Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کی وفد کا گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے ملاقات، چترال کا دورہ کرنے کی دعوت

شیئر کریں:

پی ایم ایل  ویمن ونگ ملاکنڈ ڈویژن کی صدر بی بی جان کی قیادت میں چترال کی وفد کا گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات، چترال کا دورہ کرنے کی دعوت

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی سے گورنر ہاوس پشاور میں ویمن ونگ پاکستان مسلم لیگ ن ملاکنڈ ڈویژن کے صدر بی بی جان کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی چترال سے آئے ہویے 14 رکنی وفد نے ملاقات کی ۔
جن میں صوبائی نائب صدر اے این پی خدیجہ بی بی، ممبر صوبائی کونسل سید عباس علی شاہ، سوشل ایکٹیوسٹ عبدالمجید قریشی، عنایت اللہ اسیر اور دیگر عمایدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔وفد نے گورنر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور چترال کے علاقائی مسائل سے انھیں اگاہ کیا۔

گورنر نے آئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، گورنر ہاوس آنے پر شکریہ ادا کیا اور انکے مسائل کو جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے چترال کے مسایل خصوصا سڑکوں پر کام کی بندش کے حوالے سے گورنر کو گوش گزار کی، اور گورنر کو چترال کا دورہ کرنے کی درخواست کی۔ جس کو انھوں نے قبول کرتے ہویے بہت جلد چترال خصوصا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے اور انکی داد رسی کا بھی وعدہ کیا۔

 

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالہ دستی چاہتا ہوں، قبائلی عوام اور مشران سے بہت توقعات ہیں، قبائل کے جرگہ کی روایت کو دل سے تسلیم کرتا ہوں، پوری امید ہے کہ تمام تر معاملات میں اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے تحفظات کو پیش کرنے میں پر امن جدوجہد کی جائیگی، بہت جلد چترال کا دورہ کرونگا اور سیلاب زدگان کی امانت مالی امداد کی شکل میں ان کے حوالے کرونگا، وزیراعظم ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا اور ضم قبائلی اضلاع کے لیے خصوصی نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان سے ملاقات میں تمام تر مسائل پر بات کرونگا اور تجاویز و سفارشات ان کے سامنے رکھونگا۔
گورنر سے مولانا رحیم اللہ کی سربراہی میں مٹہ سوات، قاری یوسف کی سربراہی میں بٹگرام، ناصر محمود کی قیادت میں مانسہرہ، حاجی نیاز محمد کی قیادت میں ضلع بنوں، دیر کے وفود نے ملاقات کی جبکہ قبائلی مشران اور ملکان کی قیادت میں گرینڈ قبائل جرگہ نے بھی ملاقات کی۔ قبائلی وفود نے گورنر کو روائتی کلہ اور چادر پہنائی۔ چترال کے وفد نے بھی گورنر حاجی غلام علی سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے چترال کا روائتی چغہ اور چترالی ٹوپی پہنائی۔ گرینڈ قبائلی جرگہ نے قبائلی انضمام کے بعد ضم اضلاع میں درپیش مسائل کا تفصیلی ذکر کیا اور گورنر کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے خدشات سامنے رکھے۔ گرینڈ قبائل جرگہ اور دیگر قبائلی وفود سے بات کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ کے جرگہ کی شکل میں بات چیت کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ انہیں جرگہ کی یہ روایت دل سے اچھی لگتی ہے کہ جس میں اکٹھے بیٹھ کر مسائل پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے پر امن حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی جاتی ہیں جو کہ پختون روایات کا خاصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے اس ملک میں انتشار اور نارکی کے مزموم عزائم رکھتے ہیں، لیکن ہمارے قبائل نے ہمیشہ سے ایسے عناصر کے ان مزموم عزائم کو مٹی میں ملایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انضمام کے حوالے سے بھی انہیں پوری توقع ہے کہ تحفظات رکھنے والے قبائل اپنا موقف پر امن طریقے سے اور جرگہ کی شکل میں آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے آگے لے کر چلیں گے کیونکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بالہ دستی کو قائم رکھنے والے حقیقی معنوں میں خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ہر وقت یہی کوشش ہے کہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی فضا قائم رہے اور وہ ترقی کریں تاکہ سالوں کی محرومیوں کا ازالہ یقینی بنایا جاسکے۔ گورنر کاکہنا تھا کہ قبائل کی قربانیاں اور ان کے احسان یہ ملک کبھی بھی نہیں بھول سکتا اس لیے میرا مشورہ یہی ہوگا کہ ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ سازشی عناصر کو منہ کی کھانی پڑے اور ہم مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی جانب پیش قدمی کرتے رہیں۔
گورنر کی جانب سے ان خیالات کے بعد تمام قبائلی وفود اور ان کے مشران نے نہ صرف گورنر کا شکریہ ادا کیا بلکہ انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے زمین پر بیٹھ کر ان کے قبائلی روایات کو اہمیت دی اور احترام کیا جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پر امن رہتے ہوئے گورنر کے شانہ بہ شانہ مسائل کے حل کے لیے ساتھ چلیں گے۔ قبائل مشران نے گورنر ہاوس میں گرم جوشی سے خوش آمدید کہنے پر گورنر کو عوامی گورنر کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ ایک طویل عرصہ بعد اس طرح کھلے دل سے گورنر ہاوس میں ان کا استقبال کیا گیا اور ان کی مشکلات و سفارشات کو سنا گیا جس پر انہیں تسلی ہوئی۔ گورنر سے ملاقات میں چترال کے وفد نے چترال میں کالج یونیورسٹیز اور دیگر مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا۔
چترال وفد کو گورنر نے یقین دلایا کہ چترال سے انکا گہرا تعلق ہے اور وہ وہاں کے لوگوں کا احترام دل میں رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد چترال کا دورہ بھی کرینگے اور سیلاب زدگان کے لیے جس مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا وہ بھی حقداروں کے حوالے کرینگے۔ گورنر نے کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل اور اس ملک کی کامیابی کے لیے تمام تر اختلافات کو بھلا کر مثبت سوچ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اب اس ملک میں نفرتوں اور شدت پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، یہ ملک ترقی کا حقدار ہے اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پورے اخلاص کے ساتھ جدوجہد کریں اور ایک دوسرے کا سہارہ بنیں کیونکہ یہی درس ہمیں ہمارہ دین اسلام اور سنت نبوی ﷺ بھی دیتے ہیں۔

chitraltimes chitrali delegation met governor kp haji ghulam ali led by bb jan2

chitraltimes chitrali delegation met governor kp haji ghulam ali led by bb jan6 chitraltimes chitrali delegation met governor kp haji ghulam ali led by bb jan4


شیئر کریں: