Chitral Times

Feb 5, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہردلعزیزشخصیت چئیرمین سرفراز خان – تحریر : سردار علی  سردارؔ

Posted on
شیئر کریں:

ہردلعزیزشخصیت چئیرمین سرفراز خان – تحریر : سردار علی  سردارؔ

چئیرمین سرفراز خان  1935 ء میں پرواک بالا  کے یخشئیے قبیلے کے ایک معزز گھرانے  میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی اشرف خان اپنے زمانے میں بہت ہی جفاکش اور اثرو رسوخ   شخصیت کے مالک انسان تھے جنہوں نے اپنے بیٹے سرفراز خان کو ابتدائی تعلیم کے لئے  1941 ء میں سنوغر کے پرائمری  اسکول میں داخل کیا (  جہاں ہرچین کے سادات خاندان سے تعلق رکھنے والے عظیم شخصیت سید مرحمت شاہ جو اس ا سکول کے استادتھے)  کی زیرِ سائیہ اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔1944 ء کو   آپ کے والد  نے انہیں گورنمنٹ مڈل ا سکول چترال میں داخل کیا جہاں موصوف کی بنیادی  تعلیم  کو مذید بہتر  بنانے کے لئے  پہلی جماعت میں ہی داخل کرایا گیا اور اسے چترال  کے شاہی قلعے کے اندر رہنے کے لئے  رہائش کا  بندوبست کیا  گیا  کیونکہ آپ کے والد صوبیدار  اشرف خان  شاہی قلعے کے توشہ خانے کے وزیر خوراک تھے اور وہ مہترِ چترال  ناصر الملک کے خاص مقربین میں سے تھے۔ پروفیسر اسرارالدین نے اپنی کتاب  ” ہز ہائنس  سر ناصر الملک  ” میں رقمطراز ہیں  ”  کہ آپ محمد ناصر الملک کے گورنری  کے زمانے سے اُن کے خاص اہلکاروں میں شامل تھے۔کچھ عرصہ آپ نے مستوج کے چارویلی پر بھی کام کیا تھا ۔ پھر اُن کو باڈی گارڈ کے صوبیدار کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ اپنے حد درجہ ایمانداری اور وفاداری کی وجہ سے وہ ہز ہاینس کے بااعتماد اہلکاروں میں شامل ہوتا تھا ۔ بادشاہ بننے کے بعد اُن کو چترال کے شاہی گودام کا انچارچ بنایا گیا تھا اور ہز ہاینس محمد مظفرالملک کے زمانے تک اس عہدے سے منسلک رہے اور خوش اسلوبی نبھاتے رہے”

 

والد محترم صوبیدار اشرف خان کی سرپرستی میں آپ کو   نہ صرف  شاہی قلعے میں رہائیش کا  زرین موقع میسر آیا  بلکہ شہزادہ محی الدین کی صحبت بھی اسے حاصل ہوئی کیونکہ ان دنوں شہزادہ محی الدین بھی شاہی قلعے میں رہائیش پزیر تھےجن کے ساتھ   موصوف کی اکثر  نشت و برخاست  ہوتی تھی  اور یہ  نشت آخر کار   دوستی میں بدل گئی ۔ گورنمنٹ مڈل اسکول چترال میں آپ کو نہ صرف اچھے ، قابل اور پیشہ ور اساتذہ ملے بلکہ  چترال سرزمین کے مشہورو معروف شخصیات جیسے شہزادہ محی الدین ،غلام عمر، محمد دولہ، غلام ابرار، محبوب دستگیر، گل نواز خاکیاور عبدالوسیع جیسے کلاس فیلوز  میسر آئے  جن کے ساتھ نویں جماعت تک زندگی کے حسین لمحات خوش اسلوبی ، ہنسی مزاح ، موج   اور مستی کے ساتھ  گزر گئے   ۔ اور  ایسا لگا کہ اٹھ سال کی یہ  طویل  رفاقت    اور دوستی  ایک خواب سے کچھ کم نہ تھا۔جب آپ نویں جماعت میںزیرِ تعلیم تھے اور عفوانِ  شباب کے دہلیز میں قدم رکھنے کے قریب تھے  تو  گاؤں کے کسی دوشیزہ کے زلفوں کے  اسیر ہوئے  او ر پڑھائی کی طرف  آپ  کا دھیان کم ہوتا گیا  ۔ آپ کے والد گرامی  جو اپنے فرزندِ ارجمند کے لئے  اچھی زندگی کے خواب دیکھ رہے تھے   بیٹے کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے  اور فی الفور اس کی شادی کرادی  جو  آپ کی تعلیم کی راہ میں ہمیشہ  کے لئے  رکاوٹ بنی۔ آپ اپنے اسکول کے زمانے  میں  فٹ بال کے بہترین کھلاڑی تھے  اس وجہ سے آپ کو اسکول کی طرف سےپشاور  میں فٹ بال کھیلنے کے لئے منتخب کیا گیا جہاں انہوں نے  پندرہ دن تک  بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا  اور بہت سارے انعام  و اکرام کے ساتھ ساتھ  شائقین فٹ بال کی طرف سے داد بھی  حاصل کئے۔

chitraltimes chairman sarfaraz parwak mastuj and shahzada mohiuddin

 

پشاور شہر کی آب وہوا اور ڈھیر ساری انعامات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے چترال  واپس آنے  کا گوارا نہیں کیا  اور اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کراچی چلے گئے جہاںFederation of Pakistan Chambers and Industries  کے محکمے میں ماہانہ دو سو روپے کے عوض  ملازمت شروع کی۔  یہ  تنخواہ اپنے گھر کو چلانے کے ساتھ ساتھ  خود اپنی  ذاتی اخراجات کے لئے بھی  کافی ہوتا تھا ۔1964 ء میں صحت کی خرابی کی بنا پر ملازمت چھوڑ دی اور گھر واپس آگئے اور ایک سال گھر میں  قیام  کرنے کے بعد واپس کراچی چلے گئے  اور  سابقہ  محکمے ہی میں اپنی ملازمت   دوبار   ا   شروع کی ۔ 1965 ء میں پاک بھارت  جنگ چھڑ گئی اور  کراچی کے اندر حالات  بھی قدرے خراب   ہوگئے   اور دوسری طرف  موصوف کی  اپنی صحت بھی خراب ہوگئی جس کے نتیجے میں  کراچی چھوڑنا پڑا   اور گھر آنے کے لئے رخت سفر باندھ لئے  لیکن پشاور آکر باڑا مارکیٹ  کے  ایک دوکان میں ماہانہ ایک سو پچیس روپے  کے عوض نوکری  شروع کی جبکہ روزانہ خرچہ اس سے الگ تھا۔اس ملازمت سے اسے کافی سکون بھی ملا    کیونکہ گھر کے تمام  اخراجات  نہ صرف  پو رےہوئے   بلکہ   پیسے بھی بچت ہونے لگے ۔

 

1971 میں پاک  بھارت جنگ دوبارہ شروع  ہوگئی  جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش پاکستان سے یک لخت ہوا  ۔ ملک کے اندر بے چینی کی فضا پیدا ہونے لگی۔موصوف ایک عشرے سے زیادہ    پشاور  میں  کام کرنے کے بعد   ہمیشہ کے لئے گھر  کے معاملات میں حصہ لینے  کا ارادہ کیا اور گھریلو   ذمہ داریوں  کو نبھانے کے ساتھ  ساتھ سیاست کے میدان میں بھی  کود پڑے   اور پاکستان مسلم لیگ  میں شمولیت اختیار کی ۔1984ء میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے  جس میں پرواک یوسی کی طرف سے انتخاب لڑا اور بھاری اکثریت کے ساتھ مستوج یوسی کے چئیرمین منتخب  ہوگئے۔اس دوران شہزادہ محی الدین جو ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے چئیرمین منتخب ہوگئے تھے کی مدد اور تعاون سے پہلی بار سنوغر اور پرواک کے لئے جیب ایبل پل تعمیر کیا جو تیرہ  لاکھ پینسٹھ ہزار میں  مکمل ہوا۔ یہ پل سنوغر اور پرواک کو ملانے کا واحد زریعہ تھا جوکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس سہولت سے محروم تھے۔اسطرح نصرگول کے لئے تاؤ زوم سے  نصرگول کے آخری  کونے   تک چالیس ہزار  روپے کی لاگت سے   جیب ایبل سڑک تعمیر کی  جس سے نصر گول کے لوگوں کے لئے آمدو رفت کا معاملہ آسان ہوگیا  ۔پرواک بالا میں پرائمری اسکول تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ پرواک کے درمیان آمدورفت کے لئے  چھوٹی چھوٹی سڑکیں بھی  تعمیر   کئیں

 

۔اے کے ار ایس پی  کے تعاون سے پرواک کے لئے جب ہائیڈل پاور پراجیکٹ کا آغاز ہوا تو موصوف  پرواک سوسائیٹی کی طرف سے منیجر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس اہم پرا  جیکٹ کو کامیاب بنانے میں  فعال  کردار ادا کیا ۔ اسطرح پرواک بالا کے لئے معراج خان  کی رہنمائی میں ریشٹون پرا  جیکٹ کو کامیاب بنایا  جس سے پرواک کے ایک سو بیس گھرانے  اپریل ،مئی اور جون  کے مہینوں میں پانی کی نعمت  سے  فیضیاب  ہوگئے  اور یہ پرا  جیکٹ اب بھی اپنی   وسعت کے ساتھ  قائم ہے اور عوام اس سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔1998 ء میں پرواک کے اندر سماجی مسائل کے حل کے لئے  جرگے کا ممبر بنا جس کے صدر اسسٹنٹ کمشنر ہوا کرتے تھے ۔ اسطرح  2000 ء سے لیکر 2001 ء تک  امن کمیٹی  کے  ممبر بنا ئے گئے  جس  کا سربراہ ڈسٹرٹ پولیس افسر ہوا کرتے تھے جس کی سربراہی میں پرواک اور سنوغر  کے اندر امن و آمان کے لئے  حکومت کا ساتھ دیا  اور باہمی تعاون کے لئے کوشش جاری رکھی ۔

 

سیاست کے میدان سے لیکر سماجی خدمات کی انجام دہی تک زندگی کے مختلف  نشیب  و فراز سے نبرد آزما ہوکر  تلخ و شرین تجربات سے گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اہم شخصیات کے ساتھ بھی  تعلقات استوار  کئے جن میں شہزادہ محی الدین جو  اس کے کلاس فیلو بھی تھے ، ظفر احمد ڈپٹی کمشنر چترال ، شہزادہ شہاب الدین، قاضی حضرت الدین ، کرنل خوشوخت  الملک ، برہان الدین اور شہزادہ عزیز الرحمن  وغیرہ  قابل زکر ہیں۔2016ء تک  سیاست کے میدان میں سرگرم رہ کر مسلم لیگ ن کی حمایت کرتے رہے اور اب بھی اسی پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں جس کی وجہ سے شہزادہ افتخار الدین اب بھی اپنے والد بزرگوار کی نصیحت کے مطابق موصوف سے ملنے گاہے بگاہے  اس کے گھر  آتے رہتے  ہیں  اور اس کی بہت زیادہ  عزت و احترام  کرتے  ہیں۔ موصوف کی عمر  اب ستاسی سال ہوگئی ہے ۔سیاسی اور سماجی معاملات میں  حصہ لینا مشکل ہوگیا ہے اور  زیادہ تر وقت گوشہ ء تنہائی میں زندگی بسر کرتے ہیں لیکن موصوف کے جذبات اور احساسات  اب بھی کم نہیں ہیں۔موصوف مطالعے کا بہت شوق رکھتے ہیں ۔دینی  اور تاریخی کتابیں آپ کو بہت پسند ہیں خصوصاََ تاریخِ چترال کے حوالے سے آپ کو کافی معلومات حاصل ہیں۔موصوف اپنی زندگی میں دو شادیاں کی ہیں پہلی بیوی سے ایک بیٹا  اور ایک بیٹی ہیں۔ بیٹا بچپن ہیں میں وفات پاچکے  تھے جبکہ بیٹی اب بھی حیات ہیں جس کو اپنے   بڑے بھائی مشرف خان کے بیٹے  آمان اللہ خان کی نکاح میں دی ہے  جس کے بطن سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا  ہیں۔ اسطرح دوسری  بیوی سے کوئی اولاد نہیں لیکن یہ خاتون ایک اچھی ماں کی طرح اس کے بچوں کی پرورش  کرنے میں کوئی کسر  باقی نہیں چھوڑتی ۔  اللہ کاکرم  اور نوازش ہے کہ اسکی تمام اولاد  شب وروز موصوف کی خدمت کے لئے  ہمہ تن گوش ہیں اور کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔

 

مختصر یہ کہ موصوف اب بھی صحت مند ہیں اور      ہر وقت  ہشاش بشاش  نظر آتے ہیں  اور گھر آئے ہوئے مہمانوں سے اب بھی سیاسی اور سماجی معاملات پر سیر حاصل گفتگو کرتے  ہوئے تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے ۔ موصوف کے پاسماضی کے حالات و واقعات کا  ایک انبوہ  زخیرہ موجودہے جسے وہ  تشنگانِ علم کی ضیا پاشی میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔موصوف سے اُن کی ابتدائی  زندگی کے متعلق جب پوچھا گیا تو موصوف نے   بتایا کہ میں اپنے والدِ محترم کی شفقت اور بے پناہ محبت کے سائیے میں نوجوان ہوا ۔میرے لئے ہر قسم کے سہولیات مہیا کئے گئے   جوکہ اس زمانے میں ہر کسی کو میسر نہیں تھیں ۔لیکن افسوس  کہ ان تمام    آسائیشوں  کے باوجود میں  اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی  جس کا  مجھے آج  پل پل   احساس ہے مگر اب  پچھتائے کیا ہوت  جب  چڑیاں جھگ گئیں کھیت۔    کاش میں  وقت کی قدر کرتا  اور محنت کرکے  اپنی پڑھائی جاری رکھتا  تو آج ایک  تعلیم یافتہ شخصیت کے روپ میں  کسی محکمے کا اعلیٰ افیسر ہوتا  ہوا نظر آتا ۔موصوف تعلیم سے دور رہ کر بھی بہت سی صلاحیتوں  اور خصوصیات کے مالک انسان  ہیں۔وہ بہت ہی خوبصورت گفتگو کرتے ہیں  اور بڑی بڑی  محافل میں اپنی اچھی گفتگو  اور شرین گفتار کی وجہ سے لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں۔سیاست کا میدان ہو یا سماجی معاملات  وہ ہرشعبہ زندگی میں اپنا لوہا  منواچکے ہیں۔وہ ایک اچھے انسان ہیں اور ہر کسی کے لئے اپنے دل میں درد رکھتے ہیں۔ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کے لئے محبت اور اچھے خیالات رکھتے ہیں ۔یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں اس کا بڑا احترام اور عزت ہے اور لوگ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

 

موصوف آج کل کے  نوجوانوں  کو یہ پیغام دیتے   ہیں کہ کامیابی کے حصول کے لئے محنت اور تکالیف برداشت کرنا  زندگی کا لازمی حصہ  ہے جس کے بغیر   مقصد کا حصول ناممکن ہے ۔مشقت اور تکالیف  سے  انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں نکھر کر  ایک پختہ انسان بنانے میں اہم  کردار ادا کرتی ہیں۔عیاشی، سستی اور لاپرواہی  انسان کی  ترقی کی راہ میں رکاوٹیں بنتی ہیں۔


شیئر کریں: