Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت پولیسنگ کے عمل کو مزید موثر بنانے کیلئے خطیر وسائل خر چ کر رہی ہے۔وزیراعلیِ 

Posted on
شیئر کریں:

صوبائی حکومت پولیسنگ کے عمل کو مزید موثر بنانے کیلئے خطیر وسائل خر چ کر رہی ہے۔وزیراعلیِ

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میں امن عامہ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پولیسنگ کے عمل کو مزید موثر بنانے کیلئے خطیر وسائل خر چ کر رہی ہے ، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ملازمین کیلئے الاونسسز کی منظوری دی جاچکی ہے جبکہ دیگر وسائل کی فراہمی کیلئے درکار بجٹ بھی ہنگامی بنیادوں پر فراہم کیاجائے گاکیونکہ امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے ، امن قائم رہے گا تو ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہموار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے کی پولیس، دیگر سیکیورٹی فورسز اور عوام نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں، ہم ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ بابر سلیم سواتی ، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، چیف سیکریٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، انسپکٹر جنرل آف پولیس معظم جاہ انصاری، سیکرٹری داخلہ، سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

 

اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو محکمہ پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی امن کے قیام اور شرپسندی کے تدارک کیلئے جامع اور مو¿ثر حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ سال 2022 کے دوران شدت پسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے میں مو¿ثر انداز میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ مذکورہ عرصہ کے دوران 82 فیصد تھریٹس کو نیوٹرلائز کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے امن و امان ناگزیر ہے اور صوبائی حکومت کے لیے امن و امان کا قیام سب سے مقدم ہے، صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس موقع پر خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں خصوصاً شہدائ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار عوام کے جان و املاک کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات سر انجام دیتے ہیں جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیا امن کا قیام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 

انہوں نے متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کے مابین کوارڈینیشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کے درمیان رابطے کا مو¿ثر نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی طرف سے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ تمام تر فلاحی اور ترقیاتی کاوشیں اسی صورت کارگر ثابت ہو سکتی ہیں جب امن قائم ہو۔ امن کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ انہتا پسندی اور دہشتگردی کا تدارک بنیادی طور پر وفاق کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس معاملے سے منسلک موثر ترین ادارے وفاق کے زیر کنٹرول ہیں مگر موجودہ وفاقی حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ تشویشناک ہے جو ہمارے لئے کئی مسائل کو جنم دیتا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت خود اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں اور صوبے کو مسائل میں دھکیل رہی ہے ۔

 

وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو مالی طور پر غیر مستحکم بنانے کیلئے بھی ہر حربہ استعمال کیا ہے اور صوبے کے جائز حقوق روک رکھے ہیں جو ایک غیر جمہوری طرز عمل ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے غیر منصفانہ رویے اور صوبے کے حقوق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے امن عامہ کی بہتری اور عوام کی فلاح و ترقی کے مجمو عی عمل منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر ہمیں ہمارا حق نہیںملتا تو ہم حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلحہ اور دیگر آلات کیسے خریدےں گے اور صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو کس طرح مکمل کریں گے۔ محمود خان نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکمرانوں کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور خیبرپختونخوا کے حقوق کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے ، یہی اس خطے اور ملک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور اپنے حق کے حصول کے لئے تمام تر آئینی اور قانونی راستے اختیار کریں گے۔


شیئر کریں: