Chitral Times

Jan 27, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کن شرائط پر ممکن ؟ – پروفیسرعبدالشکورشاہ 

Posted on
شیئر کریں:

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کن شرائط پر ممکن ؟ – پروفیسرعبدالشکورشاہ

ہمیں کبھی بھی خوف کی وجہ سے مذاکرات نہیں کرنے چاہیے اور نہ ہی مذاکرات سے خوفزدہ ہونا چاہیے، جے ایف کینڈی۔ ریاست کی جانب سے کلعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذکرات نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ اگرچہ ریاست کا ریاست مخالف گروہوں سے بات چیت کرنے کا یہ پہلا موقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی بہت سارے گروہوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔مگر حکومت نے نہ تو متذکرہ بالا کلعدم تنظیم کے ساتھ ہونے والے ماضی کے مذاکرات سے سبق سیکھا اور نہ ہی حالیہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے علاقوں کے عوامی احتجاج پر کان دھرے۔آج سے لگ بھگ آٹھ سال پہلے بھی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیے گئے تھے۔ اے این پی اور جے یو آئی کی جانب سے دو اے پی سیز کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں سے ٹی ٹی پی نے اول الذکر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جبکہ ثانی الذکر کو تسلیم کیا تھا۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مفاہمتی منصوبہ بندی کی قلت اور اسٹیبلیشمنٹ کی عدم آمادگی کے باعث مذاکرات کا سلسلہ سردی مہری کا شکارہو گیا۔

 

مسٹر خان کی جنگ کے بجائے مذاکرات کے زریعے حل کی منطق کافی مقبولیت کی حامل تھی۔ سمارٹ خان نے امریکہ کو بھی افغانستان کے حوالے سے یہی مشورہ دیا تھا۔تصادم سے بچنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے مذکرات بہترین راستہ ہیں۔ ریاست مخالف گروہوں سے مذکرات کر کے انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش قابل ستائش ہے مگر ہمیں اتنی دانشمندی کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہیے کہیں مذاکرات کو دوبارہ سے منظم ہونے اور ہماری کمزوریوں کو چانچنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال تو نہیں کیا جارہا۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والے ماضی کے نمایاں معاہدوں میں شکئی امن معاہدہ 2004،ساروگہا امن معاہدہ2005، میراں شاہ امن معاہدہ2006اور سوات امن معاہدہ2009قابل ذکر ہیں۔ سوات امن معاہدہ کے علاوہ تمام معاہدے سول انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے۔ سوات معاہدے میں اے این پی نے مولانا صوفی محمد کے زریعے فوجی قیادت کی سرپرستی میں کیا گیا۔ اگر ماضی کے امن معاہدوں کا جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے ان معاہدوں میں حکومت کی پوزیشن کافی کمزور رہی ہے یہی وجہ ہے ٹی ٹی پی نے ایک بار پھر مذاکرات کا جال بچھایا اور حکومت اس جال میں کود پڑی جس کے نتیجے میں بنوں اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی نے جنم لیا۔ سی ٹی ڈی کی عمارت پر قبضے سے ٹی ٹی پی عسکری اداروں کو نہ صرف ایک پیغام دیا ہے بلکہ تربیت اور سہولیات کی عدم فراہمی کی کلی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔

 

اس حقیقت کے باوجود کہ ماضی کے معاہدوں سے پاکستان کے بجائے طالبان کو فائدہ ہوا اور وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو کر حملہ آور ہوئے حکومت کس مجبوری کے تحت ایک بار پھر مذاکرات کرنے پر مجبور ہوگئ۔مذاکرات کی آڑ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی سے ہماری ایجنسیاں بے خبر رہی جبکہ ماضی میں کئ مثالیں موجود ہیں جب مذاکرات کی آڑ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی گئ۔ریاست شمالی علاقہ جات کو ٹی ٹی پی سے پاک کرنے اورانہیں غیر مسلح کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ ماضی میں شریعت کا نفاذ اور امریکی جنگ سے علیحدگی ٹی ٹی پی کے دوبنیادی مطالبات تھے۔ ماضی میں ٹی ٹی پی مختلف سیاسی پارٹیوں اور شخصیات کو بھی ضامن کے طور پر نامزد کرتی رہی ہے۔اب امارت قائم ہو چکی ہے اور طالبان کابل میں مقتدر ہیں۔ اس لحاظ سے حکومت نے شائد یہ فرض کر لیا کہ طالبان کی شرائط بھی یقینا ماضی کی نسبت مختلف ہوں گی۔ لیکن ٹی ٹی پی نے روایت سے ہٹ کر مذاکرات کی طرف قدم بڑھانے کے بجائےماضی کی طرح اسے ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا۔ ٹی ٹی پی کے چند ممکنہ مطالبات میں ٹی ٹی پی قیادت اور ممبران کی رہائی، شریعت کا نفاذ، شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں سے فوج کا انخلاء وغیر ہ شامل ہوسکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی ماضی میں امن معاہدوں کی آڑ میں دوبارہ منظم اور متحدہو کر حملہ آور ہوتی رہی ہے اور اس بار بھی وہی ہوا مگر ہمارے ادارے کب ہوش کے ناخن لیں گے۔ ماضی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے بجائے فوجی حل ہی سود مندثابت ہوا تھا اورحالیہ واقعات بھی طاقت کے استعمال کی تائید کرتے ہیں۔

 

سانپ لاٹھی سے مارا جاتا اسے سمجھایا نہیں جاتا۔ دراصل ٹی ٹی پی میں بھی کئی دھڑے ہیں، مذاکرات کی صورت میں ہمیں یا تو ان سب دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے یا پھر مرکزی دھڑے کو یہ ذمہ داری لینی ہو گی کہ وہ باقی ماندہ چھوٹے دھڑوں اورگروہوں کو معاہدہ پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری لے بصورت دیگر یہ مذاکرات قومی مفادات کے ضامن نہیں ہو سکتے۔ ایک سوال یہ بھی ہے ہزاروں سولین،افواج پاکستان کے نوجوانوں،اعلی افسران اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو کیا ہم پس پشت ڈال دیں گے؟دوسری وجہ یہ بھی ہے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرنے کی صورت میں دیگر متحارب اور ریاست مخالف گروہوں کو یہ پیغام ملے گا کے وہ بھی اپنے آپ کو کلعدم کے داغ سے پاک کرسکتے ہیں۔ اس طرح مذاکرات کی آڑ میں یا تو دیگر گروہ ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے متحد ہو جائیں گے یا وہ اسے ثبوت بنا کر اپنے اوپر لگائی گئی پابندیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی تگ و دو کریں گے۔اگر دیگر گروہ ٹی ٹی پی کی برتری تسلیم کرتے ہوئے یہ مان لیتے ہیں کے ٹی ٹی پی کے پاس حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کی طاقت ہے تو دیگر گروہ اس کے ساتھ ملکر مستقبل میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ مذاکرات کے زریعے ٹی ٹی پی ملک میں موجود اپنے حمایتیوں کی بھر پور حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیا ب ہو جائے گی اور سلیپنگ سیلز دوبارہ متحرک ہوجائیں گے۔

 

دیگر کلعدم تنظیمیں ریلیف لینے عدالت پہنچ جائیں گی۔ فی الحال تو ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے کی امید پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ قبائلی دشمنی کی روایات ہیں۔ ٹی ٹی پی نے اپنے کنڑول والے عرصے میں بہت سارے قبائلی سرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اگر وہ غیر مسلح ہوتے ہیں تو انہیں اچھی طرح معلوم ہے قبائلی ان سے انتقام لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سوات امن معاہدہ کے بعد ٹی ٹی پی کے آپریشنل کمانڈر ابن امین نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا اور انہی تحفظات کے پیش نظروہ غیر مسلح نہیں ہوا تھا۔یوں ٹی ٹی پی شائد غیر مسلح ہونے پر کسی صورت راضی نہ ہو۔ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات سے پاکستان کو افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مدد ضرور ملے گی کیونکہ مذاکرات کے لیے رابطے بھی افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی قیادت کر رہی ہے۔ سال 2020میں حقانی گروپ کی جانب سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھاجو نتیجہ خیز ثابت ہوئے بغیر ہی ختم ہو گیا۔ یہ بھی دعوی کیا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی نے نہ صرف مذاکرات کے لیے اپنے 10ارکان کے ناموں کی فہرست پیش کر دی تھی بلکہ اعتماد کے لیے افغانستان سے اپنی قیادت کے کچھ ارکان کو بھی شمالی علاقہ جات میں واپس لانے میں کامیاب ہوئ ۔

 

ٹی ٹی پی کی جانب سے ممکنہ مطالبات میں پاکستان کے خلاف جنگ ختم کرنے کے بدلے قیدیوں کی رہائی، قبائلی علاقوں سے فوج کا انخلاء اور وہاں پر شریعت کا نفاذ وغیرہ جیسے مطالبات شامل ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے سال 2009میں امن معاہدے کے تحت نفاذ شریعت کی اجازت دی گئی تھی مگر ٹی ٹی پی کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے اسے ختم کر تے ہوئے فوجی آپریشن کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ممکنہ مطالبات میں پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کو ختم کرنا، پاکستان کے آئین کے تحت چلنا، شہدا ء اور زخمیوں کے لیے معاوضہ ادار کرنا، غیر مسلح ہونا، اسلحہ پاکستان کے حوالے کرنا اور مذاکرات پر ہونے والے اخراجات کی ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔ اگر دونوں اطراف کے ممکنہ مطالبات کا بغورجائزہ لیا جائے تو مذاکرات کسی منطقی انجام تک پہنچتے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر ماضی قریب کی اقوام متحدہ کی رپورٹ اورپاکستانی وزیر دفاع کے بیانات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہو تا ہے کوئی تیسرا فریق دونوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی عوام بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات پر منقسم ہے۔ اپوزیشن حکومت پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لائے بغیر کلعدم تنظیم کو این آر او دے رہی ہے۔ ریاست اور تحریک طالبان دونوں اپنے لیے بہترین موقعہ کی تلاش میں ہیں جو بہتر کھیلے گا وہ زیادہ فائدے میں رہے گا۔ مگر اسلام آباد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے ماضی میں مذاکرات نے ٹی ٹی پی کو مضبوط اور متحد کر کے زیادہ تقویت دی اور کا حل فوجی آپریشن ہی نکالا گیا تھا۔


شیئر کریں: