Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ریاست ماں کادوسرا روپ – میری بات;روہیل اکبر

Posted on
شیئر کریں:

ریاست ماں کادوسرا روپ – میری بات;روہیل اکبر

ریاست ہے ماں کادوسرا روپ جہاں رہنے والے سب کے حقوق برابر ہوتے ہیں مگر ہم نے اپنی ریاست کو کیا بنا دیابلکہ اسکا حلیہ ہی بگاڑ دیا اس کے ساتھ و ہی کیا جو آجکل خبروں میں پڑھتے ہیں کہ ایک ناہنجار نے ماں کے گلے پر چھری چلادی ہے اور یہ چھریاں آئے روز چل رہی ہیں کبھی دہشت گردی کی شکل میں کبھی غربت کی شکل میں کبھی ناانصافیوں کی شکل میں اور ابھی تو سال 2022بھی اختتام پذیر ہورہا ہے اور اسی سال کو دیکھ لیں کہ ریاست کے رکھوالوں حکمرانوں نے قوم کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور بدامنی کے تحفے دیے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی اصطبل بنادیا جہاں ہارس ٹریڈنگ اب بھی جاری ہے بولیاں لگانے اور لگوانے والوں کی اکثریت الیکشن کمیشن میں جھوٹے گوشوارے داخل کرنے کے بعد مالی و اخلاقی کرپشن میں ایسے ملوث ہوتے ہیں کہ انہیں ملک کی فکر رہتی ہے نہ ریاست کی اور قوم کی بلکہ حکمرانوں کو اگر کوئی فکر ہوتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ان کے اثاثوں اور کارناموں کی اطلاع قوم تک کیسے پہنچی؟یہ چاہتے ہیں کہ ہم پہلے کی طرح عقل کے اندھے بن کر جیتے رہیں یہ جو مرضی کرتے رہیں اور ہم صرف واہ واہ کے سوا کچھ نہ کریں.

 

رہی بات تعلیم کی وہ ہم نے کاروبار کی شکل میں رکھی ہوئی ہے پڑھے لکھے لوگ مفادات کی خاطرجاہلوں سے بدتر بنے ہوئے ہیں ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی دیکر لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے ایک طرف آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف ہمارے قرض بڑھتے جارہے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم سستی روٹی کو ترس رہے ہیں گندم باہر سے،پیاز باہر سے اور ٹماٹر باہر سے منگوانا پڑتا ہے سرکاری اداروں کا تو حشر نشر ہوچکا ہے قائد اعظم کے پاکستان کو ہم نے خوب برباد کیا ایک دوسرے کو غدار،چور اور ڈ کو کہنے والے اب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جھومرڈال رہے ہیں پاکستان کا مستقبل بڑا روشن تھا مگر لوٹ مار اور مفادات کی پالیسیوں نے ہمیں تاریکی کے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دیا آج ہم نئے سال میں داخل ہورہے ہیں اگر ایک نظر اپنی ریاست پاکستان میں ڈالیں تو ہمیں یوں لگے گا کہ اس کا کل رقبہ جتنا بھی ہے سب پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں ریاست کا پوار نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر اسلام اور جمہوریت دونوں سے ہی محروم ہے ریاست کے جھنڈے میں دو رنگ ہیں سبز رنگ مولویوں کی اکثریت کو ظاہر کرتا ہے اور سفید رنگ اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو ظاہر کرتا ہے

 

ریاست چار باقاعدہ اور ایک بے قاعدہ صوبے پر مشتمل ہے ریاست پاکستان 1947 میں انگریزوں سے آزاد ہوئی مگر انگریزوں کے غلاموں سے تاحال آزاد نہیں ہو سکی ہے اور ان سے آزادی کیلئے کوئی بھی کوشش ابھی تک کامیاب بھی نہیں ہو سکی ہر حکومت نے ریاستی عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کی بنیادی ضروریات کا اسیر بنا کر رکھا ہوا ہے ریاست پاکستان درحقیقت کئی ریاستوں کا ایک مجموعہ ہے جہاں ہر ریاست کے اپنے اپنے قوانین، قاعدے اور ضابطے ہیں اگر ایک ریاست دوسری ریاست کے معاملے میں ٹانگ اڑائے تو ٹانگ توڑ دی جاتی ہے جیسا کہ ریاست ریاست سندھ ہے جہاں پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے ایسے ہی بہت سے مولوی ہیں جنہوں نے اپنی اپنی الگ ریاستیں بنا رکھی ہیں اگر ریاست پاکستان کبھی ان کے معاملات میں مداخلت کی کوشش بھی کرے تو یہ مدارس کے سپاہی لے کر سڑکوں پہ نکل آتے ہیں اور ریاست پاکستان کا سانس بند کر دیتے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ ریاست پاکستان ایٹمی طاقت بھی ہے ریاست کے اندر تمام ادارے بھی الگ ریاستوں کی حیثیت رکھتے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ ریاست پاکستان کے کنڑول میں نہیں ہے اور دور دور تک اس کے کوئی امکانات بھی نہیں ہیں ریاست پاکستان کا سب سے بڑا شعبہ زراعت ہے مگر گندم باہر سے امپورٹ کی جاتی ہے

 

ریاست پاکستان کا دفاع اس قدر مضبوط ہے کہ چھ گنا بڑے ملک انڈیا کو دن میں تارے دکھا سکتا ہے اور کمزور اتنا ہے کہ چار مولوی کہیں نکل آئیں تو قابو نہیں آتے ریاست کے تاجر عوام کو جی بھر کر لوٹتے ہیں مگر ریاست کو ٹیکس دیتے ہوئے انہیں باقاعدہ موت آتی ہے ریاست کی سب سے بڑی صنعت کرپشن ہے جس میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے دوسرے نمبر پر مذہب اور تیسرے نمبر پہ سیاست ہے تعلیم، صحت اور انصاف بھی بڑے کاروباروں میں شمار ہوتے ہیں ریاست کا آئین ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس” ہے اور دستور کے مطابق جنگل کا قانون نافذ ہے ریاست کا معاشی ڈھانچہ ایساہے کہ امیر، امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے.ریاست پاکستان کو چلانے والے سب لوگ اس ریاست سے اتنی محبت رکھتے ہیں کہ سب نے دوسرے ممالک کی شہریت حاصل کر رکھی ہے جیسے ہی اقتدار یا عہدے سے فارغ ہوتے ہیں فوراً اپنے وطنوں کو روانہ ہو جاتے ہیں

 

ریاست میں رشوت لینا اور دینا لازم ہے ورنہ آپ کا معمولی سا کام بھی کبھی نہیں ہوگا کوئی چور اچکا یا بڑا مجرم جتنی مرضی ملک کے ساتھ اپنی مرضی کرلے کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی ریاست میں شخصی حفاظت اور امن و امان صرف سیاسی رہنماؤں اور طاقتور شخصیات کو دستیاب ہے غریب آدمی صرف اللہ کے آسرے پہ زندہ ہے ریاست بڑے مجرموں کو وی آئی پی پروٹوکول دیتی ہے اور چھوٹے مجرموں کو ان کے جرم سے زیادہ سزا دیتی ہے ریاست پاکستان میں انصاف، صحت، تعلیم اور دیگر مراعات لوگوں کو ان کی اوقات کے مطابق دی جاتی ہے پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانی اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں پاکستان میں رہنے والے عام انسان کی عظمت اور ہمت انتہائی قابل تعریف ہے کیونکہ وہ جن حالات،مشکلات اور تکالیف سے اپنی زندگی کی روشن صبح کو تاریکی میں تبدیل ہوتے دیکھ رہا ہے اور پھر بھی خاموش ہے اور اسے اللہ کی رضا سمجھ رہا ہے تو اس جیسا نیک انسان دنیا میں کہاں ہوگاجو مسجد میں جاتے ہوئے جوتی بھی ہمراہ لے جاتا ہے کہ باہر سے چوری نہ ہوجائے اور اگر کوئی جوتی چور پکڑا جائے تو پھر نیکی کی غرض سے اسے دو ہاتھ رسید کرنا بھی اپنا فرض سمجھ لیتا ہے جبکہ انہیں اس حال تک پہنچانے والے بڑے بڑے نوسر بازوں کے ساتھ سیلفیاں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرکے ہم فخر محسوس کرتے ہیں خدا کرے کہ نیا سال ہمیں عقل و ہوش کے ساتھ ایک ایسی ریاست میں داخل کرے جو واقعی ایک ماں کی طرح ہو اور ہم اسی میں اپنی جنت تلاش کریں۔


شیئر کریں: