Chitral Times

Mar 2, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

توانائی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے سالانہ10ارب سے زائد کی آمدن متوقع ہے،نثاراحمد خان

Posted on
شیئر کریں:

توانائی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے سالانہ10ارب سے زائد کی آمدن متوقع ہے،نثاراحمد خان

ملک میں جاری معاشی اتارچڑھاؤاورسکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال قابل تشویش،معاملات کے حل کے لئے لائحہ عمل مرتب
مساجد،سکولوں،بی ایچ یوز کی شمسی توانائی کی منتقلی منصوبوں پر تیزی سے کا م جاری ہے،سیکرٹری توانائی کی زیرصدارت جائزہ اجلاس

پشاور(چترال ٹایمز رپورٹ) سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدخان نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح ہے تاہم ملک میں جاری معاشی معاملات میں اتارچڑھاؤتوانائی منصوبوں کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ثابت ہورہاہے جس کے لئے مربوط حکمت عملی ناگزیرہے۔محکمہ توانائی کا ذیلی ادارہ پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو)صوبے کاایک منافع بخش ادارہ ہے جس نے اب تک پن بجلی کے مختلف منصوبوں کوکامیابی کے ساتھ 9ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرکے اب تک صوبے کو 32ارب روپے سے زائد کی آمدن دی ہے۔پیڈوکے متعدد منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہوچکے ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کوتقریباً 10ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے۔ پیڈوکے پن بجلی اورشمسی توانائی کے منصوبوں کے لئے مشینری کی درآمدگی میں لیٹرآف کریڈٹ LCsکی بندش،ٹیکسزمیں اضافہ سمیت موجودہ سیکورٹی کی غیریقینی صورتحال قابل تشویش ہے۔صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ سنجیدگی سے معاملات اٹھانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرلیا ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوبے میں پیڈوکے جاری توانائی منصوبوں پرہونے والی پیشرفت کے بارے میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرنعیم خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈو کی نگرانی میں اس وقت ہائیڈرو،سولرپاورسمیت ٹرانسمیشن لائن کے 42 توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔پیڈونے اب تک پن بجلی کے8منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں جن سے مجموعی طورپر172میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جس سے صوبے کو سالانہ4ارب روپے سے زائد کی آمدن ہورہی ہے جبکہ6منصوبوں جن میں 84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8 میگاواٹ کروڑہ شانگلہ،10.5 میگاواٹ چپری چارخیل کرم اور6.5میگاواٹ برندوتورغر منصوبوں پرکام تیزی سے جاری ہے جن سے مجموعی طورپر 232.8میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی جس سے صوبے کو سالانہ 10ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوگی۔

 

ان منصوبوں میں سے بیشترمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔اسی طرح 4ہزار400مساجد،8ہزارسکولوں،187بنیادی مراکزصحت کو شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبوں پربھی تیزی سے کام کررہاہے۔تکمیل شدہ شمسی توانائی کے منصوبوں سے صوبے کوبجلی بلوں کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہورہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں بجلی کی نعمت سے محروم علاقوں میں 291منی مائیکروہائیڈل سٹیشنز بھی تعمیر کئے جارہے ہیں جن سے مجموعی طورپر41میگاواٹ سستی بجلی پیداکی جائے گی۔صوبے کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بھی توانائی کے متعدد منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے گئے ہیں جس سے وہاں بجلی کے ترسیلی نظام میں کافی حدتک بہتری آئی ہے۔اجلاس کے آخرمیں سیکرٹری توانائی نے پیڈوکی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا اورکہا کہ توانائی کے بعض منصوبوں میں وفاق کے ساتھ درپیش مسائل کو اعلیٰ سطحی فورمزپرترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا-

 


شیئر کریں: