Chitral Times

Jan 27, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال نرسز فورم کے زیر اہتمام پشاور میں چترال نرسز کنوینشن کا انعقاد

شیئر کریں:

چترال نرسز فورم کے زیر اہتمام پشاور میں چترال نرسز کنوینشن کا انعقاد

پشاور ( نمایندہ چترال ٹایمز ) پشاور آرکاییوز لایبری میں چترال نرسز فورم کے زیر اہتمام پہلا کامیاب چترال نرسز کنوینشن کا انعقاد کیا گیا ، جس میں میں ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن، ممبر صوبائی اسمبلی ومعاون خصوصی وزیر زادہ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبرعمران، ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ تعلیم عبد الاکرم ، ڈپٹی فائنانس سیکرٹری سید ابراہیم شاہ، صدر چترال جرنلسٹ فورم نادر خواجہ ، صدر چترال لائر فورم و لیگل ایڈوائزر شاہد علی خان یفتالی ، صدر تحریک حقوق چترال پیر مختار ، چیرمین ہیلتھ بورڈ پشاور و مردان آفتاب ، سابقہ چیرمین ہیلتھ بورڈ پیار علی ، سینئر جرنلسٹ فیاض احمد ، سینئر جرنلسٹ پاکستان ٹیلی ویژن امجد علی ، پرائڈ آف چترال کے ایڈمن خلیل احمد ، صحافی کریم اللہ ، فضل ودود و دیگر مہمانان گرامی کیساتھ بڑی تعداد میں نرسز اور نرسنگ سٹوڈنٹس نے شرکت کرکے پروگرام کو رونق بخشی۔

chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar wazir zada

چیرپرسن چترال نرسز فورم و پرنسپل الشہامہ کالج آف نرسنگ جفریاد حسین نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سپازنامہ پیش کیا۔پٹرن ان چیف چترال نرسز فورم و پی ایچ ڈی اسکالر حکیم شاہ نے نرسنگ کی تاریخ، نرسز کے خدمات پر روشنی ڈالی اور نرسز کو درپیش چیلنجز کے بارے میں کمیونٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کردار کرنے پر زور دیا اور ساتھ ساتھ نرسز کو اپنے کلچر و روایات کا خیال رکھتے ہوئے مریضوں کو بہترین سہولیات مہیا کرنے اور ایمانداری کیساتھ تمام سٹاف کے ساتھ تعاون کرکے ڈیوٹی سر انجام دینے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسز کا اپنا تشخص ہوتا ہے اور ڈاکٹر کا اپنا، ہم ڈاکٹر کی تشخیص کے بعد اپنا تشخص کرکے مریضوں کا بہترین خیال رکھ سکتے ہیں اور دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے مگر افسوس پاکستان میں نرسز کی کمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔

chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 3

پریزیڈنٹ چترال نرسز فورم ناصر علی شاہ نے فورم کے مقاصد اور ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام معززین سے کردار ادا کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے اندر نرسز چوبیس گھنٹے خدمات مہیا کرتے ہیں چونکہ نرسز کی تعداد انتہائی کم ہونے کی وجہ سے کوالٹی کئیر مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے قوانین کے مطابق ایک نرس دس مریضوں کو اچھا کئیر دے سکتا ہے مگر یہاں ایک نرسز اور 50 سے 60 مریض ہوتے ہیں تو بڑی مشکل سے تجویز کردہ دوائیاں ہی دی جاتی ہے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک نرس ایک وینٹی لیٹر مریض ہوتا ہے مگر یہاں ایک نرس تیں سے چار وینٹی لیٹر مریضوں کو دیکھتا ہے تو تواقعات سے زیادہ کیئر تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ نرسز مشین نہیں ہیں بلکہ وہ بھی انسان ہیں۔ چترال میں گورنمنٹ کی طرف سے نرسنگ کالج وقت کا تقاضا ہے جس پر کردار کی ضرورت ہے۔ پشاور میں نرسنگ ہاسٹل اور سٹاف کے چھٹیوں کا مسئلہ سنگین ہے قوانین پر عمل کرکے سال میں ایک مہینے چھٹی کے بجائے تکلیف دیا جاتا ہے اور منت سماجت پر مجبور کیا جاتا ہے ہسپتالوں سے پوچھنے والا کوئی نہیں، پرائیویٹ ہاسٹل میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ،سیکورٹی نہیں جن پر بھی فوکس کی ضرورت ہے۔

 

ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان اور منسٹر وزیر زادہ نے چترال نرسز فورم کے اقدامات کو چترال کے لئے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے پاکستان کے تمام نرسز کے خدمات کو سراہا اور خراج تحسین پیش کئے اور دونوں نے نرسنگ کالج سمیت دیگر مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 4
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران نے نرسز کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے بعد زخمیوں کو ہسپتال لے جاکر نرسز کی خدمات سے دل خوش ہوتا ہے اور خاص کر لوگ واپس آکر چترالی نرسز کی تعریف کرتے ہیں بے انتہا خوشی ملتی ہے انہوں نے نرسز کی ہر سطح پر ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
ایڈیشنل سیکریٹری عبد الاکرم نے نرسز کو سلام پیش کرتے ہوئے معاشرے میں نرسز کی کردار کو سراہا اور کہا نرسز جیسے خدمات کوئی مہیا نہیں کرتا ان کی خدمات کا عتراف اور ان کی قوت بازو بننا ہم سب پر فرض ہے اور ہم ہر قسم کی خدمت مہیا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

 

پیر مختار صدر تحریک تحفظ حقوق چترال نے بھی نرسز کی کردار کو سراہا اور اعتراف کیا کہ نرسز خاص کر فیملز جن چیلنجز کے باوجود خدمات مہیا کر رہی ہیں وہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے نرسز کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کے ہر ایشو کے حل تک ساتھ دینے کا عزم کیا۔

 

صدر چترال لائر فورم و لیگل ایڈوائزر چترال نرسز فورم شاہد علی خان یفتالی نے کہا کہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایک عظیم پروفیشن سے تعلق رکھنے والے نرسز کا لیگل ایڈوائزر ہوں جو سال بارہ مہینے ،ساتوں دن ،چوبیس گھنٹے صرف اور صرف مریضوں کی بہتری کا سوچتے ہیں اور ان کے لئے دوڑ کر کام کرتے ہیں اپنی فورم کی طرف سے نرسز کا بھر پور ساتھ دینے کا اعادہ کیا۔

chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 63

خلیل احمد ، صحافی و ایگزیکٹیو ممبر چترال نرسز فورم فیاض احمد ، نادر خواجہ صاحب و دیگر مقررین نے نرسز کے کاوشوں کو سراہا اور اپنی خدمات پیش کئے۔۔
آخر میں نرسنگ لیکچرر و ممبر چترال نرسز فورم فریدہ فراز نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کئے۔ آخر میں چترال نرسز فورم کی طرف صحافی و ایگزیکٹیو ممبر چترال نرسز فورم فیاض احمد ،لیگل ایڈوائزر شاہد علی خان یفتالی، نرسنگ آفیسر بی بی طاہرہ، نرسنگ آفیسر سید بی بی اور نرسنگ آفیسر بی بی عصمہ کو ٹوکن آف اپریسیشن اور باقی تمام مہمانوں کو ٹوکن آف ریممبرنس پیش کیا گیا۔۔

 

تحریک تحفظ حقوق چترال کی طرف چترال نرسز فورم کی خدمات پر انہیں شیلڈ پیش کیا گیا شیلڈ اپنے ہاتھوں سے صدر تحریک تحفظ حقوق پیر مختار نے صدر چترال نرسز فورم پاکستان ناصر علی کو پیش کئے۔ شیلڈ ریسو کرنے کے بعد صدر سی این ایف نے تحریک تحفظ حقوق چترال اور پیر مختار کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
یادرہے کہ چترال نرسز فورم جو 2019 میں چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز کو درپیش سوشل چیلنجز اور معاشرے کے اندر سب سے زیادہ حصہ ڈالنے کے باوجود خدمات کو قبول نہ کرنے پر بنی تھی چترال نرسز فورم ایک غیر سیاسی، خدمت مہیا کرنے پر بنی فورم ہے جس کا مقصد پروفیشنلز اور نرسنگ سٹوڈنٹس کو درپیش چیلنجز میں کردار اور مریضوں کی خدمات میں پیش پیش ہونا ہے

اس فورم کے زریعے چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز نے اب تک دس سے زائد مریضوں کی چندہ کشی کے زریعے فائننشل سپورٹ۔ بریپ،کھوژ اور پاور کے سیلاب متاثرین کی چندہ کرکے مالی معاونت اور گورنمنٹ نرسنگ کالجز میں کوٹہ سسٹم کو اوپن رکھوانے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

7chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 7 chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 6 chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 5

chitraltimes chitral nurses forum convention peshawar 1


شیئر کریں: