ کارپوریٹ شعبے کے ٹیکس سے متعلق معاملات ایف بی آر کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاجر اورصنعت کارکمیونٹی ملک کے ساتھ کھڑی ہے جب پاکستان 2013 میں میکرواکنامک عدم استحکام کا شکارتھا اوریہ بات کہی جارہی تھی کہ جوبھی حکومت بنے گی وہ 6 سے 8 ماہ میں ڈیفالٹ ہوجائیگی مگر پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے حکومت کا ساتھ دیا اور تین سال کے عرصہ میں ہمارے معاشی اشاریئے درست ہوگئے، افراط زرکی شرح 4.6 فیصد ہوگئی، خوراک کی افراط زرکی شرح 2 فیصد تھی،ہماری سٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا کی بہترین سٹاک مارکیٹ بن گئی پاکستانی کرنسی دنیا کی بہترین کرنسیوں کی دوڑ میں شامل ہوگئی، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں خاطرخواہ اضافہ ہوا، 100 ارب ڈالرکی مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہوئی۔انہوں نیکہا کہ یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ گزشتہ چارسالوں میں 70 ارب ڈالرکی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کیوں متاثرہوئی، ہم نے جواقدامات کئے اس کے تحت 2030 میں پاکستان نے دنیا کی 20 بہترین معیشیتوں میں جانا تھا،ہمیں سوچنا چاہئیے کہ گزشتہ چاربرسوں میں ایسا کیا ہوا کہ ہم اب ایک ایک ڈالر کیلئے بھاگ ڈور کررہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کامستقبل بہترین اورشاندارہے، معشیت کو پائیدار اورلچکدار بنانا ہوگا، میں روزسنتا ہوں کہ ملک دیوالیہ ہورہاہے، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا اس بات کاکوئی امکان نہیں، ہمیں مسائل درپیش ہیں مگران مسائل پرقابوپایا جارہاہے، یقینی بنائیں گے کہ ملک کوآگے لیکر جائیں، ہم ہوں یا نہ ہوں مگرملک کا مستقبل روشن ہے،ہم سب مل کرملک کودرست راہ پرگامزن کریں گے۔

 

وزیرخزانہ نے کہاکہ اسی طرح پاکستان کے ساورن بانڈز کی ادائیگی کے حوالہ سے قیاس آرائیاں ہوئیں کہ اس کی ادائیگی نہیں ہوگی،یہ قیاس آرائیاں نام نہاددانشوروں نے پھیلائیں، یہ وہی لوگ ہیں جو اس ملک کو اس نہج پرلانے کے ذمہ دارہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، لیکن مسئلہ ہے کہ ہم سستی سیاست اورمفادات کیلئے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے جی ڈی پی کے حوالہ سے قرضوں کی شرح 72فیصد ہے، ہماری گزشتہ حکومت کے اختتام پریہ شرح 62 فیصدتھی، اس وقت امریکا میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 110 فیصد، جاپان کی 257 فیصد اوربرطانیہ کے 101 فیصد ہیں کئی ممالک میں یہ شرح110 فیصد سے اوپر ہے مگر رہاں کوئی دانشور یہ راگ نہیں الاپتا، ہم اپنے بدترین دشمن خود ہیں۔وزیرخزانہ نے تاجروں، صنعت کاروں اورمعاشی ماہرین پرزوردیا کہ وہ اپنے کاروبار کے علاوہ پاکستان کیلئے بھی وقت دیں۔انہوں نے کہاکہ یہ ملک رہنے کیلئے بناہے، یہ میرا ایمان ہے، ورنہ میں چوتھی مرتبہ وزیرخزانہ نہیں بنتا، ہمیں مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں پاکستان کی خاطرسوچنا چاہئے اور مذموم پراپیگنڈہ کا توڑ کرنا چاہیے، سیاسی اورذاتی مقاصد اوراہداف کے حصول کیلئے پراپیگنڈہ کرنے والے نام نہاد دانشور لوگوں کوڈرا رہے ہیں جس کی وجہ سے کوئی سونا خرید رہاہے کوئی ڈالر۔انہوں نے کہاکہ پاکستان مشکلات کے بھنورمیں ہے مگراسے اس بھنورسے نکالنا ہے، ہمیں سنجیدہ مسائل درپپش ہے ہمیں اس سے نکلنا ہے اورہم نکلیں گے۔ پیرس کلب میں نہ جانے کا فیصلہ ہم نے کیا تھا اور میں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ ہمیں پیرس کلب نہیں جانا ہے کیونکہ اگلے سال ہم نے 31 ارب ڈالرکا انتظام کرنا تھا اسلئے یہ فیصلہ کیاگیاہے،

 

پاکستان نے اپنے بین الاقوامی بانڈز کی ادائیگی وقت پرکی کیونکہ یہ ملک کی ساکھ کا معاملہ تھا،حالیہ دورہ واشنگٹن میں کئی لوگوں نے کہاکہ آپ نے اچھے فیصلے کئے جس کا پاکستان کوطویل المیعاد فائدہ ہوگا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ملکی معیشت بالخصوص زراعت اوربرآمدی شعبہ کیلئے حکومت نے خصوصی ترجیحی اقدامات کاآغازکیا ہے۔ حکومت نے توانائی کی ضروریات کو ترجیحات میں شامل رکھا اس میں پہلی ترجیح ہے کہ ضروری درآمدات کو فروغ دیا جائے،سٹیٹ بینک نے اس حوالہ سے اقدامات کئے ہیں، برآمدی صنعت کیلئے خام مال کی فراہمی کے ضمن میں درآمدات کوترجیح دی گئی، زراعت کو بھی درآمدات میں ترجیح دی گئی ہے، کل رات سٹیٹ بینک نے اس حوالہ سے سرکلربھی جاری کردیا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ تاجروں اورصنعت کاروں کی تجاویز کا جائزہ لیاجائیگا اوراس پرحکومت ان پرغورکرے گی۔وزیرخزانہ نے کہاکہ سٹاک مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری آئیگی، انہوں نے کہاکہ 2018 کے الیکشن والے دن انڈکس 19000 پوائنٹس تھی، ہمارے گزشتہ دورمیں انڈکس 50000 سے اوپر چلا گیاتھا، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اس حالت میں کیسے پہنچے ہیں، تاجروں اور سیاستدانوں کوہاتھ میں ہاتھ ڈال کرآگے بڑھنا ہے، میرا دل رورہا ہے کہ پانچ سال پہلے ہم کہاں تھے اورآج کہاں ہے، انشاء اللہ پاکستان ترقی کی راہ پرگامزن ہوگا، تاجر اورصنعت کارمحب وطن پاکستانی ہیں ان کی خدمات کا فائدہ ہوگا، ماضی میں بھی ہواتھا اوراب بھی انشاء اللہ ایسا ہوگا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ بیرونی کھاتے ایک مسئلہ ہے مگرہم صورتحال کا انتظام وانصرام کررہے ہیں، ہم وسائل مجتمع کررہے ہیں،انشاء اللہ مالی سال سال کے آخرمیں ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے،

 

انہوں نے کہاکہ ڈالروں کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے حکومت نے قانون نافذکرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں، بارڈرایریا میں ڈالر لئے جارہے ہیں اورہم نے اس کوروکنا ہے یہ معاشی جنگ ہے اوراس پرقابو پانا ہے، پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیاں اس حوالہ سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پالیسی ریٹ زیادہ ہے تاہم اس کا تعین سٹیٹ بینک کرتا ہے جو خودمختارہے۔ ترکیہ میں پالیسی ریٹ اس سے بھی زیادہ ہے، پاکستان میں افراط زرمیں درآمدی افراط زرکا زیادہ کردار ہے، روپیہ کی قدر میں کمی کابھی نقصان ہواہے مگر ملک کے ساتھ جو تجربے کئے گئے ہیں اس کا وہ یہ موجودہ حکومت زمہ دارنہیں ہے تاہم اسے درست پرگامزن کرنا ہماری ذمہ داری ہے،ہم ڈراموں کوایک طرف رکھیں گے، کسی کوانتقال کانشانہ نہیں بنائیں گے اورملک کوآگے لیگرجائیں گے۔

 

وزیرخزانہ نے کہاکہ ہم آئی ایم ایف کا پروگرام پوراکریں گے، ہم نے پہلی بار 2013 میں آئی ایم ایف کا پروگرام پوراکیاتھا، میری کوشش ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان کے ساورن وعدوں کوپوراکیا جائے مگر پاکستان کے عوام کواس کا یرغمال نہیں بنانے دیں گے، اگر ہم عوام کوفوری طورپر کوئی ریلیف نہیں دے سکتے تو کم سے کم ان پرمزید بوجھ نہ ڈالاجائے،پٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی کے حوالہ سے ماضی کی حکومت نے جتنی کمٹمنٹ کی تھی ہم نے اس کو پوراکیا مگر اس کے باوجود عوام کو ریلیف دے رہے ہیں۔وزیرخزانہ کہاکہ حالیہ بارشوں اورسیلاب نے بھی ملک کی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا، سیلاب سے ہمیں 30 ارب ڈالرکا نقصان ہواہے،تعمیرنو وبحالی کیلئے ہمیں اگلے 5 یا سالوں میں 16 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، اس کیلئے بھی کوششیں کررہے ہیں، ایک باوقار قوم کی حیثیت سے مشکل صورتحال سے نکلیں گے۔ کوشش ہوگی کی افراط زرکو نیچھے لایا جائے، حکومت نے مالیاتی خسارہ کو کم کیاہے، چیزیں اچھے انداز میں جارہی ہے، جولوگ ڈیفالٹ کا رونا رو رہے ہیں انہیں مایوسی ہوگی، جاری مالی سال میں تمام واجبات اوربیرونی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

 

وزیرخزانہ نے کہاکہ کیپٹل مارکیٹ میں بہت بڑا سکوپ ہے، یہ بتدریج اوپرجائیگی، وقت لگیں گا مگرایک ساتھ مل کرملک کومسائل سے نکالیں گے۔2017 میں طے کردہ راستے پرچلتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔ ہمارا پہلا ہدف اندروانی قرضوں کی ضروریات پرہونا چاہیے اس کیلئے سٹاک مارکیٹ کی طرف اور بیرونی قرضوں کیلئے بانڈز مارکیٹ کی طرف جانا ہے، ہمیں اپنے معاشی اشارئے درست کرنا ہوگا اوردنیا کودکھانا ہوگا کہ ہماری معیشت اوپر جارہی ہے۔جب تک معیشت کے بنیادی اورڈھانچہ جاتی مسائل مسائل حل نہیں ہوگے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ سی پیک پرکام جاری ہے،اقتصادی زونز میں پیش رفت ہورہی ہے، زراعت کیلئے پیکج دیا گیا،حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ کو کو 8 فیصد سے نیچے لانا، پرائمری بیلنس کوسرپلس اور سٹاک ایکسچینج کوبہتر بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں

 

مالی ایمرجنسی لگانیکی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وزارت اطلاعات

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزارت اطلاعات و نشریات نے تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی ایمرجنسی لگانیکی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غلط خبروں کا پھیلانا غیرقانونی ہی نہیں غیر اخلاقی بھی ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق غلط خبریں پھیلا کر قوم کی خدمت نہیں کی جا رہی۔بیان میں کہا گیا کہ کابینہ ڈویڑن کے نام سے جاری کردہ مجوزہ خط کا حقیقت سے تعلق نہیں۔


شیئر کریں: